مسلمانوں کا خون سستا۔کشن باغ فائرنگ ، آلیر انکاونٹر ، مہدی پٹنم مصطفی قتل کی تحقیقات برفدان کی نذر
ایم ایل سی ، ارکان اسمبلی خریدی کے معاملات میں ایس آئی ٹیز کی تحقیقات عروج پر اور گرفتاریاں مسلمان انصاف کے منتظر ، تینوں تحقیقاتی رپورٹس کو منظر عام پر نہیں لایا گیا
حیدرآباد ۔ 28 ۔ نومبر:(محمد نعیم وجاہت) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ ریاست میں تبدیل کرنے تمام طبقات کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھنے اور سب کی یکساں ترقی کا وعدہ کیا تھا ۔ اقتدار حاصل کرنے سے قبل کے سی آر نے تحریک کے دوران تلنگانہ کو انصاف کا پیکر بنانے مسلمانوں اور دلتوں کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کے ازالہ کو یقینی بنانے کے بلند بانگ دعوے کئے تھے لیکن تشکیل تلنگانہ ریاست کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے ان تمام باتوں اور وعدوں کو فراموش کردیا جو حصول ریاست تلنگانہ سے قبل کئے گئے تھے ۔ بلکہ دعوے کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مسلمانوں کے ساتھ شروع ہونے والی ناانصافیوں کا سلسلہ ختم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔
ان 8 سال کے دوران کشن باغ میں ہوئی پولیس فائرنگ ، مہدی پٹنم گیریسن میں مصطفی نامی 11 سالہ لڑکے کا قتل اور آلیر میں پولیس انکاونٹر کی تحقیقات کے لیے حکومت نے تین علحدہ علحدہ اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیموں ( ایس آئی ٹی ) کی تشکیل دی گئی لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان تینوں واقعات کے لیے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹیز کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آئی اور نہ ہی ان رپورٹس کو اسمبلی میں ٹیبل کیا گیا ہے جس سے حکومت کی مسلمانوں کے تئیں ہمدردی اور سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کمیٹیوں نے انہیں جو ذمہ داری پیش کی گئی تھی اس کو بخوبی نبھایا ہے یا نہیں اور ان اسپیشل ٹیموں نے صحیح طریقہ اپناتے ہوئے اس کی تحقیقات کی ہے یا نہیں ۔ اگر تحقیقات مکمل ہوگئی ہے تو کس کو ذمہ دار بنایا گیا ہے اور جو قصور وار ہیں ان کے خلاف کارروائی کے لیے کیا سفارش کی گئی ہے اور جو بے قصور تھے کیا انہیں ایکس گریشیا دینے کی سفارش کی گئی ہے یا نہیں ۔ اس پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔ کشن باغ فائرنگ واقعہ میں اموات ہوئی ہیں ۔ آلیر انکاونٹر میں عدالتی تحویل میں رہنے والے زیر دریافت قیدیوں کی موت واقع ہوئی ہے جو ہتھکڑیوں میں بند ہونے کے علاوہ پولیس کے سخت سیکوریٹی محاصرے میں تھے ۔ مہدی پٹنم میں 11 سالہ معصوم لڑکا مصطفی کا بے رحمانہ قتل کردیا گیا ۔
طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود اس پر حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت عدل و انصاف پر بڑے بڑے دعوے کرتی ہے پھر ان تین واقعات پر خاموش کیوں ہیں ۔ اس کا جواب دینا اور بے قصوروں کو انصاف دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ تلگو دیشم کی جانب سے ٹی آر ایس کے نامزد رکن قانون ساز کونسل کی خریدی کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے تلنگانہ حکومت کی جانب سے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ۔ اس کی منظم انداز میں تحقیقات کی گئی ۔ حال میں ٹی آر ایس کے چار ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوششوں کے خلاف ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی اور اس کی انداز کارکردگی ہمارے سامنے ہیں ۔
دونوں ہی ایس آئی ٹیز نے کیس سے متعلق بیشتر لوگوں کو نوٹس دیا کئی لوگوں سے پوچھ تاچھ اور کئی لوگوں کو جیل بھی بھیجا ہے ۔ لیکن آلیر انکاونٹر ، کشن باغ پولیس فائرنگ اور مصطفی قتل پر تشکیل دی گئی ایس آئی ٹیز نے اس طرح کی تحقیقات نہیں کی جس طرح ارکان اسمبلی ، رکن قانون ساز کونسل کو خریدنے کی تحقیقات کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ۔ ایس آئی ٹیز کررہی ہیں ۔ ایس آئی ٹیز کی تحقیقات میں امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں سے متعلق واقعات میں مسلمانوں کی موت واقع ہوئی ہے ۔ جس کو نظر انداز کیا گیا ۔
منتخب اور نامزد امیدواروں کی خریدی کے معاملے میں گہرائی سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔ زندگیوں سے زیادہ سیاست کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ جس پر ریاست کے مسلمانوں میں مایوسی پائی جارہی ہے ۔ حکومت اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کی عمل آوری کے معاملے میں عہد کے پابند ہونے کا دعویٰ کرتی ہے مگر عمل کے معاملے میں صرف ٹال مٹول کی پالیسی اپناتی ہے ۔ جس کا واضح ثبوت مسلمانوں سے متعلق تشکیل دی گئی ایس آئی ٹیز اور سیاسی معاملات کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹیز کی کارکردگی سے ملتا ہے۔



