فینانس کارپوریشن کی سبسیڈی اسکیم اقلیتوں کے ساتھ انصاف نہیں ‘ مذاق
45 لاکھ اقلیتی آبادی کیلئے 5 ہزار درخواستیں، حیدرآباد میں محض 1919 امیدواروں کو منتخب کیا جائیگا، دلت بندھو کیلئے 5900 کروڑ بجٹ اور ہر اسمبلی حلقہ میں 500 استفادہ کنندگان
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) تلنگانہ میں گذشتہ 8 برسوں میں پہلی مرتبہ اقلیتوں کیلئے بینکوں سے مربوط سبسیڈی پر مبنی قرض اجرائی اسکیم کا اعلان کیا گیا اور اقلیتوں کو امید تھی کہ حکومت اسکیم کے اعلان کے سلسلہ میں فراخدلانہ موقف اختیار کرے گی۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے اسکیم کے اعلان کے بعد اقلیتوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ حکومت نے سبسیڈی سے مربوط قرض کیلئے جو اسکیم تیار کی ہے وہ اقلیتوں کے ساتھ ایک مذاق دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کو اقلیتوں سے زیادہ دلتوں کی بھلائی سے دلچسپی ہے اور ان کیلئے اقلیتوں کی طرز پر موجود فلاحی اسکیمات کے علاوہ نئی اسکیم دلت بندھو کا اعلان کیا گیا جس کے تحت ہر مستحق دلت خاندان کو 10 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ حکومت نے جاریہ سال ہر اسمبلی حلقہ میں 500 دلت خاندانوں کے انتخاب کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اسکیم حضورآباد ضمنی چناؤ کے وقت متعارف کی گئی اور صرف ایک اسمبلی حلقہ میں 20 ہزار استفادہ کنندگان کا انتخاب ہوا ہے۔
جاریہ سال ہر اسمبلی حلقہ میں 500 دلت خاندانوں کو اسکیم کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے گا۔ دلت بندھو اسکیم سے اقلیتوں کیلئے اعلان کردہ سبسیڈی لون اسکیم کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ اقلیتوں کیلئے یہ اسکیم اونٹ کے منہ میں رائی دانے کے مترادف ہے۔ ایک اسمبلی حلقہ میں انتخابی فائدہ کیلئے 20 ہزار دلت خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے کی اجرائی کا فیصلہ کیا گیا جبکہ تلنگانہ کے 45 لاکھ سے زائد اقلیتوں کیلئے محض 5 ہزار افراد کو سبسیڈی لون فراہم کیا جائے گا۔ دلتوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے اور وہ بھی ہر اسمبلی حلقوں میں 500 خاندانوں کے انتخاب کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سوائے حیدرآباد کے ریاست کے کسی بھی ضلع میں سبسیڈی لون کے اقلیتی امیدواروں کی تعداد 300 سے زائد نہیں ہے۔ ساری ریاست کیلئے صرف 5 ہزار افراد کو سبسیڈی لون کی فراہمی کیلئے حکومت نے 50 کروڑ جاری کئے ہیں جبکہ دلتوں کیلئے5900 کروڑ جاری کئے جائیں گے۔
حکومت نے ہر ضلع میں اقلیتوں کی آبادی کے اعتبار سے سبسیڈی قرض کا کوٹہ مقرر کیا ہے۔ حیدرآباد میں اقلیتوں کی آبادی سرکاری اعداد و شمار بلکہ 2001 مردم شماری کے مطابق 17 لاکھ 47 ہزار 608 ہے اور حیدرآباد میں1919 درخواستوں کو قبول کیا جائے گا۔ تلنگانہ کے وہ اضلاع جہاں استفادہ کنندگان کی تعداد 300 سے زائد ہے ان میں رنگاریڈی(320) اور نظام آباد (324) شامل ہیں جبکہ سنگاریڈی (273) ، نرمل (116) ، میڑچل (257) ، محبوب نگر (121) ، کاماریڈی (109) اور عادل آباد(111) شامل ہیں۔دو زمرہ جات کے سبسیڈی لون کیلئے اقلیتوں کی آبادی کے اعتبار سے ہر ضلع کو کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔ پہلے زمرہ میں ایک لاکھ اور دوسرے زمرہ میں 2 لاکھ روپئے قرض فراہم کیا جائے گا۔ ایک لاکھ روپئے کے زمرہ میں 80 فیصد سبسیڈی جبکہ 2 لاکھ کے زمرہ میں 70 فیصد سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔
سب سے کم 10 درخواستیں بھوپال پلی ضلع کیلئے الاٹ کی گئی ہیں۔ دیگر اضلاع کیلئے الاٹ کردہ کوٹہ اس طرح ہے۔ کتہ گوڑم 70 ، جگتیال 84 ، جنگاؤں 20 ، جوگولمبا 57 ، کریم نگر 87 ، کھمم 101 ، کمرم بھیم آصف آباد 56 ، محبوب آباد 28 ، منچریال 50 ، میدک 56 ، ملگ 13 ، ناگر کرنول 58 ، نارائن پیٹ 53 ، پدا پلی 53 ، سوریہ پیٹ 69 ، سدی پیٹ 63 ، سرسلہ 24 ، ونپرتی 50 ، ورنگل ( رورل ) 74 ، ورنگل ( اربن ) 89 اور بھونگیر 30 ۔اقلیتی فینانس کارپوریشن میں سابق میں دیڑھ لاکھ سے زائد درخواستیں سبسیڈی لون کیلئے ریاست بھر سے داخل کی گئی تھیں لیکن ان درخواستوں کو یکسوئی کے بغیر ہی ختم کردیا گیا اور نئی درخواستیں طلب کی جارہی ہیں۔ اضلاع میں اقلیتی آبادی کے تناسب سے کوٹہ الاٹ کرنے سے اقلیتوں کے ساتھ سخت ناانصافی ہورہی ہے۔
کارپوریشن کے ذرائع نے بتایا کہ اس مرتبہ ریاست بھر سے لاکھوں درخواستیں داخل کی جائیں گی لیکن صرف 5 ہزار درخواست گذاروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ حیدرآباد میں محض 1919 درخواستوں کی یکسوئی کی جائے گی اور اتنی تعداد میں تو صرف کسی ایک علاقہ سے درخواستیں داخل ہوسکتی ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ دلت بندھو کی طرح اقلیتوں کیلئے کم از کم 500 کروڑ مختص کرے اور ریاست بھر میں کم از کم 20 ہزار بیروزگار اقلیتی نوجوانوں کو سبسیڈی پر مبنی قرض جاری کیا جائے۔ حکومت کے رویہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دلتوں کی اہمیت ان کے سیاسی شعور کے باعث ہے جبکہ اقلیتیں سیاسی شعور سے محروم ہیں اور گذشتہ 8 برسوں میں مسائل کے حل کیلئے اقلیتوں کی جانب سے کوئی جدوجہد نہیں کی گئی۔



