سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

وجوہات,گردن کا درد

دردایک ایسا احساس ہے جو ہرا نسان اپنی زندگی میں اکثر محسوس کرتاہے۔ چاہے وہ ذہنی ہویا جسمانی انسان کے جسم کاہرحصہ درد کا احساس رکھتاہے۔ ویسے کئی درد آپ برداشت کرتے ہیں۔ لیکن کچھ جسمانی درد ایسے تکلیف دہ ہوتے ہیں کہ ان کو برداشت کرنا مشکل ہوتاہے جس سے روز مرہ کی زندگی تکلیف دہ ہوجاتی ہے۔

ایسی ہی تکلیفوں میں ایک پریشان کن تکلیف گردن کا درد ہے۔ جب یہ زیادہ پریشان کن ہوجاتاہے تو اس کے علاج کے لئے بھاگ دوڑ شروع ہوجاتی ہے۔ اسپانڈئی لوسس(Spandylosis) سے ہونے والا گردن کا درد ایک عام پریشان کن درد ہے۔ اس سے متعلق کچھ معلومات پیش کی جارہی ہیں۔

گردن کا درد کیا ہے؟

ہماری گردن میں جومنکے یاگول ہڈیاں (Vertebrats) ہوتی ہے ان کے بیچ میں رطوبت ہوتی ہے۔ یہ رطوبت عمر کے ساتھ کم ہوجاتی ہے اور اس میں کیلشیم جمع ہونے لگتاہے۔ اس کی وجہ سے ایک نئی ہڈی جیسی شکل اختیار کرلیتی ہے جس کی وجہ سے سوزش شروع ہوجاتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی میں جو نسیں ہوتی ہیں اور Vertebrats کے اندرونی حصہ میں حرام مغز (Spinalcord) ہوتاہے اس پر اثر ہونے یا سوزش کی وجہ سے گردن کے درد سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

گردن کے درد کے مسائل

گردن کی نسوں پر دباؤ پڑتاہے۔ انہیں ذیل میں دی گئی گردن درد (Spondylisis) کی شکایات سے دوچار ہونا پڑتاہے۔ گردن میں درد جو ایک پوری گردن میں محسوس ہوتاہے۔ سرکا چکرانا۔ سرکا بھاری پن۔ لیٹنے میں تکلیف ہونا۔ سوکر اٹھتے وقت گردن میں درد رہنا یا سرچکرانا۔ زیادہ دیر پڑھنے سے تکلیف کا بڑھ جانا۔ گردن کے ہلانے سے سرمیں درد محسوس ہونا۔ گردن کا درد کندھے تک پھیل کر پورے ہاتھ میں اور ہاتھ کی انگلیوں تک بھی پھیلتاہے۔ کندھے کے درد سے کندھوں میں کھینچاؤ کی شکایت رہتی ہے۔ ہاتھوں کا سن ہونا اور جلن محسوس ہونا۔ نہ صرف گردن میں بلکہ پیروں میں درد ہونے لگتاہے اور پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ ان افراد کو چلنے میں دشواری، چپل پہننے میں، بٹن لگانے میں تکلیف ہوتی ہے اور کچھ افراد میں پیشاب اور رفع حاجت پر قابو نہیں رہتا۔

علاج

حالیہ تحقیق کے مطابق گردن والے درد میں کئی جدید انگریزی دوائیاں ناکام ہوچکی ہیں اور ڈاکٹر آپریشن کی صلاح دیتے ہیں۔اگر تکلیف زیادہ ہو تو پہلے ہڈی کا معائنہ کرالینا چاہئے، بعدہٗ رگوں اور پٹھوں کی قوت اور حرام وزہریلے مادوں کو خارج کرنے کے لئے دوا دینی چاہئے۔ طب قدیم میں الحمد للہ اس کا شافی علاج موجود ہے۔ مریض کو چاہئے کہ نرم گدے کے بجائے سخت اور سیدھے بستر اور باریک تکیہ کا استعمال کرے یا زمین پر سوئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button