سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

تراویح کے طبی فوائد-ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی,بنگلور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق رمضان شریف کی آمد پر آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کردیا جاتا ہے۔

رمضان المبارک کے مہینہ میں عشاء کے فرض اور سنت کے بعد بیس رکعت تراویح سنت مؤکدہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق رمضان شریف کی آمد پر آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کردیا جاتا ہے۔

دوسری روایت میں یہ ارشاد رسول اللہ ﷺ ہے کہ رمضان کی بزرگی کے یقین اور ثواب کی امید پر رمضان شریف میں نفل پڑھنے والے کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اللہ کے عظیم انعامات میں سے ایک بڑا انعام اور جلیل القدر تحفہ مسلمانوںکے واسطے تراویح ہے کہ کم وقت میں پڑھنے پر بڑے اجر کا وعدہ فرمایا گیا۔ ہر وہ مسلمان جو اپنے دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر باضابطہ اور باقاعدہ عبادات انجام دیتا ہے کامیاب وکامران ہے۔ ایک مسلمان آغاز وضو سے لے کر نماز کے دوران جسمانی حرکات یعنی تکبیر ، قیام، رکوع، سجدہ، جلسہ اور سلام سے روحانی اور جسمانی فوائد حاصل کرتا ہے۔

اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں

https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso

رمضان المبارک میں مسلمان روزہ رکھتے ہیں یعنی سحری سے لے کر افطار تک نہ صرف اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں بلکہ جسم کے ایک ایک عضو کو بھی قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سحری سے افطار تک ہر قسم کے خورد ونوش سے پرہیز کرتے ہیں۔ افطار یعنی روزہ کھولنے سے پہلے جسم میں شکر اور انسولین کی سطح انتہائی نچلے درجے پر ہوتی ہے اب ہم کچھ کھاتے ہیں تو شکر کی سطح بتدریج بڑھتی رہتی ہے جو شکر خون میں رقصاں ہوتا ہے وہ جگر اور فضلات میں ذخیرہ ہونے لگتا ہے اور ایک گھنٹہ کے بعد جسم کے خون میں شکر کی سطح کافی بڑھ جاتی ہے اور یہیں سے تراویح کے قواعد شروع ہوجاتے ہیں۔ خون میں دورہ کرتا ہوا گلوکوز (شکر) کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

تراویح ایک ورزش ہے

تراویح انسانی جسم کے لئے ایک ایسی ہلکی پھلکی روحانی ورزش ہے جس سے جسم کے نظام کے ہر عضو پر انتہائی مفید اثرات پڑتے ہیں۔ جسم کے سبھی عضلات اور جوڑ حرکت میں آجاتے ہیں ۔ کچھ عضلات مساوی طور پر پھولتے اور کچھ مساوی دباؤ میں آجاتے ہیں۔ عضلات کی کارکردگی کے لئے توانائی کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے جس سے کسی حدتک آکسیجن اور تغذیہ عضلات میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اس سے خون کی نالیاں کھل جاتی ہیں اور خون تیزی سے دورہ کرنے لگتا ہے۔ دل کی طرف خون زیادہ آسانی سے دورہ کرتا ہے اور اس اہم ترین عضو پر وقتی بوجھ یعنی خون کی سپلائی میں اضافہ ہونے سے اس کے اندرونی عضلات پر مثبت اثرات پڑجاتے ہیں اور اس کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔

تراویح مسلمانوں کے لئے ایک تحفہ ہے

تراویح جو مسلمانوں کے لئے ایک عظیم تحفہ بلکہ رمضان المبارک کا ممتاز تحفہ ہے۔یہ ایک روحانی ورزش بھی ہے جسے باقاعدگی سے انجام دینے والے کی عمر دراز ہوتی ہے ۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزانہ پانچ وقت نماز ادا کرنے سے انسان کے جسم پر بالکل ویسے ہی طبعی اثرات پڑتے ہیںجیسے تین میل فی گھنٹہ پیدل چلنے یا جوکنگ کرنے سے پڑتے ہیں۔ ہاروڈ میں 17000طلباء پر کی گئی ایک ریسرچ کے مطابق دیکھا گیا کہ جو طلباء 1916سے 1950کے دوران کالج میں داخل ہوئے اور ہر روز باقاعدہ تین میل پیدل چلے یا جوکنگ کی وہ نہ صرف تندرست وتوانا رہے بلکہ ان کی زندگیوں کے شب وروز میں اضافہ ہونے کی توقع بھی کی گئی۔

جن طلباء نے ہفتہ وار دو ہزار کلو میٹرپیادہ روی، سائیکل سواری، دوڑ یا جوکنگ کی ان میں ان کے دوسرے ساتھیوں (جنہوں نے کبھی ورزش میں حصہ نہیں لیا)کی نسبت شرح مرگ ایک چوتھائی سے لے کر ایک تہائی کمی دیکھی گئی۔ باقاعدگی سے نمازیں ادا کرنے سے نمازی کے جسم پر مثبت اثرات پڑنے کے علاوہ اسے غیر متوقع جسمانی حرکات انجام دینے میں بھی مہارت حاصل ہوتی ہے جیسے کہ کسی بچے کو اچانک اٹھانا یا راہ چلتے کسی بس میں سوار ہونا یا گھریلو چیزوں کا ادھر اُدھر رکھنا۔ عمر رسیدہ اشخاص کو ان حرکات کی تربیت ضروری ہوتی ہے اس لئے ان کے لئے تراویح ایک ٹریننگ جیسی ہے جسے مرتب ادا کرنے سے وہ جسمانی طور پر چاق وچوبند رہ کر غیر متوقع حرکات انجام دینے کے قابل بن سکتے ہیں۔

تراویح بیماری سے شفا ہے

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مرتب روزہ رکھنے کے علاوہ پابندی سے تراویح پڑھنے سے انسان زندگی کے کسی موڑ پر کسی بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد بہت جلد صحت یاب ہوجاتا ہے۔ عمر کی راہ پر چلتے چلتے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کی طبیعی حرکات میں کمی آجاتی ہے جس کے نتیجہ میں ہڈیاں کمزور اور پتلی ہوجاتی ہیں۔ ان کے حجم میں نمایاں کمی واقع ہوجاتی ہے اور اگر ان کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ہڈیوں کی ایک عام بیماری اوسٹیو پوروسس میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں یہ بیماری مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس بیماری سے بچنے کے لئے غذا میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی وافر مقدار لازمی ہونے کے علاوہ مرتب ورزش بھی ضروری ہے۔

تراویح کے دوران کمزور ہڈیوں پر انتہائی خوشگواراثرات پڑتے ہیں اور اگر کوئی شخص ہڈیوں کی اس بیماری میں مبتلا ہو تو اس کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ اس مبارک ماہ کے دوران باقی نمازوں کے علاوہ تراویح بھی باقاعدگی سے پڑھے اور اپنی کمزور ہڈیوں کو نئی طاقت اور تازگی بخشے۔ عمر رسیدگی کے ساتھ ساتھ جسم کی جلد خشک اور کمزور ہوجاتی ہے اس میں جھریاں پڑ جاتی ہیں اور جسم کے دیگر اہم اعضاء (دل ودماغ) کی کارکردگی پر منفی اثرات پڑنے سے عمر رسیدہ لوگ حادثات وبدنی عوارض کے زیادہ شکار ہوجاتے ہیں۔پنجوقتہ نمازوں اور تراویح میں بار بار مرتب ومنظم طریقے سے کھڑا ہونے، جھکنے اور اٹھنے سے عضلات کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جوڑ کھل جاتے ہیں، خون کے دوران میں تیزی آجانے سے قلب پر مفید اثرات پڑتے ہیں، جلد کا رنگ نکھر جاتا ہے اور نظام قوت مدافعت کے خلیات زیادہ فعال ہوجاتے ہیں۔ اس طرح تراویح ودیگر نمازیں ادا کرنے سے عمر رسیدہ افراد کی زندگی کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے اور وہ چاق وچوبند رہ کر ان دیکھے مشکلات کا مقابلہ کرنے کے ل ئے مستعد ہوجاتے ہیں اور ان کی روز مرہ کی زندگی میں کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے ان کے اعتماد نفس پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔

تراویح کے جسم کے اعضاء پر اثرات

ایڈر انالین ایک ایسا اہم ہارمون ہے جو جسم کے اعضاء کے حرکات کی وجہ سے مترشح ہوکر جسم میں تبدیلیاں لاتا ہے اور یہ غدہ ایڈرینل میں مترشح ہوتا ہے ۔ تراویح اختتام پذیر ہونے کے بعد ایڈرنالین اور نار ایڈر نالین کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ جب انسان کسی بیرونی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو خون میں ایڈر نالین کی سطح بڑھ جاتی ہے، اس سے قلب کی رفتار تیز ہوجاتی ہے، خون کی باریک ترین نالیاں سکڑ جاتی ہیں، آنکھوں کی پتلیاں بڑی ہوجاتی ہیں اور یہ ہارمون جسم کے اندر منابولزم میں ایک ایسی تبدیلی لاتا ہے کہ جسم کسی بھی ایمر جنسی حالت کا مقابلہ کرنے کے لئے مستعد ہوجاتا ہے۔

ذہن میں تراویح پڑھنے کا خیال آنے اور پھر یہ روحانی ورزش انجام دینے سے نظام اعصاب متحرک ہوجاتا ہے جس سے رفتار تنفس وقلب میں واضح تبدیلی اور ہاضمہ کے عمل میں کمی آجاتی ہے اور نالین ہارمون جگر سے ذخیرہ شدہ گلو کوجن کو متحرک کرکے گلوکوز کو آگے تک پہنچاتا ہے، عضلات کی خشکی کو دور کرتا ہے اور پھیپھڑوں کی باریک نالیوں پر مثبت اثرات مرتب کرکے آکسیجن کو جسم کے سبھی حصوں تک پہنچانے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ تراویح کے بعد ان ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہونے سے جسم کے سبھی حصوں پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔

تراویح دل اور جگر کے لئے نفع بخش

تراویح اور باقی نمازوں سے بہت سے اثرات جسم پر پڑتے ہیں۔ اضافی حرارے جلنے سے وزن میں کمی ہوجاتی ہے اور جسم میں جمع شدہ اضافی چربی کم ہونے سے دل اور جگر پر مفید اثرات پڑتے ہیں۔ اگر اس ماہ کے دوران انسان غذا کھانے میں اعتدال سے کام لے اور پھر مرتب نمازیں اور تراویح پڑھے تو کوئی شک نہیں کہ اس کا اضافی وزن کم ہوجائے۔ اضافی وزن کم ہونے سے دل اور جگر کی بہت سی بیماریوں سے نجات ملتی ہے اور انسان ایک فعال زندگی گزار سکتا ہے۔ روزہ رکھنے سے جسم میں گروتھ ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے اور پھر تراویح پڑھنے سے اس میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ہارمون کو لچن بنانے میں اہم رول ادا کرتا ہے اس لئے روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے والوں کی جلد میں جھریاں بہت کم پڑتی ہیںچاہے بوڑھے ہی کیوں نہ ہوجائیں۔

تراویح ذہن کی ورزش

تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ تراویح پڑھنے سے نمازی کے ذہن پرانتہائی خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ روزانہ باقاعدہ ہلکی پھلکی ورزش سے مزاجی کیفیت، خیالات اور برتاؤ پر اچھے اثرات پڑتے ہیں۔ اِس ورزش سے زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے اور انسان اپنے اندر حرارت اور توانائی محسوس کرکے پریشانی، ذہنی دباؤ، کھچاؤ اور افسردگی سے نجات حاصل کرتا ہے چونکہ مزاجی کیفیت میں بدلاؤ آجاتا ہے یادداشت میں تیزی آجاتی ہے اور خود اعتمادی بڑھ جاتی ہے ۔ عمر رسیدہ اشخاص کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔ تراویح کے دوران کلام الٰہی بار بار سننے کی وجہ سے ذہن کو یکسوئی حاصل ہونے سے پراگندہ خیالات سے آزادی ملتی ہے۔

تراویح سے آکسیجن میں بہتری

ہاروڈ یونیورسٹی کے ایک مشہور معروف محقق ڈاکٹر ہر برٹ بنسن نے اپنی ایک تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دوران نماز تراویح قرآنی آیات بار بار سننے اور ذکر الہٰی سے عضلات میں تحرک پیدا ہونے کے علاوہ ذہن برے خیالات سے پاک ہونے کی وجہ سے ایک خاص قسم کا تحرک وجود میں آتا ہے جس سے بلند فشار خون میں واضح کمی نمودار ہونے کے علاوہ جسم میں آکسیجن کی تقسیم میں بہتری سے قلب اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔اس دنیا میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس میں نمازوں اور تراویح میں جسم کے حرکات وسکنات روحانی ورزش کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اگر ایک مسلمان نمازیں اور تراویح باقاعدہ ادا کرتا ہے تو وہ زندگی کے مشکل ترین کام اور بھی بخوبی انجام دینے کے قابل بن جاتا ہے۔اس طرح ایک نمازی کو روحانی اور جسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ تراویح کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایک طرف باربار جسمانی حرکات سے عضلات پر دباؤ پڑتا ہے اور دوسری طرف ذہن ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہوجاتا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران مرتب اور باقاعدہ تراویح پڑھنے سے درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

(۱) اضافی حرارے جل جاتے ہیں۔

(۲) جوڑ کھل جاتے ہیں۔

(۳) مینا بولزم کی رفتار میں سرعت آجاتی ہے۔

(۴) گردش خون پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

(۵) رفتار قلب اعتدال پر آجاتی ہے۔

(۶) دھیان اور غور وخوض کرنے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

(۷) یاد داشت میں بہتری اور عمدگی آجاتی ہے۔

(۸) پریشانی سے چھٹکارا ہوتا ہے۔

(۹) ڈپریشن سے مقابلہ کرنے کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔

(۱۰) بے خوابی سے نجات ملتی ہے۔

(۱۱) جسمانی اور ذہنی دباؤ سے نجات ملتی ہے۔

(۱۲) روح کو پاکیزگی اور تازگی ملتی ہے۔

(۱۳) ظاہری حالت میں نمایاں مثبت تبدیلی ہوتی ہے۔

(۱۴) نظام تنفس اور قلب پر مثبت اثرات پڑنے سے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں مبتلا ہونے کے امکانات میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

(۱۵) ہڈیوں کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات میں کمی ہوجاتی ہے۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے فائدے ہیں جو بڑی کتابوں میں مذکور ہیں۔ امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ اس مبارک مہینہ کی قدر کریں اور روزے اور نماز نیز تراویح سے اس کو مزّین کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

متعلقہ خبریں

Back to top button