قومی خبریں

متھرا شاہی عیدگاہ تنازعہ: ہندو مہاسبھا نے 6 دسمبر کو شاہی عیدگاہ میں جل ابھشیک کا اعلان کردیا

اعلان میں کہا گیا ہے کہ 6 دسمبر کو 12.00 بجے شاہی عیدگاہ میں پہنچ کر جل ابھشیک کا عمل انجام دیا جائے گا۔ ہندو مہاسبھا کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر حال میں تنظیم کے کارکنان اس کام کو مکمل کر کے ہی مانیں گے

لکھنؤ، 25 نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) متھرا واقع شری کرشن جنم بھومی تنازعہ کے درمیان اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے 6 دسمبر کو متھرا کے شاہی عیدگاہ میں لڈو گوپال کا ’جل ا بھشیک‘ اور ہنومان چالیسا کا پاٹھ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نجی’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ ویب سائٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ہندو مہاسبھا کے ذریعہ کیے گئے اعلان میں کہا گیا ہے کہ 6 دسمبر کو 12.00 بجے شاہی عیدگاہ میں پہنچ کر جل ابھشیک کا عمل انجام دیا جائے گا۔ ہندو مہاسبھا کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر حال میں تنظیم کے کارکنان اس کام کو مکمل کر کے ہی مانیں گے۔ ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ہندو مہاسبھا خفیہ مقامات پر لگاتار میٹنگیں کر رہی ہے اور ان میٹنگوں میں 6 دسمبر کو لے کر پالیسی پر بھی تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔ہندو مہاسبھا کے ذریعہ کیے گئے اعلان کے بعد انتظامیہ کی نیند اڑ گئی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کے ذریعہ کئی بار ہندو مہاسبھا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس میں انھیں ناکامی ہاتھ لگی ہے۔اس سے قبل گزشتہ سال بھی ہندو مہاسبھا نے 6 دسمبر کو شاہی عیدگاہ مسجد میں لڈو گوپال کا ’جل ابھشیک‘ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس معاملے پر متھرا اور اس کے آس پاس کا ماحول کافی گرم ہو گیا تھا۔ اس وجہ سے 6 دسمبر کو انتظامیہ کے ذریعہ سیکورٹی کا سخت انتظام کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کی مستعدی کی وجہ سے ہندو مہاسبھا گزشتہ سال ’جل ابھشیک‘ کرنے میں ناکام رہی تھی۔

اب تازہ اعلان کے بعد ایک بار پھر انتظامیہ کی فکر میں اضافہ ہو گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہندو تنظیم آل انڈیا ہندو مہاسبھا لگاتار شاہی عیدگاہ مسجد کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس نے متھرا کورٹ میں کئی عرضیاں بھی داخل کر رکھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد کو کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔ فی الحال یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button