بین الاقوامی خبریںسرورق

نوالنی کی گرفتاری کیخلاف احتجاج، روس سے یورپی سفارت کار بے دخل

نوالنی کی گرفتاری کیخلاف احتجاج، روس سے یورپی سفارت کار بے دخل

سفارت
APF

 

ماسکو:(ایجنسیاں)روسی وزارت خارجہ کے مطابق یورپی یونین کے سفارت کاروں کو الیکسی نوالنی کی گرفتاری کے خلاف غیر قانونی مظاہروں میں شرکت کے باعث بے دخل کیا گیا۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔روس نے جن تین سفارت کاروں کو ملک بدر کیا ہے ان کا تعلق جرمنی، سویڈن اور پولینڈ سے ہے۔ جرمن چانسلر میرکل نے روس کی جانب سے یورپی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کے عمل کی سخت مذمت کی ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے ان تینوں یورپی سفارت کاروں کو کریملن کے ناقد روسی اپوزیشن رہنما الیکسی نوالنی کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کے باعث ملک بدر کیا ہے۔جمعے کے روز ان کی بے دخلی کا اعلان کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیاکہ ان افراد کے اقدامات ناقابل قبول ہیں اور سفارت کاری کے آداب کے بھی خلاف ہیں۔

روس نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ماسکو میں یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سے متعلق سربراہ جوزف بوریل کی روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف سے ملاقات جاری تھی۔بوریل کے ترجمان نے بتایا کہ تینوں سفارت کاروں کی بے دخلی کے بارے میں یورپی رہنما کو اطلاع اسی ملاقات کے دوران ملی تھی۔اعلیٰ یورپی سفارت کار بوریل نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ایک بیان میں کہاکہ ہم اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان الزامات کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ تینوں اہلکاروں کی سرگرمیاں سفارت کاری کے خلاف تھیں۔

‘جرمن چانسلر میرکل نے بھی فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے ساتھ برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران روسی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نوالنی کو سزا دینے اور یورپی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔میرکل کا تاہم یہ بھی کہنا تھا کہ شدید اختلافات کے باوجود جرمنی روس کے ساتھ مکالمت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اس موقع پر ماکروں نے بھی نوالنی کو سزا دیے جانے اور ان کے حامیوں کی بڑی تعداد میں گرفتاری جیسے معاملات کی ’سخت ترین مذمت‘ کی۔یہ امر بھی اہم ہے کہ فرانسیسی صدر ماکروں جرمنی اور روس کے مابین گیس پائپ لائن منصوبے ‘نارڈ اسٹریم ٹو‘ کے خلاف ہیں اور اس منصوبے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم چانسلر میرکل نے کہا کہ تازہ واقعات کے باوجود نارڈ اسٹریم ٹو منصوبہ جاری رہے گا لیکن اس دوران جرمنی مختلف روسی شخصیات پر انفرادی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔پولینڈ اور سویڈن نے بھی اپنے سفارت کاروں کی ملک بدری کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا اور بصورت دیگر ‘معقول جواب‘ دینے کا عندیہ دیا ہے۔

روس میں الیکسی نوالنی کو سزائے قید سنائے جانے کے بعد سے مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ماسکو حکام اب تک 10,000 سے زائد افراد کو گرفتار کر چکے ہیں۔

فوجی بغاوت کی حمایت کا الزام، ترکی کی امریکہ کے ساتھ نئی لفظی جنگ

متعلقہ خبریں

Back to top button