گوشہ خواتین و اطفال

ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا

محمد سلیم مصباحی قنوج

حضورﷺ کے نور سے بہت سے لوگوں نے ہدایت کا راستہ تلاش کیا اور اس پر مظبوطی کے ساتھ گامزن رہے۔ پھر اسی نور کی بدولت وہ لوگ بام عروج پر پہونچے۔ انہیں مقدس لوگوں میں سے ایک ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں کہ حضورﷺ نے آپ کو اپنی زوجیت میں لے کر زمانے کے مقدس لوگوں کی فہرست میں داخل فرما دیا۔

نام و نسب: آپ کا نام رملہ،کنیت ام حبیبہ،نام کے بجائے کنیت سے ہی زیادہ معروف تھیں۔ والد کا نام صخر، آپ کے والد کی کنیت ابو سفیان ہے۔ اور والدہ کا نام صفیہ ہے۔ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ ععنہ کی پھوپھی ہیں۔

٭ آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے، رملہ بنت ابو سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب، والدہ کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے، رملہ بنت صفیہ بنت ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف۔

سلسلہ نسب میں حضورﷺ سے اتصال: آپ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب والد اور والدہ دونوں طرف سے پانچویں پشت میں عبد مناف پر جا کر حضورﷺ کے نسب سے مل جاتا ہے۔

ولادت با سعادت: آپ رضی اللہ عنہا کی ولادت اعلان نبوت سے ۱۷ سال پہلے مکہ میں ہوئی۔
آپ کا نکاح اول: آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش ؓکے بھائی عبیداللہ بن جحش سے ہوا۔

قبول اسلام:آپ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر عبیداللہ بن جحش کے ساتھ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپﷺ نے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا؟ آپ نے عرض کی کہ یارسول اللہﷺ!ہم دونوں میاں بیوی اسلام قبول کرنے کے لیے آئے ہیں۔ آپﷺ نے پوچھا کہ کس کی بیٹی ہو؟ آپ نے جواب دیا ابوسفیان صخر بن حرب اموی کی۔ چنانچہ آپﷺ نے دونوں کو کلمہ شہادت پڑھایا اور ان کو مسلمان کر دیا۔

آپ کی اولاد: آپ رضی اللہ عنہا کو عبید الله بن جحش سے ایک بیٹی حضرت حبیبہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کی کنیت ام حبیبہ انہی کی نسبت سے ہے۔

ہجرت حبشہ: کفار مکہ کے ظلم وستم تھمنے کا نام ہی نہ لیتے تھے بلکہ دن بدن بڑھتے ہی جا رہے تھے، جو بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوتا کفر و شرک کی نجاست سے آلودہ لوگ اس کا جینا دوبھر کر کے رکھ دیتے۔ بالآخر جب مسلمانوں پر ان کے مظالم انتہا کو پہنچ گئے تو حضورﷺ نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم دیا۔حضورؐ کےحکم سے مسلمانوں نے دو مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی، پہلی بارمرد اور چارعورتیں اور دوسری بار ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتیں ہجرت کے اس قافلے میں شریک ہوئیں۔ اس دوسری بار کی ہجرت میں حضرت رملہ رضی اللہ کی اور ان کے شوہر عبید الله بن جحش بھی شریک قافلہ تھے۔

آپ کا خواب اور شوہر اول کا انتقال: آپ رضی اللہ عنہا نے ایک رات خواب میں اپنے شوہر عبید الله بن جحش کو بڑی بھیانک صورت میں دیکھا جس سے آپ کو بہت خوف لاحق ہوا اور دل میں کہنے لگی:بخدا! ضرور اس کی حالت تبدیل ہو گئی ہے۔ جب صبح ہوئی تو عبید الله بن جحش کہنے لگا: اے ام حبیبہ! میں نے دین کے معاملے میں بہت غور وفکر کیا ہے مجھے تو سب سے بہتر دین عیسائیت ہی معلوم ہوا۔ پہلے میں اسی دین میں تھا پھر دین محمدی میں داخل ہو گیا اور اب پھر عیسائی ہو چکا ہوں۔

یہ ہولناک خبر سن کر حضرت رملہ کا دل ڈوب گیا، آپ بہت پریشان ہو گئیں اور اسے بہت سمجھایا بجھایا، جیسا کہ روایت میں ہے کہ آپ نے اس سے کہا: تیرے لیے کوئی بھلائی نہیں اور اپنا وہ خواب سنایا جو اس کے بارے میں دیکھا تھا لیکن اس نے ذرا توجہ نہ کی، لگاتار شراب کے نشے میں مست رہنے لگا اور بالآخر اسی حالت میں مر گیا۔

آپ کا مبارک خواب وتعبیر: آپ رضی اللہ عنہا نہایت صبر و استقلال کے ساتھ تمام پریشانیوں ومصیبتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کے دن گزار رہی تھیں کہ ایک بار پھر آپ کی زندگی میں بہار کے دن آنے لگے اور خوشیوں کے پھول کھلنے لگے چنانچہ ایک شب آپ نے خواب دیکھا کہ کوئی شخص مجھے ام المؤمنین کہہ کر مخاطب کررہا ہے۔ بیدار ہونے کے بعد آپ نے اس کی یہ تعبیر کی کہ حضورﷺ مجھے اپنے نکاح میں لائیں گے۔ جب حضورﷺ سے آپ کا نکاح ہو گیا تو آپ کے خواب کی تعبیر پوری ہو گئی۔

آپ کا نکاح حضورﷺ کے ساتھ: آپ رضی اللہ عنہا کے شوہر کے مرتدہو کر فوت ہونے کی خبر حضورﷺ کو ہوئی تو آپﷺ کو بہت صدمہ ہوا، حضرت ام حبیبہ کی دلجوئی کے لیے آپﷺ نےحضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اﷲعنہ کو بادشاہ حبشہ نجاشی کے پاس بھیجا اور یہ پیغام دیا کہ آپ ام حبیبہ سے برضاء و رغبت معلوم کر کے ان کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔

نجاشی نے ام حبیبہ کے پاس پیغام بھیجا۔ام حبیبہ اپنے سب دکھ بھول گئے آپ نے رضامندی کا اظہار فرمایا اور پیغام لانے والی باندی کو اپنے کنگن،انگوٹھیاں اور زیور اتار کر ہدیہ کر دیا اور خالد بن سعید بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو اپنے نکاح کا وکیل بنا کر نجاشی کے پاس بھیجا۔

٭ نجاشی نے اپنے شاہی محل میں نکاح کی مجلس منعقد کی اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دیگرصحابہ کرام رضی اﷲعنہم کی موجودگی میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہﷺ سے کر دیا اور چار ہزار درہم حق مہر رسول اللہﷺ کی طرف سے خود ادا کیا،یہ رقم سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے وکیل نکاح حضرت خالد بن سعید رضی اﷲعنہ کے سپرد کی گئی۔اس کے بعدسیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲعنہ کے ساتھ بحری جہاز میں خیبر کے راستے مدینہ منورہ روانہ کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ تشریف لائیں اور نبی کریمﷺ کی زوجہ مطہرہ بن کر ام المومنین کے معزز اعزاز سے سرفراز ہو گئیں۔

آپ کے فضائل: آپ رضی اللہ عنہا حضورﷺ کی زوجہ مطہرہ اور ام المؤمنین یعنی تمام مؤمنوں کی امی جان ہیں۔

٭ آپ رضی اللہ عنہا ان چھ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے ہیں جن کا تعلق قبیلہ قریش سے تھا۔

٭ آپ رضی اللہ عنہا کا مہر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سب سے زِیادہ تھا۔

٭ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ جب حضورﷺ نے آپ سے نکاح فرمایا اس وقت آپ حضورﷺ کی قیام گاہ سے بہت دور سرزمین حبشہ میں مقیم تھیں۔

٭ آپ ؓالسابقون الاولون صحابہ کرام میں سے ہیں۔

مروی احادیث کی تعداد: آپ رضی اللہ عنہا سے ۶۵ احادیث مروی ہیں جن میں سے ۲ متفق علیہ یعنی بخاری ومسلم دونوں میں، ۱ صرف مسلم میں اور بقیہ دیگر کتابوں میں ہیں۔

وصال و مدفن: آپ رضی اللہ عنہا نے تقریباً چار برس تک حضورﷺ کی رفاقت و ہمراہی میں رہنے کی سعادت حاصل کی،پھر نبی کریمﷺ دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد آپ رضی اللہ عنہا کم و بیش ۳۴ سال تک حیات رہیں۔پھر ۴۴ھ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ نے ۷۴ سال کی عمر پا کر اس دار فانی سے کوچ فرمایا، جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button