وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ میں پیاز نہیں کھاتی،اَب دودھ، دہی اور آٹے پر کیا کہیں گی؟ راگھو چڈھا نے مہنگائی کے معاملہ پر حکومت کو گھیرا
مارکیٹ میں گیس سلنڈر 400 روپے میں ملتا تھا، آج وہ گیس سلنڈر 1100 روپے کا ہو گیا ہے۔ دودھ کی قیمت 36 روپے فی لیٹر تھی لیکن آج وہی دودھ 60 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
نئی دہلی ، 19 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جاری ہے اور چین کے معاملے پر دونوں ایوانوں میں مسلسل ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ ادھر راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا نے مہنگائی کے معاملے پر مرکزی حکومت کو گھیراہے۔ سال 2014 میں پارلیمنٹ میں نریندر مودی کی حکومت بننے کے بعد اب تک کے اعداد و شمار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے اب تک مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ وہ پیاز نہیں کھاتیں، اس لیے انہیں پیاز کی قیمت نہیں معلوم، دودھ، دہی اور آٹے کی قیمت کے بارے میں وزیر خزانہ کیا کہیں گے؟
انہوں نے ایوان میں کہا کہ مہنگائی کی صورتحال دیکھیں، 2014 میں جب مودی حکومت بنی تو پٹرول 55 روپے فی لیٹر فروخت ہوتا تھا اور آج پٹرول 100 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔راجیہ سبھا میں اعداد و شمار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت بننے سے پہلے ڈیزل 45 روپے فی لیٹر فروخت ہوتا تھا جو آج 90 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں گیس سلنڈر 400 روپے میں ملتا تھا، آج وہ گیس سلنڈر 1100 روپے کا ہو گیا ہے۔ دودھ کی قیمت 36 روپے فی لیٹر تھی لیکن آج وہی دودھ 60 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
نریندر مودی حکومت کے قیام سے پہلے سی این جی 40 روپے فی لیٹر ملتی تھی جو اب 80 روپے فی یونٹ ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ راگھو چڈھا نے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ایوان میں پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ہنگامہ ہوا ،تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر میں پیاز نہیں کھاتیں، تو مجھے قیمتوں کا علم نہیں، لیکن دودھ، دہی اور آٹوں کی قیمتوں کا ضرور علم ہے، آج ان تمام چیزوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔مرکزی وزیر خزانہ کی بڑھتی ہوئی اشاء خوردنی کی قیمتوں کی بابت کیا رائے ہے؟



