قومی خبریں

’میاں میوزیم ‘بنانے والے تین افراد دہشت گردی کے الزام میں زیرحراست

گوہاٹی ، 26اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آسام کے گول پاڑہ میں پی ایم آواس یوجنا کے تحت بنائے گئے مکان میں ’میاں میوزیم miya museum‘ کھولنے کو لے کر تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اس دوران عاسم میاں پریشد کے صدر اور جنرل سکریٹری سمیت تین لوگوں کو پولس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ان کا دہشت گرد تنظیموں سے تعلق ہونے کے شبہ ہے۔گول پاڑہ ضلع میں واقع متنازع میاں میوزیم  کو سیل کر دیا گیا۔ اتوار کو اس کے افتتاح کے فوراً بعد بی جے پی نے اس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ کاروائی آج میاں پریشد کے عہدیداروں کے خلاف کی گئی۔آسام میاں پریشد کے صدر ایم مہر علی کو میوزیم سے اس وقت گرفتارکیا گیا جب وہ دھرنے پر بیٹھے تھے۔تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالمتین شیخ کو منگل کی رات دھوبری ضلع کے عالم گنج میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

اس طرح اتوار کو میاں میوزیم کا افتتاح کرنے والی تنو دھڈومیا کو ڈبرو گڑھ کے کاواماری گاؤں میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ان تینوں کو القاعدہ برصغیر پاک و ہند یونٹ اور انصاراللہ بنگلہ کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یوایپی اے) کی مختلف دفعات کے تحت گھوگراپار پولیس اسٹیشن میں درج ایک کیس کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ٹیم (اے بی ٹی) نل باری کو تحقیقات کے لیے لایا گیا ہے۔ وزیر اعلی ہمانتا بسوا سرما نے کہا کہ اس میں نیا کیا ہے؟

وہاں رکھے گئے اوزار اور سامان آسامی لوگوں کے ہیں سوائے لنگی کے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے دانشوروں کو اس پر غور کرنا چاہئے۔ جب میں نے میاں شاعری کے خلاف آواز اٹھائی تو انہوں نے مجھے فرقہ پرست کہا۔ اب یہاں میاں کویتا، میاں اسکول، میاں میوزیم ہیں۔ میاں میوزیم کے افتتاح کے بعد ہی اس کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔افتتاح کے بعد میوزیم کو 23 اکتوبر کو عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ریاست میں رہنے والے لوگوں کے ایک چھوٹے سے طبقے کی ثقافت اور ورثے کو محفوظ رکھنا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button