شوہر کو کنٹرول کرنے کا طریقہ اور شریعت مطہرہ✍️محمد مصطفی علی سروری
پون کی بیوی نے بادل شرما کو تقریباً 60 لاکھ روپئے کی رقم ادا کی تھی اور نجومی جادوگر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایسا جادو کردے کہ اس کا شوہر پوری طرح سے اس کے قابو میں آجائے اور اس کے اشاروں پر ناچے۔
black magic for love جیسے جیسے اکتوبر کا مہینہ قریب آرہا تھا پون کمار کی فکریں بڑھتی جارہی تھیں۔ پون کمار بنیادی طور پر ایک بزنس مین تھا۔ اندھیری، ممبئی کے رہنے والے اس صنعت کار کی کمپنی میں کئی لوگ ملازمت کرتے تھے۔ کرونا کی وباء میں سب کی طرح پون کمار کے کاروبار پر بھی منفی اثر پڑا تھا اور منافع تو دور وہ اپنے ورکرس کی تنخواہیں دینے کے لیے پریشان تھا لیکن آج دو برس بعد صورت حال رفتہ رفتہ معمول پر لوٹ رہی تھی۔ پون اپنے ملازمین کی تنخواہیں تو وقت پر دے رہا تھا، مگر اس مرتبہ ملازمین نے واضح کردیا تھا کہ وہ لوگ اس برس دیوالی کے موقع پر بونس چاہتے ہیں۔
پون نے بہت پہلے ہی سونچ لیا تھا کہ وہ اس برس دیوالی پر اپنے ملازمین کو مایوس نہیں کرے گا اور انہیں اچھی خاصی رقم بونس کے طور پر دے گا لیکن پون نے کمپنی میں کسی کو بھی نہیں بتلایا کہ وہ بونس دینے جارہا ہے۔ یہاں تک کہ کمپنی کے اکائونٹنٹ کو بھی معلوم نہیں تھا۔ کیونکہ پون کمپنی سے کیاش لے کر اس کو کئی دنوں سے اپنے گھر کی تجوری میں محفوظ کرتا جارہا تھا۔
پون شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ تھا۔ اس کی بیوی عمر میں صرف ایک سال چھوٹی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر اپنے گھر میں کیاش جمع کر رہا ہے۔ کسی بھی دوسرے شخص کو کچھ نہیں معلوم تھا۔ اس برس دیوالی 24؍ اکتوبر 2022ء پیر کے دن تھی اور پون چاہتا تھا کہ 20؍ اکتوبر تک وہ اپنی کمپنی کے ملازمین میں بونس کی رقم تقسیم کردے۔
لیکن 18؍ اکتوبر منگل کے دن پون کو اچانک معلوم پڑتا ہے کہ اس کے اپنے گھر میں چوری ہوگئی ہے اور چور نے گھر سے اس کی نقد رقم کے علاوہ اس کی بیوی کے زیورات چوری کرلیے ہیں۔
قارئین کرام گھر میں چوری کی اس واردات پر صنعتکار نے مجبوراً پولیس میں شکایت درج کروادی۔ چوری کی شکایت ملنے کے بعد ممبئی پولیس نے تحقیقات شروع کردی۔ اخبار ہندوستان ٹائمز کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق جو سچائی سامنے آئی وہ پون کمار کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی۔ کیوں کہ پولیس نے 35 لاکھ روپئے نقد اور زیورات چوری کرنے کے الزام میں کسی اور کو نہیں بلکہ پون کمار کی اپنی بیوی کو ہی گرفتار کرلیا اور پولیس کے حوالے سے مختلف تفصیلات اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق 13 برس قبل پون کمار کی بیوی نے اپنے شوہر سے بے وفائی کرتے ہوئے ایک اور نوجوان کے ساتھ تعلقات استوار کرلیے تھے لیکن پولیس کے مطابق یہ تعلقات اب باقی نہیں رہے بلکہ ختم ہوگئے لیکن پون کمار کی بیوی کی گرفتاری جس نقد رقم کی چوری کرنے کے الزام میں ہوئی وہ رقم پون کی بیوی نے چوری کر کے بادل شرما نامی ایک شخص کو دے دی تھی۔ اب یہ بادل شرما کون ہے تو اس کا سوال کا جواب اخباری اطلاعات کے مطابق بادل شرما ایک نجومی ہے جو لوگوں سے پیسے لے کر کالا جادو بھی کرتا ہے۔
پون کی بیوی نے بادل شرما کو تقریباً 60 لاکھ روپئے کی رقم ادا کی تھی اور نجومی جادوگر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایسا جادو کردے کہ اس کا شوہر پوری طرح سے اس کے قابو میں آجائے اور اس کے اشاروں پر ناچے۔
پولیس کے حوالے سے اطلاعات میں بتلایا گیا کہ پون کی بیوی کو انسٹاگرام کے ذریعہ اس نجومی جادوگر کے بارے میں پتہ چلا تھا تو اس خاتون نے انسٹاگرام کے ذریعہ ہی جادوگر سے رابطہ کیا اور پھر اپنی خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے شوہر کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتی ہے۔ جادوگر نے کہا کہ وہ ایسا جادو جانتا ہے جس کی مدد سے شوہر کو قابو میں کیا جاسکتا ہے۔ جب اس کام کے لیے لاکھوں کی رقم طلب کی گئی تو پون کی بیوی نے اپنے ہی گھر میں رکھے پون کے نقد روپیوں اور تجوری میں رکھے اپنے ہی زیورات جادوگر کو دے دیئے اور مطالبہ کیا کہ جادوگر کالے جادو کی مدد سے اس کے شوہر کو اس کا مطیع اور فرمانبردار بنادے۔
بادل شرما جادوگر نے تو دعویٰ کیا اس نے ایسا کالا جادو کیا ہے کہ اب پون اپنی بیوی کا غلام بن جائے گا اور جو بیوی کہے گی وہی کرے گا۔
قارئین کرام کیا یہ کہانی ختم ہوگئی۔ DNA India کی 13؍ نومبر کی رپورٹ کے مطابق جب پون کو پتہ چلا کہ اس کے گھر کے لاکر میں رکھی ہوئی 35 لاکھ نقد رقم چوری ہوگئی تو اس نے پولیس میں شکایت درج کروادی اور خود اپنی ہی بیوی پر شک کا اظہار کیا کہ اس کا کسی اور مرد کے ساتھ معاشقہ ہے۔ پولیس نے تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ کہ پون کی بیوی نے اب دوسرے شخص کے ساتھ اپنے معاشقہ کو تو ختم کردیا ہے اور اپنے ہی گھر سے اپنے شوہر کی رقم اور خود اپنے زیورات کو چوری کر کے بادل شرما نام کے ایک نجومی جادوگر کے حوالے کردیا۔ پولیس اب سارے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
قارئین کیا یہ ایک اکلوتا ایسا واقعہ ہے کہ ایک بزنس مین کی بیوی نے اپنے شوہر کو کنٹرول کرنے کے لیے اس پر کالا جادو کروانے کی کوشش کی؟ جی نہیں اور سب سے اہم بات کیا کالا جادو کرنے یا جادو ٹونا کرنے کا مسئلہ دیگر برادران وطن تک ہی محدود ہے تو اس کا تکلیف دہ جواب یہ ہے کہ نہیں۔ خود مسلم سماج میں بہت سارے مرد و خواتین ہیں جو غیر شرعی، غیر اسلامی طریقۂ کار کے ذریعہ سے اپنے شوہر اپنے داماد کو اپنا مطیع اور فرمانبردار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حال ہی میں ریاست تلنگانہ کے جگتیال ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کی کال ریکارڈنگ خوب وائرل ہوگئی جو ایک خاتون کو شریعت کے دائرہ میں رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے غیر اسلامی، غیر اخلاقی اور بے ہودہ بلکہ شرمناک کاموں کے ذریعہ دھوکہ دینے کا منصوبہ بنارہا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ایک مسلم شادی شدہ خاتون اس بات سے پریشان تھی کہ اس کا شوہر اس کو چھوڑ کر کسی دوسری خاتون میں دلچسپی لے رہا تھا۔ یہاں تک کہ مذکورہ شخص اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں سے بھی بے اعتنائی برت رہا تھا۔ اپنے شوہر کی بے رخی سے پریشان مسلم خاتون کسی طرح ایک عامل سے رابطہ میں آتی ہے جو اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایسے طریقہ علاج سے واقف ہے جو شریعت اسلامی میں جائز ہے۔
کیا یہ عامل واقعی شریعت کی روشنی میں علاج کر رہا تھا۔ افسوس تو اس بات کا ہے اسلامی طریقے علاج کے نام پر شیطان کا یہ چیلہ خاتون کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کے لیے کوشاں تھا۔ گائوں دیہات کی مسلم خاتون پریشانی کی حالت میں اس مسلم عامل سے رجوع ہوکر درخواست کرتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو غیر عورت سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے۔
اب یہ نام نہاد مسلم عامل مسلم خاتون کی پریشانی کا فائدہ اٹھاکر اس کو اسلامی طریقہ علاج کرنے اور پریشان حال عورت کو اس کا شوہر واپس دلانے کے لیے جو طریقہ بتلاتا ہے وہ غیر اسلامی، غیر اخلاقی بے ہودہ بلکہ نہایت شرمناک تھا۔
نام نہاد عامل مسلم خاتون کو رات 12 بجے تنہائی میں اپنے مخصوص عمل کی دعوت دیتے ہوئے اس کو علاج میں کامیابی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے بے حیائی کے کاموں کی دعوت دیتا ہوا پکڑا گیا اور تفصیلات کے مطابق مذکورہ دھوکہ باز عامل فی الحال پولیس کی حراست میں اپنے انجام کا انتظار کر رہا ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جادو ٹونا کروانے کا مسئلہ ایسا بھی سنگین نہیں کہ اس پر قلم اٹھایا جائے یا تو جہ دی جائے تو وہ ذرا اسی برس ماہ اگست کی اس خبر پر ضرور توجہ مرکوز کریں جو پڑوسی ریاست آندھرا پردیش سے موصول ہوئی تھی۔
ہندوستان ٹائمز تلگو ویب سائٹ پر 7؍ اگست 2022 کو شائع شدہ خبر کے مطابق یہ واقعہ ریاست آندھرا پردیش کے این ٹی آر ڈسٹرکٹ کا ہے جہاں پر اپنے شوہر کے انتقال پر غم سے نڈھال خاتون کو ایک عامل نے یقین دلادیا کہ وہ اگر بھاری رقم کا انتظام کرے تو اس کے مرے ہوئے شوہر کو وہ عامل جادو کے ذریعہ دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔
خبر کی تفصیلات کے مطابق تین مہینے قبل بیماری کے سبب ایک شخص فوت ہوجاتا ہے۔ اپنے شوہر کے غم میں نڈھال بیوہ خاتون کو کسی کے ذریعہ جادوگر کا پتہ چلتا ہے اور قارئین یہ بیوہ خاتون جادوگر کی باتوں کا یقین کرلیتی ہے کہ اس کا شوہر بیماریوں سے نہیں بلکہ سانپ کے کاٹنے سے مرا ہے اور جادوگر ایک خاص عمل کو انجام دیتے ہوئے سانپ کے زہر کا توڑ پیدا کرسکتا ہے۔
جس کے بعد خاتون کے مردہ شوہر کے جسم میں جان واپس آسکتی ہے۔ پانچ ہزار روپئے لے کر جادوگر ابتدائی عمل کرتا ہے۔ پھر حاتون کو آگاہ کرتا ہے کہ وہ تو اس فیلڈ میں نیا ہے لیکن اس کے استاد کے ہاں وہ عمل ہے جو مردوں میں جان ڈال سکتا ہے۔
کسی اور صدی کی نہیں بلکہ اسی صدی اسی برس کے کچھ مہینے پہلے کی یہ خبر ہے جہاں پر ایک خاتون اپنے مردہ شوہر کو دوبارہ زندہ کروانے کے لیے ایک جادوگر عامل کے پاس 20 ہزار روپئے کی رقم بھی جمع کروادیتی ہے۔ لیکن سوائے خدائے تعالیٰ کی ذات کے دنیا کی کوئی طاقت نہ تو کسی کو زندہ کرسکتی ہے اور نہ ہی کوئی نفع و نقصان پہنچا سکتی ہے۔
قارئین اس سارے واقعہ کی دلچسپ بات جو نوٹ کی جانی چاہیے کہ گائوں والے اس نقلی عامل جادوگر کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیتے ہیں جب انہیں اس کے کالے کرتوت کا پتہ چلتا ہے لیکن پولیس بھی اس جادوگر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرپاتی کیوں کہ مذکورہ بیوہ خاتون عامل کے خلاف پولیس میں شکایت کرنے سے منع کردیتی ہے۔ اس سے بھی ہمارے سماج میں خواتین کی ذہنیت کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔
اس سارے پس منظر میں اس بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔یقینا شیطان انسان کا ازل سے دشمن ہے جب مذہب اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو یقینا شریعت محمدیؐ کی روشنی میں روحانی مسائل کا شیطانی وسوسوں کا شرارتوں کا بھی حل موجود ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مساجد کے منبران سے جمعہ کے خطابات میں مسلمانوں کے اجتماعات میں امت مسلمہ کے سماجی، معاشی، معاشرتی مسائل کا شریعت مطہرہ کی روشنی میں حل کے لیے بھی رہنمائی اور رہبری بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہے۔ یقینا بہت سارے معاشرتی مسائل کو لے کر ہماری خواتین نام نہاد عاملوں سے رجوع ہوکر خلاف دین، خلاف شریعہ حرکات کا ارتکاب کر بیٹھتی ہیں۔
شادیوں میں تاخیر کا مسئلہ ہے، جلد سے جلد روزگار سے جڑنے کی خواہش ہو، شوہر کا بیوی سے بے رخی برتنا ہو یا خلاف شریعہ اعمال کا مرتکب ہونا، کاروبار میں بے برکتی کا ہونا، کاروبار اور زندگی میں ناکام ہونا۔ گھروں سے برکت کا چلاجانا، اولاد کا نافرمان ہونا، شوہر کی دوسری شادی کے لیے بیوی کو طلاق دینے کی دھمکی یہ اور ایسے ہی بے شمار مسائل کو لے کر اللہ کے بندے پریشان بھی رہتے ہیں اور جعلی شرعی علاج کا دھوکہ بھی کھاتے ہیں۔ ایسے میں با علم، با عمل شریعت مطہرہ کی روشنی میں کیے جانے والے علاج، معالجے کے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہی کروانے کی ضرورت ہے۔




