اپنی اولاد کی بہترین تربیت، تعلیم اور ان کے مستقبل کی فکر کسے نہیں ہوتی۔ والدین اور بزرگ بھی ہمیشہ اپنے بچوں کو نیکی اور اچھائی کا درس دیتے ہیں اور ہر اونچ نیچ سمجھائی جاتی ہے، مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس ساری محنت اور کوششوں کے باوجود اولاد اپنے والدین کے لیے کسی بڑی پریشانی اور دوسروں کے سامنے شرمندگی کا باعث بن جاتی ہے۔ ایسے موقع پر والدین سارا ملبا گھر کے باہر کے ماحول یا مخصوص لوگوں پر ڈال کر زمانے سے نظریں بچاتے نظر آتے ہیں جب کہ اس کے ذمہ دار وہ خود بھی ہوتے ہیں۔بعض اوقات تھوڑی سی سختی بھی اس کا مستقبل داؤ پر لگنے سے بچا سکتی ہے۔ بچوں کی الجھنیں، ان کی شکایات اور عام اور معمولی نوعیت کے مسائل آپ توجہ سے سنیں اور اس کا کوئی حل ضرور بتائیں۔
اس سے بچہ آپ سے اپنی ہر بات شیئر کرنے کا عادی ہو جائے گا اور آپ کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد کسی بھی موقع پر فیصلہ کرنے کے لیے رجوع کرے گا۔ اس طرح آپ اسے اچھے یا برے میں فرق کرنا اور درست سمت میں راہ نمائی کرسکتی ہیں۔ جب بچہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر کھیلنے کے لیے جائے تو ماں کو چاہیے کہ وہ اس سے جگہ اور مقام کی تفصیل جاننے کے بعد اس کے ان دوستوں کے نام بھی معلوم کر لے جو اس کے ساتھ ہوں گے۔ آپ کے بچے کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں اور کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان سب کا آپ کے لیے جاننا بہت ضروری ہے۔
لڑکوں کے گھر سے نکلنے سے پہلے ان کے دوست کا نام اور جگہ جاننے کے ساتھ یہ بھی دریافت کریں کہ ان کی واپسی کب ہو گی۔ تاہم یہ سب پیار اور شفقت بھرے انداز میں کیا جائے تو بچے کا اعتماد بحال رہے گا۔آج کل چھوٹے بچوں کو موبائل فون تھما کر مائیں بہت خوشی سے دوسروں کو بتاتی ہیں کہ ان کا بچہ موبائل فون کا بہترین استعمال جانتا ہے۔ کیا آپ کو یہ ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بچے کی سرگرمیوں سے آگاہ رہیں۔ اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کی تمیز سکھانا اور درست سمت میں ان کی راہ نمائی کرنا بھی آپ کا ہی کام ہے۔ ماں کے ساتھ ساتھ باپ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی گھر سے باہر سرگرمیوں پر نظر رکھے۔ ممکن ہو تو ان کے اسکول،کالج سے معلومات حاصل کریں۔
آپ عزیز و اقارب سے ملنے جائیں یا کسی تقریب میں شرکت کرنی ہو بچوں کو گھر میں تنہا مت چھوڑیں۔ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کے لیے والدین کو اپنی مصروفیات اور ذمہ داریوں کے ساتھ کچھ وقت ضرور نکالنا ہو گا ورنہ کسی بگاڑ اور بچے کی غلطی کی ذمہ داری معاشرہ اور ماحول پر ڈال دینا بہت آسان ہے۔



