پروین بابی، نہایت خوبصورت لمبے قد اور ریشمی بالوں والی بہترین اداکارہ✍️سلام بن عثمان
پروین بابی 4 اپریل 1949 کو ضلع جوناگڑھ میں گجراتی مسلم گھرانے میں ولی محمد خان بابی کے یہاں پیدا ہوئی تھی۔
Parveen Babi پروین بابی بالی ووڈ کی نہایت خوبصورت چمکدار ستارہ تھیں۔ وہ اپنی اسکرین کی موجودگی سے لوگوں کو مائل کرنے کے لیے جانی جاتی تھیں۔ ان کی گلیمرز امیج اور لمبے ریشمی بالوں نے انہیں ہندوستانی سنیما کی سب سے نامور تجربہ کار اداکاراؤں میں سے ایک بنا دیا۔ پروین بابی جیسا کہ وہ جانی جاتی تھیں۔ وہ بالی ووڈ کی مشہور اداکاراؤں میں سے ایک تھیں۔ پروین بابی نے بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی اداکاراؤں کے بدلتے ہوئے چہرے کو ایک نیا انداز دیا۔ پروین بابی اپنے وقت کی معروف بالی ووڈ اداکارہ زینت امان کی اسکرین حریف کے طور پر جانی جانے والی پروین بابی نے 1970 کی دہائی میں اپنے دلکش انداز اور شخصیت سے سلور اسکرین کو جگمگا دیا۔ پروین بابی نے اپنے خوبصورت لمبے بال اور لمبے قد والی ہیروئین بالی ووڈ کی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش آئیکون میں سے ایک تھیں۔ یہ تمام تر انمٹ شخصیت کے ساتھ بے حد کمال بھرے امیج اور آئیکون کلاسک رویہ کی بدولت مشہور تھیں۔ سلور اسکرین پر کچھ زبردست بلاک بسٹرس کے ساتھ پروین بابی اب بھی فلمی شائقین کے دلوں میں نقش ہیں۔
پروین بابی 4 اپریل 1949 کو ضلع جوناگڑھ میں گجراتی مسلم گھرانے میں ولی محمد خان بابی کے یہاں پیدا ہوئی تھی۔ وہ اپنے والدین کی شادی کے چودہ سال بعد پیدا ہوئیں تھیں۔ پروین بابی اکلوتی اولاد تھی۔ ان کے والد ولی محمد بابی نے جوناگڑھ کے نواب کے ساتھ بطور ایڈمنسٹریٹر کام کیا۔ پروین بابی کے والد کا انتقال ہوا اس وقت وہ صرف 7 سال کی تھی۔ پروین بابی نے اسکولی تعلیم ماؤنٹ کریمل ہائی اسکول اور احمد آباد کے زیوئیر کالج سے گریجویشن کیا۔
پروین بابی نے اپنا فلمی کیرئیر کا آغاز 1973 میں فلم "چریتر” سے کیا۔ وہ اس وقت کالج میں زیر تعلیم تھیں، ساتھ ہی ماڈلنگ بھی کیا کرتی تھیں۔ انہیں اس زمانے کے سب سے متنازعہ ہدایت کاروں میں سے ایک بی آر اشارہ نے لانچ کیا تھا۔ اس فلم کے لیے ایک اور نیا چہرہ ڈیبیو کرنے والے مشہور کرکٹر سلیم درانی کے مقابل پروین بابی ہیروئن تھیں۔ فلم چریتر باکس آفس پر ناکام رہی۔ لیکن پروین بابی نے اپنے گلیمرز کے ذریعے ایک معمولی اداکارہ ہونے کے باوجود کئی اور پروجیکٹس کے ساتھ بالی ووڈ کے میدان میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئیں۔ مگر فلم کے ہیرو سلیم درانی بعد میں فلم حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
پروین بابی نے اپنے 13 سالہ فلمی سفر کے ذریعے بالی ووڈ میں نام و شہرت کے علاوہ اپنا مقام بھی بنایا۔ پروین بابی کے بعد ان کے خلاء کو کافی حد تک روینا ٹنڈن نے پر کیا۔ پروین بابی نے اپنے دور کے مشہور اداکاروں اور ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا۔ جن میں امیتابھ بچن، ونود کھنہ، دھرمیندر، جتیندر، فیروز خان کے علاوہ دیگر ان تمام کے ساتھ سلور اسکرین پر کیمسٹری کے ذریعے زبردست ہٹ فلمیں دیں۔
امیتابھ بچن کے ساتھ ان کی چند بلاک بسٹر فلموں میں "مجبور”، "امر اکبر انتھونی”، "دیوار”، "کالا پتھر” اور "کالیا” مہان، سہاگ، دو اور دو پانچ، شان، خوددار، نمک حلال، شامل ہیں۔ اگرچہ یہ تمام پروجیکٹس میں ہیرو پر مبنی فلمیں تھیں۔ مگر پروین بابی نے اپنی موجودگی کا احساس دلانے اور اپنے کرداروں کی تعریف حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ ان کی امیتابھ بچن کے ساتھ بہت اچھی فلمی کیمسٹری رہی، اور وہ تمام کی تمام فلمیں باکس آفس پر بلاک بسٹر ہوئیں۔ انہوں نے اس دور کی ایک اور مشہور آئیکون زینت امان کے ساتھ کام کیا اور بالی ووڈ ہیروئن کی تصویر اور شخصیت کو بدل دیا۔ انہوں نے زینت امان کے ساتھ "مہان” اور "اشانتی” میں کام کیا۔ ہیمامالنی کے ساتھ فلم کرانتی، شان کے ساتھ قابل ذکر رہیں (امریکی ٹیلی ویژن شو "چارلیز اینجلس سے متاثر، شبانہ اعظمی کے ساتھ تیسرا کردار ادا کیا)۔ پروین بابی پہلی ہندوستانی اداکارہ تھیں جنہوں نے جولائی 1976 میں ٹائم میگزین کے سرورق پر دکھائی دیں۔ انھوں نے ہندوستانی سنیما کے بدلتے ہوئے چہرے کو پیش کیا۔ ان کی دیگر ہٹ فلموں میں "کرانتی”، "سہاگ”، "نمک حلال”، "میری آواز سنو”، "دی برننگ ٹرین” اور "یہ نزدیکیاں” شامل ہیں۔
تقریباً 13 سال تک بالی ووڈ پر راج کرنے کے باوجود پروین بابی ہمیشہ متعدد تنازعات میں گھری رہیں۔ فلم انڈسٹری کو الوداع کرنے کے بعد وہ نیویارک چلی گئیں کیونکہ وہ شیزوفرینیا مرض میں مبتلا تھیں۔ جسے ایک قسم کی فریب کاری کی بیماری کہا جاتا ہے۔ پروین بابی سکون حاصل کرنے کے لیے انھوں نے متبادل عصری روحانیت کی تلاش کی اور چند سالوں تک اوشو کی پیروی کی جس کے بعد وہ U.G. کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں۔ 1992 میں ممبئی واپس آنے کے بعد وہ کافی حد تک اپنے موٹاپے کی وجہ سے ناقابل شناخت تھیں۔ انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا "مجھ پر ایک ایسا لیبل لگایا گیا ہے, جس کی وجہ سے فلم انڈسٹری اور میڈیا میں میری شبیہ کو خراب کرنے کی سازش ہے” ان تمام باتوں اور افواہوں سے پریشان ہو کر وہ اپنے دوستوں سے تعلقات توڑ کر الگ رہنے لگیں۔
پروین بابی نے اپنی بیماری کی وجہ سے بل کلنٹن اور امیتابھ بچن جیسی کئی نامور شخصیات پر اسے قتل کرنے کی سازش کا الزام لگایا۔ اس طرح انھوں یہاں تک کے ان کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ میں اسے قتل کرنے کی کوشش کے لیے ایک تحریری درخواست بھی دائر کی، جسے بعد میں ثبوت کی کمی کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔
1993 میں پروین بابی انڈسٹری میں ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں آئیں جب انہوں نے اداکار سنجے دت کے خلاف 1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے کیس میں ان کے ملوث ہونے کا حلف نامہ بھرا۔ جس سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ اس نے ثبوت اکٹھے کر لیے ہیں۔ لیکن وہ عدالتی سماعت میں یہ کہتے ہوئے حاضر نہیں ہوئیں کہ وہ عوام میں پیش ہونے سے خوفزدہ ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ماری جائے۔ اس نے اپنی ذہنی بیماری ڈپریشن میں مبتلہ کی وجہ سے عوامی نمائش کرنا چھوڑ دیا۔ وہ پہلی ہیروئن تھیں جنہوں نے منشیات کے بارے میں کھل کر بات کی حالانکہ اس نے کبھی بھی عوام میں سگریٹ نوشی یا شراب نہیں پی۔ پروین بابی نے انٹرویوز اور عوامی نمائش میں شادی شدہ مردوں کے ساتھ اپنی رومانوی وابستگیوں کے بارے میں ہمیشہ کھل کر بات کی۔
پروین بابی عمر بھر غیر شادی شدہ رہیں، حالانکہ وہ شادی شدہ مردوں کے ساتھ قریبی تعلقات میں شامل تھیں۔ ہدایت کار مہیش بھٹ اور اداکار کبیر بیدی اور ڈینی ڈینزونگپا کے ساتھ ان کے تعلقات کو بہت زیادہ مشہور کیا گیا۔ مہیش بھٹ کے ساتھ ان کا افیئر کافی ہنگامہ خیز تھا۔ ان دونوں کے رشتے کی اتنی قربت تھی کہ مہیش بھٹ نے 1982 میں ایک نیم سوانح عمری پر مبنی فلم "ارتھ” لکھی اور ہدایت کاری بھی کی۔ کہانی کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ پروین بابی کے ساتھ ازدواجی تعلقات تھے۔ بعد میں انھوں نے 2006 میں فلم "وہ لمحے” میں بھی پروین بابی کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں اصل حقائق کو ظاہر کیا گیا۔
پروین بابی کا انتقال تنہائی میں ہوا۔ تین دن تک دودھ اور اخبارات جمع نہ کرنے پر رہائشی سوسائٹی کے سکریٹری نے پولیس سے شکایت کی جس نے 22 جنوری 2005 کو جوہو، ممبئی کے پینٹ ہاؤس کا دروازہ کھولنے پر معلوم ہوا کی پروین بابی نے اس دنیا کو الوداع کہا، حالانکہ اس کی موت کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی تھی۔ پروین بابی کو ذیابیطس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے پاؤں میں گینگرین پایا گیا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس کی موت تقریباً 72 گھنٹے پہلے ہوئی ہوگی۔ پروین بابی کو 23 جنوری 2005 کو سانتا کروز میں ان کی والدہ کی قبر کے پاس دفن کیا گیا۔ اس وقت وہ 55 سال کی تھیں۔پروین بابی کی کچھ مشہور فلمیں۔ چریتر، مجبور، چھتیس گھنٹے، کالا سونا، امر اکبر انتھونی، چاندی سونا، پتی پتنی اور وہ، کالا پتھر، سہاگ، دو اور دو پانچ، شان، کرانتی، خون اور پانی، میری آواز سنو، نمک حلال، خوددار، منگل پانڈے، مہان، جانی دوست، امیر آدمی غریب آدمی، چور پولیس۔




