قومی خبریں

موربی حادثہ : پی ایم کو بدنام کرنے کے الزام میں ٹی ایم سی ترجمان ساکیت گوکھلے گرفتار

رات گئے 2 بجے انہوں نے اپنی والدہ کو فون پر گرفتاری کی اطلاع دی۔ یہ بھی بتایا کہ گجرات پولیس انہیں احمد آباد لے جا رہی ہے۔

saket gokhale tmc نئی دہلی،6دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قومی ترجمان اور ممتا بنرجی کے قریبی ساکیت گوکھلے کو گجرات پولیس نے پیر کے دروز راجستھان کے جے پور ہوائی اڈے سے گرفتار کر لیا۔ گوکھلے پر موربی پل حادثہ کے بعدپی ایم مودی کے متعلق جھوٹی خبر پھیلانے کا الزام ہے۔گرفتاری کی اطلاع ان کی پارٹی کے ساتھی اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن نے دی ہے۔ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک اوبرائن نے بتایا کہ ساکیت گوکھلے پیر کی رات 9 بجے نئی دہلی سے فلائٹ لے کر جے پور پہنچے تھے۔ گجرات پولیس نے انہیں وہاں اترتے ہی گرفتار کر لیا۔ رات گئے 2 بجے انہوں نے اپنی والدہ کو فون پر گرفتاری کی اطلاع دی۔ یہ بھی بتایا کہ گجرات پولیس انہیں احمد آباد لے جا رہی ہے۔پارٹی کے مطابق گرفتاری کے فوراً بعد انہیں 2 منٹ تک کال کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد موبائل سمیت تمام ان کا سامان ضبط کر لیا گیا۔

ڈیرک اوبرائن نے کہاکہ موربی پل حادثے کے حوالے سے احمد آباد سائبر سیل میں ساکیت گوکھلے کے خلاف فرضی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ سب آل انڈیا ترنمول کانگریس اور اپوزیشن کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتا۔ڈیرک نے بی جے پی پر انتقامی سیاست کا بھی الزام عائد کیا۔ٹی ایم سی کے ترجمان ساکیت گوکھلے نے یکم دسمبر 2022 کو دعویٰ کیا تھا کہ پل گرنے کے سانحہ کے بعد وزیر اعظم مودی کے گجرات میں موربی کے دورے کے انتظامات پر 30 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔

گوکھلے نے ٹوئٹر پر ایک گجراتی اخبار کی کلپنگ پوسٹ کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک آر ٹی آئی کے جواب میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے چند گھنٹوں کے موربی کے دورے کے کے لیے 30 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے گوکھلے نے دعویٰ کیا کہ خالصتاً 5.5 کروڑ روپے ’استقبال، ایونٹ مینجمنٹ اور فوٹوگرافی کے لیے تھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مودی کے ایونٹ مینجمنٹ اور پی آر کی قیمت 135 لوگوں کی جانوں سے زیادہ ہے، کیونکہ سانحہ کے 135 متاثرین کے خاندانوں میں سے ہر ایک کو 4 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا دی گئی تھی، جس کی کل رقم 5 کروڑ روپے تھی۔اس کے بعد کئی ٹوئٹر صارفین نے اس کلپ کو شیئر کیا۔ تاہم گجرات بی جے پی نے کہا ہے کہ یہ جعلی خبر ہے۔ ایسی کوئی آر ٹی آئی داخل نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی آر ٹی آئی کو ایسا کوئی جواب دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button