قومی خبریں

ایم سی ڈی انتخابی مہم,سیاست میں صرف اسی کو سنا جاتا ہے جس کا نمائندہ چنا جاتا ہے : اسد الدین اویسی

اویسی نے کہا کہ بی جے پی اور کجریوال کے درمیان خفیہ معاہدہ ہے۔ بی جے پی بڑا بھائی ہے اور کجریوال چھوٹا بھائی ہے۔

نئی دہلی، 27نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مجلس اتحاد المسلمین دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے انتخابات میں بھی پوری طاقت لگا رہی ہے۔ پارٹی کے صدر اسد الدین اویسی آج راجدھانی میں مسلم اکثریتی علاقوں اوکھلا وغیرہ میں 6 جلسے کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران یہاں لوگوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ہندوستانی سیاست میں صرف ان کی بات سنی جاتی ہے، جن کے نمائندے منتخب ہوتے ہیں۔ نعرے بازی اور مظاہروں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ووٹ کا صحیح استعمال کرکے مجلس کو مضبوط کریں۔اویسی نے کہا کہ جس علاقے میں مسلمان، دلت اور آدیواسی رہتے ہیں وہاں ترقی نہیں ہو رہی ہے۔ یہ ترقی اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ یہاں مسلمان اور دلت رہتے ہیں۔ یہ تینوں جماعتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ نچلی سطح کے لوگ بھی سیاسی رہنما بنیں۔ آپ نے برسوں کانگریس کو ووٹ دیا، پھر عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا، لیکن اس کے عوض میں آپ کو کیا ملا؟ آپ کی قیادت کہاں ہے؟ آپ عام آدمی پارٹی کو جتواتے ہیں، لیکن وہ ایم ایل اے گونگے ہو جاتے ہیں۔

اے آئی ایم آئی ایم کے صدر نے کہا کہ جب کرونا آیا تھا، توتبلیغی جماعت پر سب سے پہلے الزام لگایا گیا تھا۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے بھی تبلیغی کا الزام لگاکر تبلیغی جماعت کو بدنام کیا۔ کرونا کی فہرست میں تبلیغی جماعت کی الگ فہرست بنائی گئی۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اس کے لیے پوری طرح ذمہ دار ہے۔اویسی نے کہا کہ میں اشتعال انگیز تقریر نہیں کر رہا،بلکہ حقائق بیان کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب دہلی میں فسادات ہو رہے تھے، اس وقت دہلی کے وزیر اعلیٰ راج گھاٹ جاتے تھے اور آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاتے تھے۔ جب شاہین باغ کا احتجاج ہو رہا تھا تو دہلی کے وزیر اعلیٰ کہاں تھے۔اویسی نے کہا کہ بی جے پی اور کجریوال کے درمیان خفیہ معاہدہ ہے۔ بی جے پی بڑا بھائی ہے اور کجریوال چھوٹا بھائی ہے۔

آپ دہلی کا خیال رکھیں، ہم ملک کو دیکھیں گے۔ ہمارا امیدوار ان تمام مجرموں کو درست کرے گا جو لوگوں کو عادی مجرم بنا رہے ہیں۔ کانگریس کو ہرانے کے لیے ووٹ دیا، پھر آپ کو ووٹ دیا، لیکن پھر بھی بی جے پی جیت رہی ہے۔مجلس کے صدر نے کہا کہ تین طلاق، سی اے اے کا قانون آیا، اخلاق کو مارا گیا، اویسی نے سب کے لیے بات کی، ہم ہر مسئلے پر بولتے ہیں، لیکن ان مسائل پر خاموش رہنے والے لوگ کہتے ہیں کہ اویسی ووٹ کاٹنے آئے ہیں۔اویسی نے کہا کہ بلقیس بانو اور یکساں سیول کوڈ پر وزیر اعلیٰ کی کیا رائے ہے؟اگر پوچھا جائے تو وہ کہیں گے کہ بی جے پی کو ہرانا ہے، نائب وزیراعلیٰ سے پوچھیں ، تو وہ کہیں گے ہم بلقیس بانو پر نہیں ، اسکول پر بولیں گے۔ان تمام ملی مسائل پر صرف اویسی ہی گفتگو کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button