قومی خبریں

ہندوستانی فوجیوں نے توانگ میں چینی جارحیت کو مکمل طور پر ناکام بنایا: راجناتھ

توانگ تصادُم پر ایوان میں ہنگامہ آرائی : اپوزیشن نے حکومت کو گھیرا،فوجیوں نے دُشمن کا بہادری سے دراندازی روک دی: راج ناتھ سنگھ

توانگ تصادُم پر ایوان میں ہنگامہ آرائی : اپوزیشن نے حکومت کو گھیرا،فوجیوں نے دُشمن کا بہادری سے دراندازی روک دی: راج ناتھ سنگھ

نئی دہلی ،13دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) 9 دسمبر کو اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں ہندوستانی فوج کے ساتھ چینی فوجیوں کی جھڑپ ہوئی تھی۔ اس جھڑپ میں دونوں ممالک کے فوجی زخمی ہوئے۔ اگرچہ ان زخمیوں میں چینی فوجیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جھڑپ کے بعد ہندوستان اور چین کے کمانڈروں نے اس علاقے میں فلیگ میٹنگ کی اور پھر دونوں ممالک کے فوجی پیچھے ہٹ گئے۔ فوجیوں کے درمیان جھڑپ کی یہ خبر گزشتہ روز سامنے آئی تھی ، جب کہ یہ واقعہ 9دسمبر کو پیش آیا تھا، آج کے زمانے میں اس طرح کی خبروں کی تاخیر سے موصول ہونا اپنے آپ میں سوالیہ نشان ہے۔ جس کے بعد سے اپوزیشن لیڈروں نے حکومت کا گھیراؤ شروع کر دیا ۔ منگل کو دونوں ایوانوں میں اس معاملے پر کافی ہنگامہ آرائی ہوئی ، اور اپوزیشن لیڈروں نے حکومت سے وضاحت طلب کی۔

ا س سلسلے میں کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کے پہلے گھنٹے میں کارروائی روک دی اور پھر سرحدی جھڑپ پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ کانگریس صدر اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ حکومت کو چینی مداخلت کے بارے میں منصفانہ اور ایماندار ہونا چاہئے۔ ہم قومی سلامتی کے مسائل پر ملک کے ساتھ ہیں اور اس پر سیاست نہیں کرنا چاہیں گے، لیکن مودی حکومت کو اپریل 2020 سے ایل اے سی کے ساتھ تمام مقامات پر چینی تجاوزات اور تعمیرات کے بارے میں ایماندار طریقہ سے ملک کے عوام کو بتانا چاہئے۔

اسی دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ہندوستان کی ایک انچ زمین پر کوئی قبضہ نہیں کر سکتا۔ میںجوانوں کی بہادری کی تعریف کرتا ہوں، ہمارے فوجیوں نے فوری طور پر تمام دراندازوں کو بھگا دیا اورسرحد کی حفاظت کی۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ کانگریس نے راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کے ایف سی آر اے (فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ) رجسٹریشن کی منسوخی سے متعلق سوالات سے بچنے کے لیے پارلیمنٹ میں سرحدی مسئلہ اٹھایا ہے۔امیت شاہ نے الزام لگایا کہ راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کو چینی سفارت خانے سے مبینہ طور پر 1.35 کروڑ روپے کی گرانٹ ملی تھی، جو ایف سی آر اے قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق نہیں تھی، اس لیے اس کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی۔ وزیر داخلہ نے آنجہانی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی مرحوم شخصیت پر الزام لگایا کہ چین سے محبت کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت ترک کر دی گئی۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک پی ایم مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت ہے، کوئی ہماری ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہیں کر سکتا۔ وہیں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایوان میں اس معاملے پر بیان دیا۔

انہوں نے کہا کہ 9 دسمبر کوپی ایل اے کے دھڑے نے توانگ سیکٹر میں LAC پر تجاوزات کرکے یکطرفہ طور پر جمود کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ہماری فوج نے عزم کے ساتھ چین کی اس دراندازی کا مقابلہ کیا۔ اس تصادُم میں ہاتھا پائی ہوئی۔ ہندوستانی فوج نے بہادری سے پی ایل اے کو ہماری سرزمین پر قبضہ کرنے سے روکا اور انہیں اپنی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ میںایوان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارا کوئی فوجی نہیں مرا ہے اور نہ کوئی شدید زخمی ہوا ہے۔ہندوستانی فوجی کمانڈروں کی بروقت مداخلت کی وجہ سے پی ایل اے کے دستے واپس اپنی پوزیشن پر چلے گئے۔ اس واقعے کے بعد علاقے کے مقامی کمانڈر نے اپنے چینی ہم منصب سے 11 دسمبر کو طے شدہ انتظامات کے تحت فلیگ میٹنگ کی اور واقعے پر تبادلہ خیال کیا۔ چین کی جانب سے ایسی کارروائی کی تردید کی گئی اور سرحد پر امن برقرار رکھنے کو کہا گیا۔ سفارتی سطح پر چینی فریق کے ساتھ بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے۔

توانگ میں جھڑپ پر چینی فوج نے کہا کہ ہندوستانی فوجیوں نے غیر قانونی طور پر متنازعہ سرحد پار کی تھی۔ اس سے قبل چین کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد ہندوستان کی سرحد پر صورتحال مستحکم ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ دونوں فریقوں نے سفارتی اور فوجی ذرائع سے سرحدی معاملات پر ہموار رابطے کو برقرار رکھا ہے۔ اس معاملے پر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم سیاسی قیادت کے معاملہ میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ تصادُم 9 تاریخ کو پیش آیا، اور آپ آج پارلیمنٹ میں بتار ہے ہیں، میڈیااگر اس تصادُم پر بات نہ کرتا تو آپ خاموش رہتے، یہ سب اُن (پی ایم مودی )کی ناکامی ہے۔

ملک کے وزیراعظم چین کا نام لینے سے خوف کھاتے ہیں۔ کانگریس ایم پی ششی تھرور نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین توانگ پر نظریں جمائے ہوئے ہے اور ہمیں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہر جماعت، ہر شخص اس موضوع پر ہماری فوج کے ساتھ ہے۔حکام نے کہا کہ مخصوص سیکورٹی خدشات کی صورت میں لڑاکا طیاروں کی تعیناتی سمیت معیاری آپریٹنگ طریقہ کار پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ اور فوج دونوں صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔حالیہ پیشرفت سے واقف اہلکاروں نے اشارہ کیا کہ ہندوستانی فضائیہ نے علاقے میں اپنے لڑاکا طیاروں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button