تلنگانہ کی خبریں

کروڑہا روپئے کی وقف جائیدادیں خطرہ میں ، دستاویزات چوہے تباہ کررہے ہیں

وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن میں چوہے جس انداز میں ریکارڈ کو تباہ کررہے ہیں اس بات سے وقف بورڈ کے ذمہ دار بالخصوص عہدیدار اور ملازمین اچھی طرح سے واقف ہیں لیکن معاملہ میں مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ کس جائیداد کے ریکارڈ کو چوہوں نے کھایا ہے اور کونسی جائیداد کو چوہوں کی غذاء بننے کے لئے چھوڑاجانا چاہئے ۔

ریکارڈ سیکشن بند رکھنے سے بھی اندیشے لاحق ، تحریری احکام نہ ہونے کے باوجود سیکشن مہر بند رکھا گیا

حیدرآباد۔(محمد مبشرالدین خرم) سلطنت آصفیہ کے تختہ حساب میں جب ایک روڈ رولر کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہواتو اس کی تحقیق کے دوران جس علاقہ میں روڈ رولر روانہ کیا گیا تھا اس علاقہ کے ذمہ داروں نے تحقیقی رپورٹ میں یہ تحریر کیا تھا کہ اس روڈ رولر کو ’’دیمک‘‘ نے کھا لیا ہے۔ یہ واقعہ مشہور ہے لیکن موجودہ دور حکومت میں ’’دیمک‘‘ کی جگہ چوہے لینے جارہے ہیں اور روڈ رولر کی جگہ کروڑہا روپئے مالیت کی جائیدادیں ہیں۔اگر مستقبل میں کسی اوقافی جائیداد کاریکارڈ وقف بورڈ سے طلب کیاجاتا ہے تو ایسی صورت میں ریکارڈ طلب کرنے والوں کو وہی جواب ملے گا جو سلطنت آصفیہ کے خازن کو تحریر کیا گیا تھا لیکن اس جواب میں روڈ رولر کی جگہ اوقافی جائیداد ہوگی اور دیمک کی جگہ چوہے ہوں گے ۔

حکومت تلنگانہ کی ہدایت پر مہر بند کئے گئے وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن اور جعلی این او سی معاملہ میں گرفتار کئے گئے عہدیدار سلطان محی الدین کے کمرہ کو مہر بند رکھے جانے کے نتیجہ میں ریاست تلنگانہ کی کروڑہا روپئے کی جائیدادیں خطرہ میں پڑچکی ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کے احکامات پر 2017 میں مہربند کئے گئے ریکارڈ سیکشن میں اب چوہے اس ریکارڈ کو کترنے لگے ہیں اور بہت جلد کسی بھی اوقافی جائیداد کے متعلق ریکارڈ طلب کئے جانے پر کہا جائے گا کہ یہ ریکارڈ وقف بورڈ کے پاس دستیاب نہیں ہے کیونکہ اس ریکارڈ کو چوہوں نے کھا لیا ہے۔

وقف بورڈ میں موجود چوہے ریکارڈ سیکشن کے ساتھ ساتھ سلطان محی الدین کے دفتر کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں اور دونوں مقامات پر ریکارڈس غیر محفوظ ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کے سلسلہ میں اعلان اور ریکارڈ سیکشن کو مہربند کئے جانے کے بعد جب ریکارڈ کے سلسلہ میں ہونے والی تکالیف سے چیف منسٹر کو واقف کروایا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ انہوں نے ریکارڈ سیکشن کو مقفل یا مہر بند کرنے کے سلسلہ میں کوئی احکامات جاری نہیں کئے ہیں اور وقف بورڈ کے پاس اب تک کوئی تحریری احکام موجود نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ریکارڈ سیکشن کو مہر بند رکھا گیا ہے ۔

گذشتہ دنوں ریکارڈ سیکشن کی اندرونی حالت کو ظاہر کرنے والی ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں واضح طور پر یہ دیکھا جارہا ہے کہ چوہے اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ س کو کتر رہے ہیں اور ان ریکارڈس کو محفوظ رکھنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے اگر ان ریکارڈس کو محفوظ کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں عدالت میں زیر دوراں مقدمات میں ناکامی وقف بورڈ کا مقدر بن جائے گی اور جس ریکارڈ کی بنیادوں پر گزٹ تیار کئے گئے ہیں اگر وہ ریکارڈ ہی محفوظ نہ رہیں تو ایسی صورت میں سرکاری گزٹ کو بھی عدالت میں کالعدم قرار دیا جانا معمول کی بات بن جائے گی حالانکہ گزٹ ریکارڈس کی بنیاد پر تیار کئے جاتے ہیں اور گزٹ کی توثیق کے لئے ان ریکارڈس کا جائزہ لیا جاتا ہے لیکن اب جب ریکارڈس چوہے کھانے لگے ہیں تو ایسی صورت میں وقف بورڈ مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے تحت موجود جائیدادوں کو کھانے والے چوہوں کی غذاء صرف اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈس نہیں ہیں بلکہ ان چوہوں کو ریکارڈ سیکشن میں پلنے کا موقع فراہم کرنے والوں کی غذاء ریاست کی قیمتی اوقافی جائیدادیں ہیں جو ریکارڈ کی تباہی کے ساتھ ساتھ تباہ ہوجائیں گی اور وقف بورڈ اپنی جائیداد کے حصول کا ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر رہے گا۔ نظام کے دور حکومت میں روڈ رولر کو دیمک کے کھا جانے کے واقعہ کے بعد اب ریاست میں وقف جائیدادوں کے ریکارڈ کو چوہوں کے کھا جانے کا نیا ریکارڈ قائم ہونے جا رہا ہے۔

وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن میں چوہے جس انداز میں ریکارڈ کو تباہ کررہے ہیں اس بات سے وقف بورڈ کے ذمہ دار بالخصوص عہدیدار اور ملازمین اچھی طرح سے واقف ہیں لیکن معاملہ میں مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ کس جائیداد کے ریکارڈ کو چوہوں نے کھایا ہے اور کونسی جائیداد کو چوہوں کی غذاء بننے کے لئے چھوڑاجانا چاہئے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button