دلچسپ خبریںسرورق

بہار سمستی پور،42 سالہ ٹیچر کو 20 سالہ طالبہ سے محبت ہو گئی، دونوں نے شادی کرلی

متوکناتھ-جولی کی محبت کی کہانی سال 2006 میں منظر عام پر آئی تھی۔

 سمستی پور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بہار کے سمستی پور میں استاد نے اپنی ہی طالبہ سے شادی کر لی۔ اس شادی نے ملک کے لوگوں کو متوکناتھ اور جولی کی محبت کی کہانی یاد دلائی۔ 20 سالہ شویتا انگلش کوچنگ کے لیے گھر سے تھوڑی دور واقع کوچنگ سینٹر جاتی تھی۔اس معاملے کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ شویتا کماری روزڈا بازار میں واقع سنگیت کمار کی کوچنگ میں انگریزی پڑھنے آتی تھی۔ وہیں دونوں کی محبت کی کہانی شروع ہوئی۔ پھر دونوں نے شادی کر لی۔ بعد میں اسے قانونی شناخت دلانے کے لیے انھوں نے کورٹ میرج کر لی۔ دونوں روزڈابازار کے رہائشی ہیں۔ دونوں گھر کا فاصلہ تقریباً 800 میٹر ہے۔ استاد کی بیوی کا کئی سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔اس نے دوسری شادی بھی نہیں کی۔سنگیت کمار اپنی بیوی کی موت کے بعد تنہائی کی زندگی گزار رہا تھا۔ دوسری جانب طالبہ شویتا رانی اپنے والدین کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتی ہے۔

سنگیت کمار (42) اور شویتا (20) کی برسوں سے چلی آ رہی محبت کی کہانی اس وقت منظر عام پر آئی جب شویتا کی ماں وینا رانی نے روسڈا پولیس اسٹیشن میں اپنی بیٹی کی گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔طالبہ کی والدہ وینا رانی نے درخواست میں کہا کہ ان کی بیٹی معمول کے مطابق ٹیچر سنگیت کمار کے ساتھ ٹیوشن پڑھنے گھر سے نکلی تھی، لیکن جمعرات کو گھر واپس نہیں آئی۔ پولیس حرکت میں آئی تو سنگیت کمار -شویتا بھی تھانے پہنچ گئے اور ایک دوسرے سے شادی کرنے اور زندگی بھر ساتھ رہنے کی بات کی۔ اس کے کچھ دیر بعد تھانے کے احاطے میں واقع تھانیشوری مندر میں دونوں کی شادی کی رسومات شروع ہوگئیں۔ مندر کے پجاری نے اصول و ضوابط کے مطابق سات چکر مکمل کرائے۔ اس دوران درجنوں افراد موجود تھے۔ ٹیچر اور طالب علم کی شادی کا ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں دونوں کافی خوش نظر آ رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک لڑکی کے گھر والوں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس پورے معاملے میں اسٹیشن ہاؤس آفیسر ششی بھوشن پرساد نے بتایا کہ لڑکی کی ماں وینا رانی کی طرف سے دی گئی درخواست پر سنگیت کمار اور شویتا رانی کو فون کے ذریعے تھانے بلایا گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے سے محبت کرنے اور اپنی مرضی سے ساتھ رہنے کے بارے میں معلومات دی ہیں۔ اس سلسلے میں درخواست دینے کے بعد دونوں تھانے سے چلے گئے۔جمعرات کو ہونے والی ٹیچر اسٹوڈنٹ کی شادی شہر میں موضوع بحث بنی ہوئی تھی۔ لوگ اس شادی کو متوکناتھ اور جولی کی محبت سے جوڑ رہے ہیں۔

متوکناتھ-جولی کی محبت کی کہانی

matuknath love sotry

متوکناتھ-جولی کی محبت کی کہانی سال 2006 میں منظر عام پر آئی تھی۔ جب متوکناتھ پٹنہ یونیورسٹی میں ہندی کے پروفیسر تھے اور جولی ان کی شاگرد تھیں۔ جو انکی کی عمر سے آدھی تھی۔ پروفیسر متوکناتھ نے ایک کیمپ لگایا تھا۔ یونیورسٹی کی طالبہ جولی بھی اس کیمپ میں پہنچی تھی۔ اس دوران دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کا نمبر لیا۔ اس کے بعد دونوں کی بات چیت شروع ہو گئی۔ جبکہ متوکناتھ پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے بچے تھے۔ اس محبت کے لیے متوکناتھ نے اپنی شادی کو داؤ پر لگا دیا اور انھیں نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔جیسے ہی ان دونوں کی محبت کی کہانی سامنے آئی، میڈیا کی سرخیاں بن گئیں۔ متوکناتھ نے شاگرد جولی سے شادی کرنے کے لیے اپنے آباد خاندان کو چھوڑ دیا تھا۔ اسی دوران جولی کے گھر والوں نے بھی اپنی بیٹی سے تعلقات توڑ لیے۔ یہاں تک کہ متوکناتھ کا منہ کالا کر دیا گیا اور انہیں یونیورسٹی نے معطل کر دیا۔ اس کے باوجود دونوں اپنی ضد پر قائم تھے۔

ان دونوں کی تصاویر اخبارات میں آنے لگیں اور متوکناتھ love guru کے نام سے مشہور ہو گئے۔ متوکناتھ اور جولی کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی، جس میں متوکناتھ جولی کو رکشے پر چلاتے ہوئے نظر آئے تھے۔ یہی نہیں اس محبت کی کہانی کی وجہ سے متوکناتھ کو جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد اس محبت کی کہانی کی تصویر بالکل بدل گئی۔ دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ جولی سات سمندر پار ویسٹ اینڈیز میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے اور متوکناتھ آج بھی گھر میں جولی کی تصویر کو گھورتا رہتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button