چھاتی کے سرطان کی علامات
بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے میموگرافی سے سینے میں پیدا ہونے والی گلٹیوں کے بڑے ہونے سے پہلے ہی اس کی تشخیص کر لی جاتی ہے۔
دماغ کے ایک حصے (Cerebellum) میں سٹروک سے سر چکرانے یا متلی کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔کیونکہ خون کی نالیاں رسنے سے دما غ میں خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس سے ہالیوسینشین اور ہائی بلڈ پریشر کی شکایت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
بریسٹ کینسر کیا ہے؟
عورتوں کو ہونے والے کینسر میں اب بریسٹ کینسر سرِفہرست ہے۔ یہ مرض عام طور پر 50 سے 60 برس کی عمر کی عورتوں میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں مبتلا ہو رہی ہیں۔بریسٹ کینسر کی مریض خواتین نہ صرف پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں پائی جاتی ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی خواتین بھی اس مرض کا تقریباً اسی شرح سے شکار ہو رہی ہیں۔’چھاتی کے سائز، ساخت یا ایک چھاتی کی دوسرے چھاتی سے مختلف نظر آنے کی علامات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘بریسٹ کے ڈکٹس اور لوبلز کے ٹشوز (بافتیں) میں جب بے ہنگم نشونما ہونا شروع ہو جائے تو یہ بریسٹ کینسر کا آغاز ہے۔
’ابنارمل نشونما کی وجہ سے اگر آپ کو بریسٹ پر گلٹی یا لمپ محسوس ہو تو یہ ممکنہ طور پر کینسر کی علامت ہو سکتا ہے۔‘اسی طرح اگر گلٹی یعنی ڈِپ ہو یا دونوں یا ایک بریسٹ سخت ہوں تو یہ بھی ممکنہ علامت ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر نِپل سے دودھ کے علاوہ کسی بھی قسم کا ڈسچارج ہو تو یہ بھی ممکنہ طور پر کینسر ہو سکتا ہے اور اس کی تصدیق کے لیے ہسپتال سے ٹیسٹ کرانے کی فوری ضرورت ہے۔ اگر یہ تمام علامات بغل میں ہوں تو تب بھی یہ بریسٹ کینسر ہو سکتا ہے۔
جبکہ چھاتی کے سائز، ساخت یا ایک پستان کی دوسرے پستان سے مختلف نظر آنے کی علامات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔’ابنارمل نشونما کی وجہ سے اگر آپ کو بریسٹ پر گلٹی یا لمپ محسوس ہو تو یہ ممکنہ طور پر کینسر کی علامت ہو سکتا ہے خواتین چھاتی میں ہونے والی کسی بھی معمولی تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں اور کسی مستند ڈاکٹر کو دکھائیں۔
یہ بیماری ہیریڈیٹری ہے، یعنی ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو سکتی ہے۔ اسی لئے یہ بہت ضروری ہے کہ مائیں اپنی بیٹیوں سے اس خطرناک مرض سے متعلق بات چیت کریں اور باقاعدگی سے چیک اپ کرنے کی عادت ڈالیں۔
سرطان کے مراحل
دنیا بھر میں کینسرز میں سب سے عام قسم پستان کا سرطان ہے۔ اس کے چار مختلف مراحل ہیں، پہلے دونوں بڑی حد تک قابلِ علاج ہیں لیکن تیسرے اور چوتھے مرحلے پر یہ بیماری خاصی پیچیدہ شکل اختیار کرلیتی ہے۔ کینسر کا تعلق دراصل جینیاتی طور پر اس بیماری کی خلاف مدافعت کی کمزوری ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اگر ماں کو بریسٹ کینسر ہے تو بیٹی کو بھی ہوسکتا ہے۔ بریسٹ کینسر کی پہلی اسٹیج میں تو چھاتی میں گلٹی بنتی ہے جس کا سائز چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں درد ہوتا ہے۔
پہلی اسٹیج یہ تعین کرتی ہے کہ اب کینسر بافتوں کو آزادانہ طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔دوسرے مرحلے میں یہ گلٹی نہ صرف بڑی ہوتی ہے بلکہ جڑیں بھی پھیلتی ہیں، یہ لِمف نوڈز میں داخل ہو گیا ہے اور اس کا سائز ایک اخروٹ یا لیموں جتنا ہے۔جس کے بعد یہ تیسرے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں اب کینسر آپ کے کم از کم نو لمف نوڈز میں آچکا ہے جو گردن کی ہڈی اور بغل تک کا حصہ ہے۔ اب یہ سینے میں بیرونی جلد کے قریب ہے۔
’اگر نِپل سے دودھ کے علاوہ کسی بھی قسم کا ڈسچارج ہو تو یہ بھی ممکنہ طور پر کینسر ہو سکتا ہے اور اس کی تصدیق کے لیے ہسپتال سے ٹیسٹ کرانے کی فوری ضرورت ہے چوتھے اور آخری مرحلے میں کینسر لمف نوڈز سے نکل کر اب چھاتی کے گرد دیگر حصوں تک پھیل چکا ہے۔ یہ سب سے زیادہ ہڈیوں، پھیپھڑوں، جگر اور دماغ تک آ گیا ہے۔ اس اسٹیج میں طبی ماہرین کے مطابق مریضہ کی جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔
سرطان کی تشخیص
بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے میموگرافی سے سینے میں پیدا ہونے والی گلٹیوں کے بڑے ہونے سے پہلے ہی اس کی تشخیص کر لی جاتی ہے۔ میموگرافی چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے لیے مخصوص ایک ایسا ایکسرے ہوتا ہے جو کہ سینے میں پیدا ہونے والی گلٹیوں کی تشخیص کر لیتا ہے اور یوں اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔بریسٹ کینسر کی پہلی اسٹیج میں چھاتی میں گلٹی بنتی ہے جس کا سائز چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں درد ہوتا ہے۔
پہلی اسٹیج یہ تعین کرتی ہے کہ اب کینسر بافتوں کو آزادانہ طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔ خواتین کے لیے بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت سے بچنے کے لیے مؤثر ترین طریقہ باقاعدہ اسکریننگ ہے۔ ہندوستان میں متعدد طبی مراکز میں اس مرض کی مفت تشخیص کی جاتی ہے۔ یہ مفت اسکریننگ اور میموگرافی 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ ان مراکز میں بائیوپسی کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔
ایسی خواتین جن کی عمر 50 سال یا اس سے زیادہ ہو ان کو مکمل طور پر سالانہ اسکریننگ کروانی چاہیے۔ اور ان کے ساتھ ساتھ وہ خواتین جو اپنی چھاتی میں کسی قسم کی گلٹی محسوس کریں تو فوراً کسی مستند ریڈیالوجسٹ سے رابطہ کریں تاکہ بروقت تشخیص سے بیماری اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔نوجوان لڑکیوں میں ابتدائی ٹیسٹ الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
اسٹیج 2 میں یہ گلٹی نا صرف بڑی ہوتی ہے بلکہ اس کی جڑیں بھی پھیلتی ہیں، یہ لمف نوڈز میں داخل ہو گیا تو اس کا سائز ایک اخروٹ یا لیموں جتنا ہوگا۔ الٹرا ساؤنڈ آواز کی خاص لہریں ہیں جن کی فریکوئنسی بہت زیادہ ہے اور انسانی کان اس آواز کو نہیں سن سکتے۔ یہ مختلف طریقوں سے بیماریوں کی تشخیص میں استعمال کی جاسکتی ہیں جن میں ہر قسم کی رسولیاں شامل ہیں۔الٹراساؤنڈ کے ذریعے بریسٹ کینسر کی قبل از وقت یا بروقت تشخیص ممکن ہے۔ اس کے علاوہ ایم آر آئی اسکیننگ کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔
مرض سے بچاؤ
طبی ماہرین کے مطابق بریسٹ کینسر کی ایک بڑی وجہ غلط طرز زندگی ہے۔اگر خوراک متوازن نہیں تو یہ بھی کینسر کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑی وجہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن ہے اور تنہائی کا شکار خواتین کو یہ مرض لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔تیسرے مرحلے میں اب کینسر آپ کے کم از کم نو لمف نوڈز میں آ چکا ہے جو گردن کی ہڈی اور بغل تک کا حصہ ہے۔ اب یہ سینے میں بیرونی جلد کے قریب ہے۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ خواتین کو بریسٹ کینسر سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے شیر خوار بچوں کو ڈبے کا دودھ پلانے کی بجائے اپنا دودھ پلانا چاہیے۔ رات کو بریزیر (زیر جامہ) اتار کر سونا چاہیے، سفید یا جلد کے رنگ جیسی کاٹن کی بنی ہوئی ڈھیلی ڈھالی زیر جامہ استعمال کرنی چاہیے۔
سرطان کا علاج
عام طور پر بریسٹ کینسر کا علاج اس کے مراحل دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں بریسٹ کینسر کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جاتا ہے۔
اگر بریسٹ کینسر پہلی اسٹیج میں ہے تو لمپ یا گلٹی نکالی جاتی ہے، اس عمل کو لمپیکاٹومی کہتے ہیں۔کینسر اگر دوسری اسٹیج میں داخل ہو چکا ہے تو اس صورت میں بھی اس لمپ کا سائز بڑا ہوتا ہے۔ ایسے میں بھی لمپیکاٹمی کی جاتی ہے۔پہلی اور دوسری اسٹیج میں بیشتر مریضوں کو کیمو تھراپی کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ اس بات کے 90 سے 95 فیصد امکانات ہوتے ہیں کہ کم از کم پانچ سال تک ایسا کوئی لمپ نہیں بنے گا۔چوتھے اور آخری مرحلے میں کینسر لمف نوڈز سے نکل کر اب پستان کے گرد دیگر حصوں تک پھیل چکا ہوتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ ہڈیوں، پھیپھڑوں، جگر اور دماغ تک آجاتا ہے۔ اس اسٹیج میں طبی ماہرین کے مطابق مریضہ کی جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے
جبکہ اس کے بعد کیا سٹیجز یعنی تیسرے اور چوتھے مرحلے میں بریسٹ کینسر خطرناک شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں علاج کا طریقہ کیمو تھراپی ہی بچتا ہے یا چھاتی کو سرجری کے ذریعے پورا ہی جسم سے نکال لیا جاتا ہے۔کیموتھراپی کینسر کے خلیات کو تباہ کرتی ہے لیکن اس کے کئی مضر اثرات بھی ہوتے ہیں۔ لیکن بہت سے مریضوں کو کیموتھراپی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ جاننے کے لیے کہ کیا مریض کو کیمو تھراپی کی ضرورت ہے یا نہیں، ٹائپ ڈی ایکس نامی ایک ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ بریسٹ کینسر کے دوبارہ ہونے کے کیا امکانات ہیں یا کینسر کتنا خطرناک ہے۔ اس مہنگے ٹیسٹ پر بڑا خرچ آتا ہے۔
لازمی نہیں کہ علامات کا مطلب کینسر ہی ہو’چھاتی کے سرطان کی آگاہی دینے والے اداروں کا کہنا ہے کہ چھاتی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے آگاہ ہونا ضروری ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ لیکن لوگ ضرورت سے زیادہ خوف میں مبتلا نہ ہوں۔ بس خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے جسم سے واقف رہیں۔ ’آپ کریم یا لوشن لگاتے ہوئے بھی اپنے آپ کو چیک کر سکتی ہیں۔‘کینسر ریسرچ یو کے کے مطابق کسی علامت کا لازمی مطلب نہیں کہ وہ سرطان ہی ہو۔’الٹا نپل، نپل سے رطوبت کا اخراج یا سرخی کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن جلد ہی ڈاکٹر سے معائنہ کروا لینے سے آپ کو موقع مل جاتا ہے کہ آپ کا کامیاب علاج ہو سکے گا۔‘



