نئی دہلی، یکم نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکز نے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم ہندوؤں، سکھوں، بدھسٹوں، جینوں، پارسیوں اور عیسائیوں کو 1955 کے شہریت قانون کے تحت ہندوستانی شہریت دینے کا فیصلہ کیا۔ان ممالک سے آنے والی یہ اقلیتیں اس وقت گجرات کے دو اضلاع میں مقیم ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) 2019 کے بجائے ان مہاجرین کو 1955 کے شہریت قانون کے تحت شہریت دینے کا فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔واضح ہوکہ سی اے اے کے تحت ان ممالک سے آنے والی اقلیتوں کو شہریت دینے کا انتظام ہے۔ لیکن، اس ایکٹ کے تحت قواعد ابھی تک حکومت کی طرف سے نہیں بنائے گئے ہیں، اس لیے اس کے تحت کسی کو شہریت نہیں دی جا سکتی۔
مرکزی وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، گجرات کے آنند اور مہسانہ اضلاع میں رہنے والے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائیوں کو شہریت ایکٹ، 1955 یا ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت ہندوستانی شہری کے طور پر رجسٹر کرنے کی اجازت ہوگی۔نیچرلائزیشن کا سرٹیفکیٹ آئی پی سی کے سیکشن 6 اور سٹیزن شپ رولز 2009 کی دفعات کے مطابق دیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ان دو اضلاع میں رہنے والے ایسے لوگوں کو شہریت کے لیے آن لائن درخواست دینا ہوگی۔ اس کے بعد ضلعی سطح پر کلکٹر کے ذریعہ درخواستوں کی تصدیق کی جائے گی۔
درخواست اور اس کی رپورٹ ایک ساتھ مرکزی حکومت کو آن لائن دستیاب کرائی جائے گی۔ تفتیش کے عمل کی تکمیل کے بعد، کلکٹر ان لوگوں کے لیے رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جن کی درخواست درست پائی جائے گی۔نریندر مودی کی حکومت بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے 31 دسمبر 2014 تک ہندوستان آنے والے مظلوم غیر مسلم تارکین وطن ہندو، سکھ، جین، بدھ، پارسی اور عیسائی کو ہندوستانی شہریت دینا چاہتی ہے۔



