نئی دہلی ، 25اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہند نژاد رشی سونک برطانیہ کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ سونک پہلے برطانوی ہندوستانی وزیر اعظم ہیں۔ ہندوستان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے روڈ میپ 2030 کے تحت برطانیہ کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سونک کے ہند نژاد ہونے کے ناطے انہیں ملک بھر سے مبارکباد دی جارہی ہے۔ وہیں ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہندوستان میں سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔ملک کے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے رشی سونک کو لے کر بیان دیا ہے۔ چدمبرم نے امریکی نائب صدر کملا ہیرس اور اب رشی سونک کے بارے میں ٹویٹ کر کے بھارت میں اقلیت بنام اکثریت پر بحث شروع کی ہے۔
انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پہلے کملا ہیرس، اب رشی سونک۔ امریکہ اور برطانیہ کے عوام نے اپنے ملک کے غیر اکثریتی شہریوں کو گلے لگایا اور انہیں حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر منتخب کیا۔پی چدمبرم نے کہا کہ میرے خیال میں ہندوستان اور اکثریتی جماعتوں کو اس سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ دراصل، کملا ہیرس اور رشی سونک دونوں ہندنژاد ہیں اور وہ عیسائی اکثریتی ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔پی چدمبرم نے اس بارے میں کہا ہے کہ ہندوستان کو برطانیہ اور امریکہ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ ہندنژاد رشی سونک برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بن کر ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ رشی سونک ہندو ازم کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں ۔



