قومی خبریں

نبی رحمت ﷺکیخلاف اہانت آمیز تبصرہ،تمام کیس دہلی منتقل ہوں گے

نئی دہلی، ۴/نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے پیغمبر اسلام ﷺکے خلاف اہانت آمیز ریمارکس کیس میں ملزم اور سابق بی جے پی لیڈر نوین جندل کو بڑی راحت دی گئی ہے۔ عدالت نے جندل کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کو دہلی پولیس کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بنچ نے اپنے حکم میں نوین جندل کو دہلی پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک عبوری تحفظ بھی دیا۔دراصل نوین جندل نے اپنے خلاف درج مقدمات کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

جس کی سماعت کے بعد عدالت نے جندل کو دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دینے کی اجازت دی اور کہا کہ آئندہ تمام ایف آئی آر بھی تحقیقات کے لیے دہلی پولیس کو منتقل کر دیئے جائیں ۔نوپور شرماکیس میں بھی مقدمات دہلی پولیس کو منتقل کر دیئے گئے۔ اس سے قبل عدالت نے بی جے پی کی معطل ترجمان نوپور شرما کے معاملہ میں بھی ایسا ہی حکم جاری کیا تھا۔عدالت نے ان کیخلاف تمام ریاستوں میں درج مقدمات کو دہلی پولیس کے انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔


اقلیتی کمیشن ایکٹ کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ، سپریم کورٹ کرے گا سماعت

نئی دہلی، ۴/نومب:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک عرضی پر غور کرنے پر اتفاق کیا جس میں قومی اقلیتی کمیشن ایکٹ اور قومی اقلیتی کمیشن کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔جسٹس ایس کے کول اور ابھے ایس اوکا کی بنچ نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی کو بتایا کہ اس نے درخواست کو قبول کر لیا ہے اور اس معاملہ کو اسی طرح کے ایک اور کیس سے جوڑ دیا ہے۔سپریم کورٹ این جی او ونی یوگا پریوار ٹرسٹ کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست اقلیتی برادریوں کی کسی زبان، رسم الخط یا ثقافت کو فروغ دینے کی کسی ذمہ داری کے تحت نہیں ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی فعال کاروائی اور قومی کمیشن برائے اقلیتی ایکٹ (1992) کے نفاذ، اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو بڑی رقم ادا کرنے کے لیے قومی کمیشن برائے اقلیت کے قیام کا کوئی آئینی مینڈیٹ نہیں ہے اور اس کا کوئی آئینی حکم نامہ نہیں ہے، اس لیے اسے غیر آئینی قرار دیا جاسکتا ہے ۔

اس سے قبل اقلیتوں کی شناخت کے حوالے سے مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔اس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ اس معاملہ میں 14 ریاستوں نے اپنا ووٹ ڈالا ہے۔ 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حتمی رائے ابھی آنا باقی ہے۔ ایسے میں عدالت کو ریاستوں کو اپنی حتمی رائے دینے کے لیے کچھ اور وقت دینا چاہیے۔


ٹی آر ایس ایم ایل اے کے ہارس ٹریڈنگ معاملہ:سپریم کورٹ نے تینوں ملزمین کو راحت دینے سے کیا انکار ، 7 نومبر کوہوگی سماعت

نئی دہلی، ۴نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تلنگانہ میں مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی (TRS) کے ایم ایل ایز کو متاثر کرنے کے ملزمین کو سپریم کورٹ سے عبوری راحت نہیں ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 7 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔ ٹرائل کورٹ نے رام چندر بھارتی، سمہایا جی اور نند کمار کی گرفتاری پر روک لگا دی تھی، لیکن ہائی کورٹ نے خودسپردگی کا کہا تھا۔تینوں نے الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

27 اکتوبر کو تلنگانہ پولیس نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کے 4 ایم ایل ایز کو خریدنے کی کوشش کو بے نقاب کیا تھا۔ سائبرآباد پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ فارم ہاؤس کی تلاشی کے دوران 3 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ تینوں کے سی آر کی پارٹی ٹی آر ایس کے ایم ایل اے کو خریدنے آئے تھے۔ پولیس نے ان سے نقدی اور چیک بک بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ٹی آر ایس نے اس کے لیے بی جے پی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایم ایل ایز بکنے والے نہیں ہیں۔اسی دوران تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر نے اس معاملہ سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے بی جے پی پر ان کی پارٹی کے ایم ایل ایز کو خریدنے کا الزام لگایا۔ کے سی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیس سے متعلق ویڈیو پیش کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایک گھنٹے سے زیادہ طویل ویڈیو ہے جس میں ایک بی جے پی ایجنٹ ٹی آر ایس کے چار ایم ایل اے کو رشوت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔کے سی آر نے کہا کہ وہ یہ ویڈیو سپریم کورٹ کے ججوں اور اپوزیشن لیڈروں کو بھیجیں گے۔

یہی نہیں سی ایم کے سی آر آئی نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تلنگانہ، آندھرا پردیش، دہلی اور راجستھان میں حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر نے خود کہانی لکھی ہے،اس میں بی جے پی کا کوئی رول نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button