او پی رہلہن بالی ووڈ کا مشہور فلم ساز،ہدایت کار، کہانی کار کے علاوہ بہترین مزاحیہ اداکار اپنے زمانے کے شو۔مین✍️سلام بن عثمان
بالی ووڈ کے پہلے فلم ساز جنھوں نے ایک کروڑ سے بھی زیادہ بجٹ والی فلم بنائی
سلام بن عثمان
بالی ووڈ کی بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے رنگین فلموں کے سفر میں کئی شومین نے بالی ووڈ کی گلیاروں میں اپنی شناخت بنائی اور خوب شہرت کے ساتھ بے مثال کامیابی بھی حاصل کی اور بالی ووڈ پر راج بھی کیا۔ جن میں محبوب خان، کے آصف، راجکپور، بی آر چوپڑا، من مون دیسائی، پرکاش مہرہ، سبھاش گھئی۔ مگر ان میں سے کئی شو مین پردہ پر بھی نظر آئے، جن میں کوئی بطور ہیرو، کوئی منفی کردار کے علاوہ ایک جھلک سلور اسکرین پر اپنے آپ کو پیش کیا، یا پھر کوئی مزاحیہ کردار میں نظر آئے۔ جی ہاں آج انہیں میں سے ایک ایسے شومین کا ہم ذکر کرنے جارہے ہیں۔ انھیں فلموں سے بہت دلچسپی تھی مگر انھیں کبھی کسی بڑی فلم میں بڑے کردار نہیں ملے۔
شروعاتی دور میں انھوں نے کچھ چھوٹے موٹے کردار کیے۔ انھیں ضد تھی کہ وہ ایک روز ضرور ایک فلمساز، ہدایت کاری کے ساتھ فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں، اور ایک بہت بڑے اداکار کے طور پر بالی ووڈ میں نظر آئیں، ان کو کامیابی ملی اور انھوں نے بالی ووڈ میں تین سے بھی زیادہ دہائیوں تک بالی ووڈ پر راج کیا۔ جی ہاں وہ مشہور مزاحیہ اداکار "او پی رہلہن” تھے جو بعد میں فلمساز اور ہدایت کار بنے۔ انھوں فلموں کی کہانی بھی لکھیں، ان کی تمام فلمیں کامیاب بھی ہوئیں۔ او پی رہلہن نے اپنے کامیابی کے عروج پر ایک ایسی فلم بنائی جس کا بجٹ ایک کروڑ سے بھی زیادہ تھا اور وہ فلم تھی "تلاش”۔
او پی رہلہن OP Ralhan 21 اگست 1928 کو ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بٹوارے کے بعد سیالکوٹ موجودہ پاکستان میں ہے۔او پی رہلہن کا پورا نام اوم پرکاش اروڑہ تھا۔ بالی ووڈ نے انھیں فلمی نام او پی رہلہن دیا۔ رہلہن پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ایک خوشحال پنجابی اروڑہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا بہت بڑا کاروبار تھا۔ تقسیم ہند کی وجہ سے انھیں والدین کے ساتھ ہندوستان کا رخ کرنا پڑا۔ ان کا بنا بنایا کاروبار ختم ہوچکا تھا۔ گھر کے تمام لوگوں کو بہت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی تین بہنیں اور دو بھائی تھے۔ رہلہن کو بچپن سے ہی فلمیں دیکھنے کا شوق تھا۔ اور وہ اداکاروں کی نقل کیا کرتے تھے۔ مگر انھیں فلم ساز اور کہانی کار بننے کی دھن سوار تھی۔ جس کے لیے انھوں نے سوچا کی پڑھائی بھی ضروری ہے۔
رہلہن نے اپنا زیادہ تر وقت پڑھائی پر مرکوز رکھا۔ جب بھی وقت ملتا تو وہ فلمیں دیکھتے یا پھر فلم اسٹوڈیو چلے جاتے۔ ایک روز شوٹنگ کے دوران ایک چھوٹا سا کردار ملا۔ بہت مناسب سے کردار کو انھوں نے بخوبی ادا کیا۔ اس کردار کی اہم بات یہ تھی کہ انھیں 70 سال بوڑھے شخص کے کردار کو ادا کرنا تھا۔ اس وقت او پی رہلہن کی عمر صرف سترہ سال تھی۔ رہلہن شوٹنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ شوٹنگ ختم ہوتے ہی لوگوں نے تالیاں بجائیں اس وقت یہ احساس ہوا کہ فلموں کا انتخاب صحیح ہے۔ او پی رہلہن اس وقت بہت مشکل دور سے گذر رہے تھے۔
انھیں تعلیم کے ساتھ کام کی تلاش میں کھانا بھی میسر نہیں ہوتا تھا۔ رہلہن نے اس مشکل دور میں ریلوے اسٹیشن پر اخبار بھی فروخت کیے۔ شوٹنگ کے دوران انھیں ناشتہ کے طور پر بھجیہ ملا کرتا تھا جسے کھا کر رہلہن مست ہو جاتے تھے۔ اس مشکل دور میں رہلہن نے ابھی تک بالی ووڈ میں کچھ خاص شناخت نہیں بنا پائے تھے وہی کچھ چھوٹے موٹے کردار پر ہی منحصر تھے۔ ایک روز کسی فلم کی شوٹنگ کے دوران ان کی ملاقات بی آر چوپڑا سے ہوئی انھوں نے رہلہن کے فنکار کو پہچانا اور رہلہن کو اپنے ساتھ کام کے لیے رکھ لیا۔ رہلہن نے کچھ سال بی آر چوپڑا کے ساتھ کام کے دوران فلم کی باریکیوں کو سمجھا۔
وہ بی آر چوپڑا کے اسسٹنٹ ہدایت کار کے طور پر کام کرنے لگے ساتھ ہی رہلہن نے اداکاری کو جاری و ساری رکھا۔ رہلہن نے 50 اور 60 کی دہائی میں اپنی بہترین اداکاری کے ذریعے بالی ووڈ میں منفرد شناخت بنا چکے تھے۔ رہلہن نے جب بی آر چوپڑا کے ساتھ کیمرہ سنبھالا تو ان کی اداکاری میں اور بھی نکھار آیا۔
اس دوران رہلہن کی ملاقات ان کے خاص دوست اس وقت کے اسٹار راجندر کمار سے ہوئی۔ راجندر کمار نے رہلہن سے کہا "رہلہن دیکھ میں اسٹار بن گیا اور تم ابھی تک مزاحیہ کردار ادا کر رہے ہو۔ اب تو تم نے ہدایت کاری بھی سیکھ لی ہے۔ کوئی فلم کیوں نہیں بناتے ہو۔ ایک فلم بناؤ مجھے ہیرو رکھو تو تمہیں فائنانسر بھی مل جائے گا اور تم فلمساز ہدایت کار بھی۔۔۔۔” رہلہن نے اپنے عزیز دوست کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے فلم "گہرا داغ” بنائی. جس میں راجندر کمار مرکزی کردار میں تھے اور مالا سنہا فلم کی ہیروئین تھیں۔
فلمی شائقین کو فلم بہت پسند آئی اور رہلہن کو اپنی پہلی فلم میں ہی کامیابی ملی۔ اس کے بعد رہلہن نے کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ ان کی دوسری سپر ہٹ فلم "پھول اور پتھر” جس میں ہیرو تھے دھرمیندر اور مینا کماری۔ اس فلم کو زبردست کامیابی ملی۔ اور دھرمیندر بھی اسٹار کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ دھرمیندر کو بالی ووڈ سے وہ کامیابی نہیں مل رہی تھی جس کی انھیں تلاش تھی۔ انھوں نے اس وقت بالی ووڈ سے منہ موڑنے کی تیاری کر لی تھی۔ مگر رہلہن کی فلم "پھول اور پتھر” نے انھیں ایک زبردست کامیابی عطا کی۔ اس کے بعد دھرمیندر کے پاس کئی فلموں کی لائن لگ گئی۔
رلہن بالی ووڈ کے ایک ایسے فلمساز تھے انھوں نے ہر نئے اداکار کو موقع دیا اور شناخت دلائی۔ جن میں سر فہرست ممتاز، زینت امان، کبیر بیدی، امیتابھ بچن اور بھی کئی دیگر۔
1971 کی فلم ہلچل جس میں رہلہن نے پہلی مرتبہ زینت امان اور کبیر بیدی کو موقع دیا۔ اس وقت بالی ووڈ کے گلیاروں میں یہ باتیں گشت کر رہی تھی کہ زینت امان کو پہلا موقع دیو آنند نے اپنی فلم "ہرے راما ہرے کرشنا” میں دیا۔ جبکہ رہلہن نے اپنی فلم "ہلچل” میں زینت امان کو موقع دیا۔ رہلہن نے فلم "بندھے ہاتھ” میں امیتابھ بچن کو بھی موقع دیا۔ فلم "بندھے ہاتھ” کو زبردست کامیابی ملی ساتھ ہی امیتابھ بچن پر فلاپ ہیرو والی مہر بھی ہٹ گئی۔ اس وقت امیتابھ بچن کی مسلسل بارہ فلموں میں وہ شہرت اور شناخت نہیں بنا سکے تھے جس کی انھیں شدت سے ضرورت تھی۔
اس وقت امیتابھ بچن نے بھی اپنی اداکاری سے فلمی شائقین کو مایوس کیا تھا۔ فلم "بندھے ہاتھ” کی ایک بہترین کہانی اور امیتابھ بچن کی اداکاری کے ساتھ ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی اور امیتابھ بچن بھی اسٹار کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ او پی رہلہن نے ہمیشہ نئے اداکاروں اور اداکاراؤں کو موقع بھی دیا انھیں شہرت بھی دلائی، جس کی وجہ سے بالی ووڈ کے تمام اسٹار اور سپر اسٹار او پی رہلہن کو عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتے ییں۔
بالی ووڈ کا ایک ایسا زمانہ تھا کہ اس وقت فلموں کا بجٹ ہزاروں سے لاکھوں میں ہوا کرتا تھا۔ وہیں 60 کے دہائی میں او پی رہلہن نے ایک فلم بنائی "تلاش” جس کا بجٹ ایک کروڑ سے بھی زیادہ تھا۔ 1969 کی فلم "تلاش” میں ہیرو تھے راجندر کمار اور شرمیلا ٹیگور دوہرے کردار میں تھیں۔ ساتھ ہی اس وقت کے مشہور اداکار بلراج ساہنی اور جیون کے علاوہ خود او پی رہلہن نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فلم کی مارکیٹنگ کے لیے فلم کے پوسٹر پر بھی فلم کے بجٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔ پاپی ایک ملٹی اسٹارر فلم تھی جس میں سنیل دت، سنجیو کمار، زینت امان، رینا رائے، پریم چوپڑا، ڈینی ڈینزونگپا کو بھی موقع دیا گیا تھا۔
راجندر کمار نے اپنی دوستی قائم رکھتے ہوئے انھوں نے اپنی بہن منورما کی شادی او پی رہلہن سے کرائی۔ رہلہن کے دو بچوں میں ایک بیٹی روپالی اور بیٹا منیش ہے۔ او پی رہلہن بالی ووڈ کے کامیاب شومین میں سے ایک ہیں۔ ان کی کچھ بہترین فلمیں۔ گہرا داغ، بندھے ہاتھ، پھول اور پتھر، مجرم، تلاش، پاپی، افسانہ، ہلچل، پیاس، شالیمار، او پی رہلہن نے "رہلہن پروڈکشن” کے بینر تلے کامیاب فلموں کے ذریعے فلمی شائقین کو محظوظ کیا۔ عمر کے آخری وقت میں کچھ بیماری کے سبب او پی رہلہن نے 20 اپریل 1999 کو بالی ووڈ اور اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
او پی رہلہن کی بالی ووڈ میں بہترین تین دہائیوں کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے اعزاز میں 12 فروری 2022 کو ممبئی کے باندرہ میں او پی رہلہن چوک کا افتتاح ان کے انتقال کے ٹھیک 23 سال بعد عمل میں آیا۔ او پی رہلہن چوک کا افتتاح مشہور اداکار دھرمیندر نے شمع جلا کر اور ربن کاٹ کر کیا۔ اس موقع پر او پی رہلہن کی بیوی منورما رہلہن، منیش رہلہن، ارمان رہلہن، بیٹی روپالی شاہ کے علاوہ رہلہن خاندان کے تمامی لوگوں نے شرکت کی، ساتھ ہی مشہور اداکارہ زینت امان، سابق ممبر پارلیمنٹ پریہ دت، بابا صدیقی، کلیم خان کے ساتھ کئی مشہور اور معروف شخصیات نے بھی شرکت کی اور او پی رہلہن کو خراج عقیدت پیش کیا۔
او پی رہلہن چوک کے افتتاح پر دھرمیندر نے اپنے دوست او پی رہلہن کو یاد کرتے ہوئے کہا- "اگر صرف یادیں زندہ رہیں تو میں اپنے دوست رہلہن کو فون کر کے بتاؤں گا کہ چلو ایک اور پھول اور پتھر بنائیں۔” ہماری ایک دوسرے کے لیے دوستی، محبت اور تعریفیں ہوا کرتیں تھیں۔ ہم بہت اچھے دوست تھے جو آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے لیکن آپس میں ایک ایسا رشتہ تھا جو ابد تک قائم رہنے والا ہے، آج او پی رہلہن چوک کو ان کے نام سے منسوب کیا جا رہا ہے، انہیں ہمیشہ پیار اور احترام کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ یادیں زندہ ہیں، آج بھی او پی رہلہن ہمارے ساتھ ہیں۔”




