ممبئی ، 5نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رہنما اور مہاراشٹر حکومت میں سابق وزیر نواب ملک اور ان کے خاندان کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ای ڈ ی کو منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار نواب ملک اور اس کے خاندان کی جائیداد کو ضبط کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔اس سال فروری میں ای ڈی نے نواب ملک پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی بہن حسینہ پارکر کے ساتھ مل کر کرلا علاقے میں واقع گوا کے 3 ایکڑ کے ایک کمپاؤنڈ پر قبضہ کرنے کی سازش کی تھی۔ اس معاملے میں اپریل کے مہینے میں ای ڈی نے گوا کمپاؤنڈ کے ساتھ کرلا ویسٹ میں تین فلیٹ، باندرہ ویسٹ میں دو فلیٹ اور مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع میں 147 ایکڑ زرعی زمین کو عارضی طور پر قرق کیا تھا۔
ای ڈی کو ان جائیدادوں کو ضبط کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ای ڈی نے جو جائیدادیں ضبط کی ہیں وہ نواب ملک، ان کے خاندان کے افراد، سولیڈس انوسٹمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ اور ملک انفراسٹرکچر کے نام پر ہیں۔ ای ڈی کی ٹیم اب اپنے قانونی مشیروں سے بات کر رہی ہے کہ وہ ان جائیدادوں کو تیزی سے اپنے قبضے میں کریں۔ نواب ملک فی الحال جیل میں ہیں،اور ایک پرائیویٹ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ حسینہ پارکر اور اس کے ساتھی کارکن سلیم پٹیل اور سردار خان (1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے مجرم) اور ملک نے گوا کمپاؤنڈ پر قبضہ کرنے کی سازش کی تھی۔
یہ کمپاؤنڈ منیرہ پلمبر نامی خاتون کے نام پر ہوا کرتا تھا۔یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پلمبر نے سال 1999 میں سلیم پٹیل کو اپنی زمین پر ناجائز قبضہ چھڑانے کے لیے پاور آف اٹارنی دی تھی لیکن پٹیل نے پارکر کے ساتھ مل کر اس کمپاؤنڈ پر قبضہ کرلیا۔ پٹیل پر الزام ہے کہ انہوں نے پاور آف اٹارنی کا غلط استعمال کیا اور حسینہ پارکر کی ہدایت پر ملک کی کمپنی سولیڈس انوسٹمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کو جائیداد فروخت کی۔ای ڈی نے جانچ میں پایا کہ ملک نے گوا کمپاؤنڈ کرایہ پر دیا تھا۔ پھر اس رقم کا استعمال کرتے ہوئے اس نے کرلا اور باندرہ میں 5 فلیٹ اور عثمان آباد میں ایک زرعی زمین خریدی تھی۔



