تلنگانہ کی خبریں

آخر مسلم معاشرہ کہاں جارہا ہے؟طوطے کے ذریعہ مقدرات جاننے کی کوشش لمحہ فکر

علماء و ملت کے دانشوروں کو توجہ دینے کی ضرورت

Parrot Fortune Teller نظام آباد۔ 13 ڈسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ویسے تو یہ بات عام ہے کہ خواتین عاملوں ، بابائوں کی چکر میں رہتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مصیبت زدہ کہیں نہ کہیں بھٹکتے رہتا ہے لیکن جس کا ایمان پختہ ہوتا ہے وہ اللہ پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کے فیصلہ پر قادر رہتا ہے ۔ لیکن معاشرہ میں حالات دن بہ دن انتہائی ابتر ہوتے جارہے ہیں اور برقعہ پوش خواتین عاملوں ، بابائوں کے پاس سڑک کے کنارے اپنی قسمت اور اپنے مقدر کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک منظر نظام آباد کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کے روبرو طوطے کا فال کھولنے والے غیر مسلم کے پاس دو برقعہ پوش خواتین کو اپنے فال کھلاتے ہوئے دیکھا گیا تو فوری نمائندہ سیاست اردو نیوز نے اپنے کیمرہ مین اس منظر کو قید کرلیا ۔

یہ منظر پہلی مرتبہ نہیں ہے قبل از بھی دیکھا گیا تھا لیکن آئے دن اس طرح کی حرکتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ یہ معاشرہ کیلئے لمحہ فکر ہے اور ذمہ داران قوم علما ء و دانشور کیلئے لمحہ فکر ہے اور مساجد کے ائمہ، علماء کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ جمعہ کے خطبوں میں مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات ، ایمان کامل ،اللہ اور رسول ؐ کی تعلیمات سے واقف کروانے کے علاوہ خواتین کے پردہ کے بارے میں واقف کرانا ضروری سمجھا جارہا ہے۔ عام طور پر ائمہ ، علماء معاشرہ کے برائیوں کے بارے میں اپنے خطابات میں واضح کرتے ہیں لیکن بڑھتے ہوئے اس طرح کے رحجان کو روک لگانا بھی ضروری سمجھا جارہا ہے ورنہ یہ سلسلہ اور بھی آگے بڑھ گیا تو ایمان سے خارج ہونے کے امکانات ظاہر ہورہے ہیں اور یہ معاشرہ کیلئے لمحہ فکر سمجھا جارہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button