سرورقسوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

پاکستانی نژاد بہترین آل راؤنڈر،زمباوے ٹیم کے کم عمر کھلاڑی سکندر رضا بٹ✍️سلام بن عثمان

پاکستان ایئر فورس پبلک اسکول لوئر ٹوپہ میں تین سال تک تعلیم حاصل کی، اور پاکستان ایئر فورس کا پائلٹ بننے کی خواہش تھی۔ لیکن ان کا خواب اس وقت چکنا چور ہوا جب وہ آنکھوں کی جانچ میں ناکام ہو گئے

Sikandar Raza Butt سکندر رضا بٹ پاکستانی نژاد زمباوے کے بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑی جو بنیادی طور پر ایک بہترین بلے باز اور تمام طرز کی کرکٹ کھیلنے میں مشہور۔ 24 اپریل 1986 میں سکندر رضا پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ایک پنجابی بولنے والے کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پاکستان ایئر فورس پبلک اسکول لوئر ٹوپہ میں تین سال تک تعلیم حاصل کی، اور پاکستان ایئر فورس کا پائلٹ بننے کی خواہش تھی۔ لیکن ان کا خواب اس وقت چکنا چور ہوا جب وہ آنکھوں کی جانچ میں ناکام ہو گئے۔ جو پائلٹ بننے کے لیے کسی بھی ایئر فورس انتخاب کے لیے لازمی ہوتا ہے۔

کچھ ہی عرصہ بعد سکندر رضا اپنے خاندان کے ساتھ، سال 2002 میں زمباوے کا رخ کیا۔ زمباوے پہنچ کر سکندر رضا نے اپنا ذہن بدلتے ہوئے

کرکٹ کی طرف متوجہ ہوئے۔ ساتھ ہی سکندر رضا نے تعلیم پر بھی توجہ دی۔ انھوں نے زمباوے پہنچ کر اسکاٹ لینڈ گئے۔ جہاں انھوں نے گلاسگو کیلیڈونین یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے ساتھ بہترین کرکٹ کھیلتے ہوئے ڈومیسٹک کرکٹ مقابلوں کے بہترین بلے بازی سے اپنی شناخت بنائی، جس کی وجہ سے سکندر رضا زمباوے کرکٹ سلیکٹرز کی نگاہوں میں جنچ گئے۔ اس وقت سکندر رضا کے لیے صرف مسئلہ شہریت کا تھا۔ ان کی بہترین کرکٹ کی وجہ سے انھیں 2011 میں زمباوے کی شہریت بھی مل گئی۔

یہاں سے سکندر رضا نے اپنی صلاحیت کو سمجھتے ہوئے پیشہ ورانہ کرکٹ کھیلنا شروع کیا۔

2009 میں زمباوے کے ڈومیسٹک ڈھانچے کی اصلاح کے بعد سکندر رضا نے میشونا لینڈ ایگلز کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا شروع کیا۔ انھوں نے 12 اپریل 2007 کو لوگن کپ کے دوران ایسٹرنز کے خلاف بہترین رنز کے ساتھ اپنے پہلے فرسٹ کلاس میچ کا آغاز کیا ۔ وہ 146 کے عمدہ اسکور کے ساتھ سر فہرست ایک کامیاب فرسٹ کلاس کرکٹر بن کر سامنے آئے۔

سکندر رضا نے لسٹ اے کرکٹ بھی اصل میں ناردرنز کے لیے کھیلا۔ لیکن بعد میں وہ میشونا لینڈ ایگلز کے لیے کھیلنا شروع کر دیا۔ انہوں نے 2007 میں لسٹ اے میں ڈیبیو کیا۔ بعد میں سکندر رضا نے 2010 میں ڈیزرٹ وائپرز کے خلاف سدرن راکس کے لیے 20T کرکٹ میں شروعات کی۔ سکندر رضا T20 طرز کی کرکٹ میں بہت کامیاب رہے، اور 2010 کے اسٹیٹ بینک T20 مقابلے میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے۔ اس کے بعد 2010 میں میٹ بینک پرو 40 چیمپیئن شپ فائنل میں سکندر رضا نے سدرن راکس کے لیے شاندار 44 رنز بنائے جب وہ مڈ ویسٹ رائنوز کے خلاف ٹائٹل کے لیے میدان پر تھے اس وقت ان کی یہ پہلی بڑی کارکردگی تھی۔ جس نے بین الاقوامی انتخابی کمیٹی کی توجہ حاصل کی۔ جنوری 2011 میں سکندر رضا نے اپنے کیریئر کا بہترین لسٹ-اے اسکور 80 رنز بنایا یہ ان کی پہلی نصف سنچری بھی تھی۔

سکندر رضا کی کارکردگی نے انہیں زمباوے کی 2011 کرکٹ ورلڈ کپ مہم کے لیے ابتدائی اسکواڈ میں جگہ ضرور ملی لیکن وہ آخری 15 رکنی اسکواڈ میں جگہ نہ بنا سکے۔ اس وقت تک سکندر رضا نے ایک اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ماسونگو اسپورٹس کلب میں جہاں چامو چبھابھا کے ساتھ ان کا 161 کا ابتدائی شراکت صرف میٹابیلی لینڈ ٹسکرز کے گیند بازوں کو شکست دینا تھی اور اپنی ٹیم سدرن راکس کی فتح۔ اس وقت سکندر رضا نے زبردست فتح کی بنیاد ڈالی۔ اس سے زمباوے کے سلیکٹرز نے سکندر رضا کو آسٹریلیا اے اور جنوبی افریقہ اے کی سہ فریقی سیریز کے لیے تربیتی اسکواڈ کے لیے منتخب کیا۔ معاملہ صرف یہ تھا کہ اس وقت تک سکندر رضا کے پاس شہریت حاصل نہیں تھی، جو انھیں ستمبر 2011 میں حاصل ہوگئی۔ اس وقت تک سکندر رضا نے ایک اور قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، میٹا بیلیلینڈ ٹسکرس کے خلاف سدرن راکس کے لیے صرف 48 گیندوں پر 93 رنز بنائے۔

اکتوبر 2018 میں سکندر رضا کو مزانسی سپر لیگ T20 ٹورنامنٹ کے پہلے ایڈیشن کے لیے تشوانے اسپارٹینس کے اسکواڈ میں نامزد کیا گیا، اسی مہینے کے آخر میں انہیں 19-2018- بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے بعد چٹاگانگ وائکنگز ٹیم کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ جولائی 2019 میں سکندر رضا کو یورو T20 سلیم کرکٹ ٹورنامنٹ کے افتتاحی ایڈیشن میں ایمسٹرڈیم نائٹس کے لیے منتخب کیا گیا۔ کسی وجہ سے اگلے مہینے ٹورنامنٹ منسوخ کر دیا گیا۔ جولائی 2020 میں انہیں 2020 کیریبین پریمیئر لیگ کے لیے ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ دسمبر 21-2020 میں سکندر رضا کو لوگان کپ میں سدرن راکس کے لیے منتخب کیا گیا۔

سکندر رضا نے مئی 2013 میں بنگلہ دیش کے خلاف زمباوے کے لیے اپنا پہلا یک روزہ میچ کھیلا اور تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے صرف تین رنز بنائے۔ اس طرح وہ فارمیٹ میں زمباوے کی جانب سے کھیلنے والے 116ویں کھلاڑی بن گئے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر زمباوے کی نمائندگی کرنے والے پہلے غیر رہائشی کھلاڑی بھی بن گئے۔ ہندوستان کے خلاف سکندر رضا نے 112 گیندوں پر 6 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 82 رنز بنائے۔ 2013 میں ہندوستان کے خلاف پانچ میچوں کی اہم دو طرفہ یک روزہ سیریز کے پہلے میچ میں 82 رنز بنائے جو کہ ان کا صرف چوتھا یک روزہ میچ تھا۔ انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ 3 ستمبر 2013 کو کھیلا اور پاکستان کے خلاف ہرارے اسپورٹس کلب میں اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں 60 رنز بنائے۔ جس میں انہوں نے میلکم والر کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 127 رنز کی شراکت قائم کی۔ جس کی وجہ سے میزبان ٹیم کو برتری کے راستے ہموار ہو گئے۔ اپنے پہلے ٹیسٹ میں ہی نصف سنچری بنانے کے باوجود زمباوے کے کپتان برینڈن ٹیلر کی ٹیم میں واپسی پر سکندر رضا کو ٹیم سے باہر رکھا گیا۔

سکندر رضا نے اپنا پہلا ٹی20، 5 نومبر 2013 کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا۔ سکندر رضا اپنے پہلے T20 میچ میں نصف سنچری بنانے والے سب سے کم عمر کھلاڑی کا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے یہ کارنامہ اس وقت حاصل کیا جب ان کی عمر صرف 17سال اور کچھ مہینے تھی۔ انہوں نے جولائی 2014 میں افغانستان کے خلاف اپنی پہلی یک روزہ سنچری بنائی، بیٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے زمباوے کو افغانستان کے خلاف آٹھ وکٹوں سے فتح دلانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے یک روزہ میچ میں بلے بازی کرتے ہوئے 141 رنز کے تعاقب میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور کرنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ یک روزہ میچوں کی تاریخ کے طور پر ان دونوں نے ابتدائی وکٹ کے لیے 224 رنز جوڑے جس سے رنز کا تعاقب بہت آسان ہو گیا تھا۔

سکندر رضا 2015 کرکٹ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے لیے زمباوے کے اسکواڈ کا حصہ تھے۔ اگرچہ بلے بازی کے ساتھ ان کی ورلڈ کپ کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں تھی، لیکن اس وقت سکندر رضا کو گیند بازی کا موقع ملا۔ انھوں نے کفایتی گیند بازی کے ذریعے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ سکندر رضا کو 2015 میں ہندوستان کے دورہ زمباوے کے دوران دوسرے T20 میں اسٹینڈ ان کپتان نامزد کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے 2012 میں ڈومیسٹک کرکٹ میں میش ایگلز کے لیے چار بار کپتانی کے فرائض کو انجام دے چکے تھے۔ انھوں نے زمباوے کے اس دورے کی پہلی جیت میں 10 رنز سے شکست دی تھی۔

17-2016 زمبابوے سہ فریقی سیریز کے دوران انھوں نے ٹینڈائی چسورو کے ساتھ مشترکہ طور پر زمباوے کے لیے یک روزہ کرکٹ میں 9ویں وکٹ کی سب سے بڑی شراکت داری کرتے ہوئے ناقابل شکست 91 رنز جوڑ کر زمباوے کو 127 کے بہترین اسکور کے ساتھ 218/8 کے معقول اسکور تک پہنچا دیا۔ یہ شراکت آخر میں اہم تھی کیونکہ زمباوے نے D/L طریقہ کار میں ویسٹ انڈیز کو 5 رنز سے شکست دی تھی۔ سکندر رضا نے 103 گیندوں پر 76 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ سکندر رضا کی میچ جیتنے کی صلاحیت 2017 میں سری لنکا کے دورہ زمباوے کے دوران سامنے آئی۔ انہوں نے زمبابوے کو آخری ون ڈے جیت کر سیریز 3-2 سے اپنے نام کرنے میں رہنمائی کی۔

سری لنکا کے خلاف ان کی پہلی سیریز جیت تھی۔ 2009 کے بعد یہ ان کی پہلے دورہ کی سیریز جیت تھی۔ یہ گھر سے دور پانچ میچوں کی سیریز میں زمباوے کی بھی پہلی جیت تھی۔ سکندر رضا کو آخری یک روزہ میں میچ جیتنے والی اننگز کے لیے مین آف دی میچ کا ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی دورے میں سکندر رضا نے واحد ٹیسٹ میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری بنائی۔ جس سے زمباوے کو میزبانوں کا پیچھا کرنے کے لیے ایک بہت بڑا چیلینج بھی تھا۔ زمباوے نے 389 رنز کا تعاقب کیا اور ایشیائی سرزمین پر سب سے زیادہ تعاقب کرنے کا ریکارڈ بنا کر واحد ٹیسٹ جیتا۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے دوران سکندر رضا نے اپنی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پانچ وکٹوں کے علاوہ سکندر رضا نے دو نصف سنچریاں بھی بنائیں اور دونوں اننگز میں 80 سے زائد اسکور کرنے والے اور پروٹیز جیک کیلس کے بعد پانچ وکٹیں لینے والے دوسرے ٹیسٹ کرکٹر بن گئے۔ ان کی آل راؤنڈ پرفارمنس کی وجہ سے زمباوے میچ ڈرا کرنے میں کامیاب رہا۔ سکندر رضا کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے انھیں مین آف دی میچ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس ڈرا نے زمبابوے کو 12 سالوں میں پہلا ڈرا میچ حاصل ہوا اور 2013 کے بعد پہلی بار 10 ٹیسٹ میچوں میں شکست بچایا گیا۔

فروری 2018 میں، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سکندر رضا کو 2018 کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ سے پہلے دس کھلاڑیوں میں سے ایک کے طور پر نامزد کیا۔ انہیں کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائرز کے دوران 319 رنز اور 15 وکٹیں لینے پر ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا حالانکہ زمبابوے 2019 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہا تھا۔ جب ان سے کمنٹیٹر پومی مبانگوا نے پوچھا کہ کیا وہ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ سے خوش ہیں، تو انہوں نے یہ کہہ کر شروعات کی کہ” وہ ناخوش ہیں اور اصرار کیا کہ ٹیم نے 15 ملین زمباوے کے دلوں کو توڑا ہے اور دنیا کی دس ٹیموں پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے، کپ جس نے ایسوسی ایٹ ممالک کو سب سے بڑے شو پیس میں مقابلہ کرنے سے روک دیا۔” زمباوے کی 2019 ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکامی کے بعد، ZC بورڈ نے 2018 کی ہوم زمبابوے سہ ملکی سیریز کے لیے سکندر رضا سمیت سائیڈ کے سینئر کھلاڑیوں کو روک کر جارحانہ انداز اپنایا جس میں آسٹریلیا اور پاکستان بھی شامل تھے۔

♦پہلا ٹیسٹ میچ 3 ستمبر 2013 میں پاکستان کے خلاف، پہلا یک روزہ بین الاقوامی میچ 3 مئی 2013 اور پہلا ٹی20 میچ 11 مئی 2013 میں بنگلہ دیش کے خلاف۔

♦سکندر رضا نے 17 ٹیسٹ میچوں میں 1187 رنز بنائے۔ جس میں ایک سنچری اور 8 نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین اسکور 127 رنز۔ اس کے ساتھ گیند بازی میں 34 وکٹیں اور دو مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کا ریکارڈ۔ بہترین گیند بازی 113 رنز پر ساتھ وکٹوں کو نشانہ بناتے ہوئے پانچ کیچیز بھی لیے۔
♦ یک روزہ ۱۲۳؍ میچوں میں 3656 رنز بنائے جس میں چھ سنچریاں اور 20 نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین کارکردگی 141 رنز۔ گیند بازی میں 70 وکٹیں۔ بہترین گیند بازی 21 رنز پر تین وکٹوں کو نشانہ بناتے ہوئے 51 کیچیز لیے۔

♦ 61 ٹی20 میچوں میں 1176 رنز چھ نصف سنچریاں۔ بہترین کارکردگی رہی 87 رنز۔ گیند بازی میں 33 وکٹیں، بہترین گیند بازی رہی آٹھ رنز پر چار وکٹیں اور 28 بیش قیمتی کیچیز۔

♦ 66 فرسٹ کلاس میچوں میں 4363 رنز جس میں سات سنچریاں اور 23 نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین کارکردگی رہی 226رنز۔ گیند بازی میں 77 وکٹیں دو مرتبہ پانچ وکٹیں بہترین گیند بازی رہی 113 رنز پر سات وکٹوں کو نشانہ بناتے ہوئے بہترین 51 کیچیز۔

====

سلام بن عثمان

متعلقہ خبریں

Back to top button