دھنی پورمسجد:انتظامیہ نے دوبہنوں کے دعوؤں کی تردید کی
ایودھیا:(اردودنیا.اِن)اجودھیا میں مجوزہ مسجد کا ڈیزائن تیارہے ۔ اسے انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن نے جاری کیاہے۔ایودھیاکے ضلعی انتظامیہ نے دہلی کی دوبہنوں کے دعوؤں کی تردید کی ہے جو دھنی پور گاؤں میں مسجد کی تعمیرکے لیے مختص 5 ایکڑ اراضی پر اپنے حقوق کی دعویدار ہیں۔ جمعہ کے روز افسر ، چکبندی راجیش کمار پانڈے نے کہاہے کہ دونوں بہنوں کے حوالے سے تنازعہ الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ میں درج کیا گیا ہے ، وہ شیر پور جعفر گاؤں کا ہے ، دھنی پور سے نہیں۔
سماعت کے دن سارے ثبوت عدالت میں رکھے جائیں گے۔بابری مسجد تنازعہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے دھنی پور گاؤں میں ایودھیا میں اتر پردیش سنی مرکزی وقف بورڈ کو ایک مسجد بنانے کے لیے 5 ایکڑ اراضی الاٹ کی ہے۔ جس پر ہند اسلامی ثقافتی فاؤنڈیشن ، جس نے 26 جنوری کومسجدکی تعمیر کاسنگ بنیادرکھاہے اور پودوں اور پرچم کشائی کرکے تعمیراتی کام کا آغاز کیا ہے۔
اس پرمسلمانوں کاسواداعظم کوئی دل چسپی نہیں لے رہاہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈاورجمیعۃ علمائے ہندنے صاف کہاہے کہ یہ وقف ایکٹ کے خلاف بھی ہے۔غیرقانونی بھی ہے اورغیرشرعی بھی ہے۔اندازہ ہے کہ اس پربکھیڑاکھڑاکیاجاتارہیگا۔جیساکہ سنگ بنیادکے ساتھ ہی عدالت میں کیس داخل کردیاگیاہے۔
دہلی کی 2 بہنوں نے 29 سرکاری اراضی میں سے 5 ایکڑ دعویٰ کیا ، ہائی کورٹ میں درخواست دائرسیٹلمنٹ آفیسر چکبندی راجیش کمار پانڈے نے کہاہے کہ دھنی پور میں الاٹ شدہ اراضی متنازعہ نہیں ہے۔



