سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

فقہ حنفی سے,رمضان المبارک کے ضروری مسائل-حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمیؒ

وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:وہ چیزیں جن سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے اور نہ مکروہ

رسول اکرمﷺ نے روزہ کی فضیلت اور اس کی قدر و اہمیت بیان کرتے ہوئے رشاد فرمایا: آدمی کے ہر اچھے عمل کا ثواب روزہ کے نتیجہ میں سات سوگنے تک بڑھا دیا جاتا ہے، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ روزہ عام قاعدہ اور اصول سے بالا تر ہے در اصل بندہ کی طرف سے یہ میرے لئے ایک تحفہ ہے، ا ور جس طرح چاہوں گا اس کا اجر و ثواب بطور خود عطا کروں گا، میرا بندہ میری رضا کی خاطر اپنی خواہش نفس روک دیتا ہے، اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، لہٰذا میں خود اپنی مرضی کے مطابق اس کی نفس کشی اور پر خلوص قربانی کا صلہ دوںگا۔

روزہ دار کے لئے دو طرح کی مسرتیں ہیں، ایک افطار کے وقت کی مسرت، دوسری جب وہ اپنے مالک و مولیٰ کے حضور میں باریابی کا شرف حاصل کرے گا، روزہ دار کے منھ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زایدہ پیاری اور بہتر ہے، یعنی انسانوں کیلئے مشک کی خوشبو جس قدر عمدہ ہے اللہ تعالیٰ کے نزردیک روزہ دار کے منھ کی بو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے، روزہ دنیا میں نفس و شیطان کے شدید حملوں سے بچاؤ کیلئے اور آخرت میں جہنم کی ہولناکیوں سے تحفظ کے لئے ایک مؤثر ذریعہ اور ایک مضبوط ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اسے چاہیے کہ بیہودہ گوئی اور فحش باتوں سے بچار رہے شور و شغب نہ کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی اس سے گالی گلوچ یا جھگڑے کا برتاؤ کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں ۔(بخاری و مسلم) رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کا تیسرا فرض ہے جو شخص اس کے فرض ہونے کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں رہتا اور جو ا س اہم فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گنہ گار اور فاسق ہے۔

روزہ کی نیت: نیت کہتے ہیں دل سے قصد و ارادہ کو، خواہ زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے، روزہ کیلئے نیت شرط ہے، اگر روزہ کا ارادہ نہ کیا اور تمام دن کچھ کھایا پیا بھی نہیں تو روزہ نہ ہوگا، رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرلینا بہتر ہے ، رات میں اگر نیت نہ کی ہو تو زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک دن میں نیت کرسکتا ہے بشرطیکہ کچھ کھاپیا نہ ہو۔

وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:

(۱) کان اور ناک مین دوا ڈالنا،

(۲) قصداً اپنے اختیار سے منھ بھرقے کرنا

(۳) کلی کرتے وقت حلق میں پانی چلا جانا

(۴) عورت یا کسی مرد کو چھونے و غیرہ سے انزال ہو جانا

(۵) کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادتاً کھائی نہیں جاتی جیسے لکڑی لوہا اور کچے گیہوں کا دانہ وغیرہ

(۶) لوبان یا عود و غیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہونچانا، بیڑی ، سگریٹ اور حقہ پینا

(۷) بھول کر کھا پی لیا، یاد آنے پر یہ خیال کیا کہ اب تو روزہ جاتا رہا پھر قصداً کھا پی لیا

(۸) رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھالی

(۹) دن باقی تھا مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے ، افطار کرلیا۔ان سب چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے مکر صرف قضا و اجب ہوتی ہے۔ کفارہ ادا کرنا لازم نہیں۔

(۱۰) جان بوجھ کر بیوی سے صحبت کرنے یا کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اس صورت میں قضا بھی لازم آتی ہے اور کفارہ بھی ، کفارہ یہ ہے کہ ساٹھ روزے متواتر رکھے بیچ میں ناغہ نہ ہو اگر ناغہ ہوگیا تو پھر شروع سے ساٹھ روزے پورے کرنے پڑیں گے ، اور اگر روزہ کی طاقت نہیں تو پھر ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلادے۔

وہ چیزیں جن سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے اور نہ مکروہ:

(۱) مسواک کرنا (۲) سر یا مونچھوں میں تیل لگانا (۳) آنکھوں میں دوا یا سرمہ ڈالنا

(۴) خوشبو سونگھنا (۵) گرمی یا شدتِ پیاس کی وجہ سے غسل کرنا (۶) کسی قسم کا انجکشن لگوانا

(۷) حلق میں بلا اختیار دھواں یا گرد و غبار یا مکھی و غیرہ کا چلاجانا (۸) کان میں پانی بلا ارادہ چلا جانا

(۹) خود بخود قے آجانا (۱۰) سوتے ہوئے احتلام ( غسل کی حاجت ) ہوجانا

(۱۱) اگر خواب میں یا صحبت کرنے کی وجہ سے غسل کی ضرورت پیش آگئی اور صبح صادق ہونے سے پہلے غسل نہ کیا اور اسی حالت میں روزہ کی نیت کرلی تو روزہ میں کوئی خلل واقع نہیں ہوگا۔

(۱۲) اگر بیوی کے اپنے خاوند یا نوکر کو آقا کے غصہ کا اندیشہ ہو تو کھانے میں نمک چکھ کر تھوک دینا مکروہ نہیں۔

روزہ نہ رکھنے کی اجازت:

(۱) اگر بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو یا مرض کے بڑھ جانے کا شدید خطرہ ہو تو روزہ نہ رکھنا جائز ہے بعد میں اس کی قضا لازم ہے ۔

(۲) اگر عورت حمل سے ہے اور روزہ رکھنے میں بچہ کو یا اپنی جان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو روزہ نہ رکھے، بعد میں قضا کرے

(۳) جو عورت اپنے یا کسی غیر کے بچہ کو دودھ پلاتی ہے اور روزے سے دودھ کم ہوجاتا ہے اور بچہ کو تکلیف پہونچتی ہے تو روزہ نہ رکھے ، بعد میں قضا کرے۔

(۴) شرعی مسافر جو کم از کم ۴۸ میل (تقریباً سوا ۷۷؍ کلو میٹر) سفر کی نیت کرکے کھر سے نکلا ہو۔ اس کے لئے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے، لیکن اگر سفر میں کوئی تکلیف یا دقت نہ ہو تو افضل یہ ہے کہ روزہ رکھ لے اور اگر خود کو یا ساتھیوں کو تکلیف ہو تو پھر روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔

(۵) اگر روزہ کی حالت میں سفر شروع کیا تو اب روزہ کا پورا کرنا ضروری ہے، اگر کچھ کھانے پینے کے بعد یعنی سفر میں تھا، بغیر روزہ کے تھا افطار سے پہلے کسی بھی وقت گھر پہونچ گیا تو اب چاہیے کا افطار تک کھانے پینے سے احتراز کرے،اور اگر ابھی کچھ کھایا پیا نہیں تھا کہ سفر سے آگیا اور ایسے وقت میں آیا جس میں روزہ کی نیت ہوسکتی ہے، یعنی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تو اس پر لازم ہے کہ روزہ کی نیت کرے۔

(۶) اگر کسی کو قتل کی دھمکی دے کر روزہ توڑنے پر مجبور کیاجائے تو اس کیلئے روزہ توڑ دینا جائز ہے، پھر قضا کرے۔

(۷) اگر بیماری یا بھوک پیاس کا اتنا غلبہ ہوجائے کہ کسی مسلمان دیندار ماہر طبیب یا ڈاکٹر کے نزدیک جان کا خطرہ لاحق ہو تو روزہ توڑ دینا صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ واجب ہے ، البتہ اس کی قضا لازم ہوگی

(۸) عورت کیلئے ایام حیض میں اور بچہ کی پیدائش کے بعد جو خون (نفاس) آتا ہے اس کے دوران روزہ رکھنا جائز نہیں، ان دنوں میں روزے نہ رکھے بعدمیں قضا کرے۔

(۹) بیمار، مسافر اور حیض و نفاس والی عورت کیلئے رمضان میں روزے نہ رکھنا اور کھانا پینا جائز ہے، لیکن رمضان المبارک کے احترام کی وجہ سے ان کے لئے لازم ہے کہ سب کے سامنے کھانے پینے سے احتراز کریں۔

روزہ کی قضا: (۱) کسی عذر سے روزہ قضا ہوگیا تو جب عذر جاتا رہے روزہ جلد قضا کرلینا چاہیے، زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں، کیا معلوم کس وقت موت آجائے،قضا روزوں میں اختیار ہے کہ متواتر رکھے یا ایک ایک کر کے رکھے۔

(۲) اکر مسافر سفر سے لوٹنے کے بعد یا مریض تندرست ہوجانے کے بعد اپنی مۃت تک اتنا وقت نہ پائے کہ جس مین قضا شدہ روزے ادا کرسکے تو اس کے ذمہ قضا لازم نہیں، سفر سے لوٹنے اور بیماری سے تندرست ہونے کے بعد جتنے دن ملیں اتنے ہی دن کی قضا لازم ہوگی۔

(۳) اگر کسی نے فوت شدہ روزے قضا کرنے کا وقت پایا، لیکن ابھی تک قضا نہیں کیے تھے کہ موت کا وقت آگیا تو وصیت کرنا ضروری ہے، اگر وصیت کیے بغیر مرگیا تو مناسب ہے کہ اس کے ورثا، ہر روزہ کے بدلے میں ایک کلو ۶۳۳ گرام گندم یا تین کلو ۲۶۶ گرام جو یا ان کی قیمت غریبوں پر صدقہ کریں، اور اگر وہ مرنے والا مال چھوڑ کر مرا ہے اور روزہ کی وصیت کر گیا تو فدیہ ادا کرنا واجب ہے۔

سحری: روزہ دار کو آخر رات میں صبح صادق سے پہلے سحری کھانا مسنون ہے، باعث برکت ہے اور ثواب ہے، آدھی رات کے بعد جس وقت بھی کھائے سحری کی سنت ادا ہوجائے گی مگر آخر رات میں کھانا افضل ہے، اگر مؤذن نے صبح صادق سے پہلے اذان دیدی تو سحری کھانا منع نہیں صبح صادق تک سحری کھانا جائز ہے، سحری سے فارغ ہوکر دل میں روزہ کی نیت کرلینا کافی ہے ، اور اگر زبان سے بھی یہ الفاظ کہہ لے تو زیادہ بہتر ہے ۔ بِصَوْمٍ غَدٍ نَوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانِ (میں آئندہ کل رمضان شریف کے روزہ کی نیت کرتا ہوں)

افطار: آفتاب کے غروب ہوجانے کے بعد افطار میں دیر کرنا مکروہ ہے ہاں جب فضا ابر آلو د ہو دو چار منٹ انتظار کرلینا بہتر ہے۔ویسے تین منٹ کی احتیاط بہر حال کرنی چاہیے۔ کھجور اور خرما سے روزہ افطار کرنا افضل ہے اور کسی دوسری چیز سے افطار کرنے میں بھی کوئی کراہت نہیں، اگر کسی دوسرے کی دی ہوئی چیز سے افطار کرے تو اس سے ثواب کم نہ ہوگا، البتہ اگر یہ چیز حرام یا مشتبہ ہو تو اسے ہر گز قبول نہ کیا جائے، اگر روزہ افطار کرنے اور کھانے پینے کی وجہ سے مغرب کی نماز و جماعت میں دس منٹ کی تاخیر کردی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ افطار کے وقت یہ دعا مسنون ہے: اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ اور افطار کے بعد یہ دعا پڑھے: ذَہَبَ الظَّمْأُ وَ ابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ۔٭

متعلقہ خبریں

Back to top button