سنگین جرائم بشمول عصمت دری کے 404 مجرمین،سزائے موت کی فہرست میں شامل
ممبئی(اردودنیا.اِن)انڈیا میں مختلف ریاستوں کی جیلوں میں ۴۰۴؍قیدی سلاخوں کے پیچھے بند اپنی سانسوں کی گھڑیاں گن رہے ہیں،پروجیکٹ اے ۳۹؍کے مطابق سزائے موت کے زیادہ ترقیدی عصمت دری کے جرم میں ملوث ہیں ۔ سال ۲۰۲۰؍میں ۷۷؍میں سے ۵۰؍قیدیوں کوسزائے موت پانے والے مجرمین کی فہرست میں شامل کیاگیاہے۔گذشتہ ۵؍سالوں میں یہ تعدادسب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ جانکاری دہلی کی ایک ر یسرچ مرکزسے حاصل ہوئی ہےریسرچ مرکزکے مطابق جنسی جرائم کے ۶۵؍فیصدمعاملوں میں ۸۲؍فیصدمعاملات میں کم عمرکے مجرمین شامل ہیں۔صحافی ندھی جیکیب کی سوشل میڈیاپرپوسٹ کردہ تفصیلا ت کے مطابق سزائے موت کے احکامات میں درج مجرمین کی سب سے زیادہ تعداد۵۹؍اترپردیش میں،مہاراشٹرمیں ۴۵۴؍مدھیہ پردیش میں ۳۷؍،آندھراپردیش میں محض دوبتائی گئی ہے۔سال ۲۰۰۰؍ سے سال ۲۰۲۰؍تک ۸؍مجرمین پھانسی پرلٹکائے جاچکے ہیں۔
مہاراشٹرمیں سزائے موت سے متعلق سخت قوانین منظورکئے جاچکے ہیں جسکی روسے جنسی تشددسے متعلق تفتیشی کاروائی کی تکمیل کیلئے۱۵؍ دن، ٹر ا ئل کورٹ میں چارج شیٹ مائل کئے جانےکے بعد۴۵؍دن کی مدت فیصلہ کیلئے مختص کی گئی ہے۔فی الحال مسودہ قانون مہاراشٹرکی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے زیرغورہے۔عالمی سطح پربھارت دنیاکے ۵۶؍ مما لک میں سے ایک ہے جہاں سزائے موت برقراررکھی گئی ہے۔
ان میں امریکہ،جاپان،چین،بنگلہ دیش،پاکستان،ایران،سعودی عرب،عراق،مصراورسنگاپورکے نام قابل ذکرہیں۔سزائے موت ختم کرنے والے ممالک میں برطانیہ،کینیڈا،نیوزی لینڈ،آسٹریلیا،فرانس،جرمنی اورنیپال شامل ہیں۔غیرممالک میں چین میں سزائے موت پانیوالے مجرمین کی تعدادسب سے زیادہ ہےاسکے بعدایران ،سعودی عر ب ، عراق،مصرمیں باالترتیب یہ تعدادریکارڈکی گئی ہے۔