سرورققومی خبریں

محبت کی نشانی کی نئی پریشانی، پراپرٹی ٹیکس اور واٹر ٹیکس کے نوٹس

لیجئے ! محبت کی نشانی کہلانے والے تاج محل کے سامنے ایک نئی پریشانی آگئی ہے۔ پریشانی بھی قانونی ہے

آگرہ ، 20دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) لیجئے ! محبت کی نشانی کہلانے والے تاج محل کے سامنے ایک نئی پریشانی آگئی ہے۔ پریشانی بھی قانونی ہے۔ وہ بھی ٹیکس کی عدم ادائیگی کی۔ اس خبر نے منگل کی صبح ملک کو چونکا دیا، جب آگرہ میونسپل کارپوریشن نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی)کے نوٹس جاری ہونے کی خبر سامنے آئی۔ اس نوٹس کے مطابق تاج محل پر 1.9 کروڑ روپے واٹر ٹیکس اور 1.5 لاکھ روپے پراپرٹی ٹیکس کے طور پر ادا کرے۔ اے ایس آئی سے کہا گیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر بقایہ جات کی ادائیگی کریں۔ اگر 15 دنوں میں ٹیکس جمع نہ کرایا گیا تو تاج محل کی قرقی ہو سکتی ہے۔ اس تنازعہ کے بارے میں اے ایس آئی سپرنٹنڈنٹ راج کمار پٹیل نے بتایا یادگاروں پر پراپرٹی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا ہے۔ ہم پانی کے لیے ٹیکس ادا کرنے کے بھی ذمہ دار نہیں ہیں کیونکہ اس کا کوئی تجارتی استعمال نہیں ہے۔ کیمپس کے اندر ہریالی کو برقرار رکھنے کے لیے پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

تاج محل کے لیے پانی اور پراپرٹی ٹیکس سے متعلق نوٹس پہلی بار موصول ہوا ہے، ہو سکتا ہے کہ غلطی سے بھیجا گیا ہو۔اے ایس آئی حکام نے بتایا کہ تاج محل کو 1920 میں ایک محفوظ یادگار قرار دیا گیا تھا اور برطانوی دور حکومت میں بھی اس یادگار پر کوئی ٹیکس یا واٹر ٹیکس نہیں لگایا گیا تھا۔معاملہ کے بارے میں میونسپل کمشنر نکھل ٹی فنڈے نے کہا کہ وہ تاج محل سے متعلق ٹیکس سے متعلق کارروائی سے واقف نہیں ہیں۔ ٹیکسوں کے حساب کتاب کے لیے ریاست بھر میں جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) سروے کی بنیاد پر تازہ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتوں اور مذہبی مقامات سمیت ان پر واجب الادا واجبات کی بنیاد پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

قانون کے مناسب عمل کے بعد رعایت دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی کو نوٹس جاری ہونے کی صورت میں اس کی جانب سے موصول ہونے والے جواب کی بنیاد پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔ اسسٹنٹ میونسپل کمشنر اور تاج گنج زون کی انچارج سریتا سنگھ نے کہا کہ تاج محل پر پانی اور پراپرٹی ٹیکس کیلئے جاری نوٹس کے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button