گجرات کی وہ رات✍️اميکو رحیم
اِس وقت پورے گجرات میں دنگے بھڑک چُکے تھے، غریب معصوم مسلمان جو مزدور تھے انکے بستیوں کو آگ لگائی جا رہی تھی، ان کے ماں بیٹیوں کی عزت سرعام لوٹی جا رہی تھی، عورتیں بیوہ ہو رہیں تھی، احمدآباد کو بھی اِن دنگائیوں نے نہ چھوڑا، احمدآباد میں مسلمانوں کے گھروں کو چُن چُن ٹارگیٹ کیا جا رہا تھا۔
یہ کہانی ہے گجرات کے احمدآباد کی، عبدل جو کے بہار کا رہنے والا تھا وہ احمدآباد کام کی غرض سے آیا تھا۔ عبدل نہایت غریب گھر سے تعلق رکھتا تھا اسلئے اُسنے بہت ہی کم عمر مے پڑھائی چھوڑ دی تھی اور کام کرنے لگا تھا۔ وہ اپنے گھر کا اکلوتا چراغ تھا۔اُسکے ابّا گاؤں میں ہی ایک زمیندار کے ہاں کام کرتے تھے، ماں گھر سنبھالتی تھی۔ عبدل بہت ہی خوش مزاج اور بہت محنتی لڑکا تھا۔ وہ احمدآباد اپنے چچازاد بھایئوں کے ساتھ آیا تھا۔ عبدل کو يہاں ایک کارخانے مے کام مِل جاتا ہے۔ تنخواہ بھی کافی اچھی ہوتی ہے، اتنا مانو کی وہ سارے خرچے کرنے کے بعد بھی ایک مفید رقم اپنے ابّا کو بھیج دیتا تھا۔ ایک دن وہ روز کے معمور کے مطابق اپنے مشین پر کام کر رہا ہوتا ہے،وہ دیکھتا ہے ایک لڑکا جو سوٹ بوٹ مے تھا وہ خراب پڑی مشین چالو کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
عبدل نے اُس پر زیادہ دھیان نہیں دیا، تبھی اس کی نظر آگ کی لپٹوں پر پڑتی ہے جو مشین کے پیچھے سے آتی ہوئی معلوم پڑ رہی تھی۔ وہ لڑکا ابھی بھی اسکو ٹھیک کرنے مے لگا تھا، مشین کے دوسرے طرف ہونے کی وجہ سے وہ آگ کو نہیں دیکھ پا رہا تھا۔ عبدل کو لگتا ہے کہ اگر یے آگ مجید بڑھی تو شارٹ۔سرکٹکی وجہ سے بڑا بلاسٹ ہو سکتا ہے۔ وہ ترنت ہی ایک ریت کی بالٹی کو پاس سے اٹھاتا ہے اور کافی بلند آواز مے بولتا ہے۔ "سامنے سے ہٹ جاؤ”۔ اور اس ریت کی بالٹی کو آگ میںاُڑھیل دیتا ہے۔ آگ بجھ جاتی ہے، یے دیکھکر عبدل ایک لمبی سانس لیکر اُس نوجوان سے بولتا ہے:-” صاحبجی خراب مشین کو کیوں چھیڑ رہے ہو اگر آگ اور بڑھ جاتی تو آپ کی جان بھی کا سکتی تھی”۔ اس نوجوان کا نام گوپال تھا یہ کارخانے کے مالک کا بیٹا تھا۔ گوپال اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولتا ہے۔
گوپال:- "شکریہ میری جان بچانے کے لیے، مُجھے لگا کی انجینئر ہوں تو شاید اِسے ٹھیک کر پاؤں، پر مُجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ اتنا بھی خطرناک کچھ ہو سکتا ہے”۔
عبدل:- "صاحب جی اِسے بڑے بڑے انجینئر ٹھیک نہیں کر پائے، پتا نہیں کب سے بند پڑی ہی، مالک اسکو ہٹا کر نیا لانے کی بات کر رہے تھے”۔
گوپال:- "کون مالک کہیں میرے پاپا کی بات تو نہیں کر رہے تم”۔
عبدل:- "پاپا؟؟؟ تو ناراین جی آپکے پاپا ہیں صاحب؟؟”۔
گوپال:- "ہاں وہ میرے پاپا ہیں، اور تم نہ مُجھے صاحب جی صاحب جی بولنا بند کرو، ایسا لگتا ہے میں اپنے پاپا کی طرح عمردراج ہو گیا ہوں، دوست تم مُجھے صرف میرے نام سے بُلا سکتے ہو، میرا نام گوپال ہے”۔
عبدل:- "میرا نام عبدل ہے، اور میں یہاں ایک مزدور کے طور پہ کام کرتا ہوں”۔
(تبھی ناراین جی بھی وہاں آ جاتے ہیں)
عبدل:- "سلام بڑے صاحب”۔
ناراین جی:- "سلام۔۔ سلام۔۔اور بیٹا گوپال کیسا جا رہا ہے پہلا دن، اپنا آفس دیکھا کی نہیں؟”۔
گوپال:- "مت پوچھیے پاپا اگر آج یہ عبدل نہ ہوتا تو میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا، وہ دراصل میں اِس خراب مشین کو ٹھیک کر رہا تھا تبھی اسمیں آگ لگ گئی اور وہ بڑی وصفوٹ میں بھی تبدیل ہو سکتی تھی”۔
ناراین جی:- "ہائے رام کِتنی بار کہا ہے تم کو، کی ایسی حرکتیں مت کیا کرو، وہ تو شکر ہے پرمتما کا جس نے اِس لڑکے کو وقت پر بھیج دیا، اب تم صرف آفیس کا کام دیکھوگے”۔
گوپال:- "ٹھیک ہے پاپا، پر میں بول رہا تھا کی اگر میں عبدل کو اپنااسسٹنٹ بنا لوں تو کیسا رہےگا، ویسے بھی میں یہاں ابھی صرف اسی کو جانتا ہوں”۔
ناراین جی:- "ٹھیک ہے رکھ لو ویسے بھی یے نوجوان بہت محنتی ہے”۔
عبدل کو یقین نہیں ہوتا کی اب اُسکی ترقّی ہو چُکی ہے، مارے خوشی کے وہ پھولے نہیں سما رہا تھا، وہ ناراین جی کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور گوپال سے بولتا ہے۔
عبدل:- "دوست تم میرے لیے فرشتے سے کم نہیں، تمہارا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے”۔
گوپال:- "ارے شکریہ کس بات کا، بھگوان ہر کِسی کو کبھی نہ کبھی اچّھا موقع ضرور دیتا ہے، اور ویسے بھی جان کا قرض ہے تمہارا مجھپر، اب چالو آج کام دیکھتیں ہیں”۔
دونوں گوپال کے آفیس کی طرف رُخ کرتے ہیں، یہاں عبدل کو بہت سکون تھا، اُسے مشینوں پر بیٹھ کر پسینا بہانے کی ضرورت نہیں تھی، یہاں اُسکا کام بس اے ۔ سی میں بیٹھنا تھا اور جب گوپال کوئی فائل مانگے تو اسکو الماری سے نکال کر دینا۔ ایسے ہی روز۔ بروز دن گزرتے جا رہے تھے۔ گوپال اور عبدل اب اچّھے دوست بن گئے تھے، دونوں آفیس کا کام یوں ہی تفریح مے پورا کر دیتے تھے، گوپال عبدل کو اپنے گھر کے ہر دعوت میں ضرور بلاتا، دونوں ساتھ میں خاصا وقت گزارنے لگے تھے۔ پر اِنکی دوستی ناراین جی کو اورعبدل کے چچاذاد بھایئوں کو خٹکنے لگی تھی۔ دراصل اس وقت بابری مسجد کا مسئلہ چل رہا تھا، جس کے وجہ سے پورے ملک میں تناؤ کا ماحول تھا۔ ہندو مسلم تکرار بڑھ گئے تھے۔ دنگے ہونا ایک عام بات ہو گئی تھی۔ ایک زہر ساگھلا ہوا تھا مُلک کے چاروں فضاؤں میں۔ایک روز ایسے ہی گوپال اپنے پاپا سے عبدل کی تعریفیں بیان کر رہا تھا، ناراین جی بہت ہی کڑھے ہوئے انداز مے بولے:-ناراین جی:- "کیا تو ہر وقت اُس مُلّے کی باتیں کرتا رہتا ہے، یے سالے جہادی کِسی کے نہیں ہوتے، دیکھ نہیں رہا ہمارے مندروں کی کیسے ہڑپ کے بیٹھے ہیں۔ اور تو اُنھیں میں سے ایک کو اپنا ہمراز بنائے ہوئے ہے”۔
گوپال:- "پاپا بند کریں اپنی یے بیکار کی باتیں اور مُجھے کیا مطلب دوسروں سے، میرا عبدل ایسی مذھبی باتوں سے دور رہتا ہے، اور بھول گئے اُسنے میری جان بچائی تھی”۔ناراین جی:- "تو کون سا بڑا احسان کر دیا اُسکی ترقّی کر کے مینے سارا احسان چُکتا کر دیا”۔
گوپال:- "پاپا آپ کو بھی مذھب کی بیماری لگ جائیگی یہ مینے سوچا نہیں تھا”۔
یہ بولر گوپال وہاں سے غصے میں نکلتا ہے اور کارخانے کی اُور چل دیتا ہے۔ گوپال آج بہت اُداس اور گمسم سا لگ رہا تھا، عبدل اسکو اُداس دیکھ کر پُوچھتا ہے۔
عبدل:- "کیا ہوا میرے بھائی آج تمہارا چہرہ اتنا لٹکا سا کیوں ہے؟”۔
گوپال:- "مت پوچھیار آج پاپا نے پورا مُوڈ خراب کر دیا، جانے کیا اناپ۔شناپ بک رہے تھے تمہارے بارے میں، ارے وہیں مذھبی باتیں”۔
عبدل:- "اچّھا تو یہ ماجرا ہے، ارے گوپال بھائی ایسی باتوں پر دھیان ہی کیوں دینا جب تمہیں پتہ ہے کی میں صحیح ہوں تم صحیح ہو۔ ایسے تو میرے چچازاد بھائی بھی تمہارے بارے میں کان بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، بولتے ہیں کہ:- یے کیا کافر سے دوستی کر رکھی ہے، ایک دن پچتائیگا، یہ کافر کبھی ہمارے سگے نہیں ہو سکتے، پر میں اِن سب باتوں کا کوئی دھیان نہیں دیتا”۔
گوپال:- "(گہری سانس لیکر) بھائی تم نے میری آنکھیں کھول دی میںنہ جانے کیا کیا سوچنے لگا تھا”۔
عبدل:- "(مسکراتے ہوئے) یار ایک اور بری خبر ہے”۔
گوپال:- "(سنجیدگی سے) کیوں کیا ہوا”۔
عبدل:- "یار وہ کل ابّو کا فون آیا تھا بول رہے تھے، میری شادی کا رشتہ طے کر دیا ہے۔ اسی ہفتے نکاح ہونا ہے”۔
گوپال:- "یار یہ تو بہت خوشی کی بات ہے، پھر تم اُداس کیوں ہو”۔
عبدل:- "پریشانی کی بات یہ ہے کہ ابّا بول رہے تھے کی شادی کے بعد اپنی بیوی کو اپنے ساتھ احمدآباد لے جانا، اب تم ہی بتاؤ میں یہاں خود ۱۲بائی ۱۲کے کمرے میں رہتا ہوں
اسکو کہاں رکھونگا”۔
گوپال:- "دیکھو ہمارے کارخانے کے طرف سے بڑے بڑے افسروں کو رہنے کے لیے کوارٹرس (quarters) دیے جاتے ہیں، اُن میں سے ایک خالی ہے، وہ میں تمہارے لیے آلاٹ (allot) کروا دیتا ہوں”۔عبدل:- "پر میں تو کوئی بڑا افسر نہیں”۔
گوپال:- "تم میرے لیے صبسے خاص ہو میرے دوست، یہ لو اُس کوارٹرکی چابهی”۔
عبدل:- "شکریہ میرے دوست، پر مُجھے کل ہی روانہ ہونا ہے گھر کے لیے، ایک حفتے میں واپس آؤنگا، تمہاری بھابھی کو لیکر”۔
گوپال:-” جلدی جاؤ اور شادی کرکے بھابھی کو لے آؤ پھر ساتھ ملکر دعوت کرینگے”۔
اگلے صبح عبدل بہار کی طرف روانہ ہوتا ہے، وہ جب اپنے گھر پہچتا ہے تو دیکھتا ہے شادی کی رسمیں پہلے سے ہی چالو ہیں، اُسکے ابّا اسکو ایک تصویر دیکھاتے ہیں اور بولتے ہیں ۔
عبدل کے ابّا:- "(بھوجپوری میں) ببُوا یہیں ہے تو ار ہوکھے والی بیوی، ہے نہ بہت سندر، اِسکا نام کلثوم ہے”۔عبدل:- "(بھوجپوری میں) ابّا، تو ار پسند غلط ہو ہی نہی سکت”۔
عبدل کے ابّا:– (بھوجپوری میں)”اب جاکے جلدی سے نہادھوکر تیار ہو جا، نا تہ نکاح کے لیے دیر ہو جائ”۔نکاح بہت دھوم دھام سے ہوتی ہے، عبدل آج بہت خوش تھا، کلثوم بہت اچھی لڑکی تھی، زیادہ پڑی لکھی تو نہیں تھی پر سمجھدار تھی۔ کلثوم اور عبدل کی جوڑی بہت اچھی تھی، دونوں ایک دوسرے کو شادی کے تین دن میں ہی اچھی طرح سے جان چُکے تھے۔ بہت جلد ہی ایک ہفتے پورے ہو جاتے ہیں اور دونوں اب احمدآباد کے لیے نکلتے ہیں۔ احمدآباد پہچ کر عبدل کوارٹر(quarter)میں شفٹ (shift) ہو جاتا ہے۔ جب اُسے آفیس مے گوپال دیکھتا ھے تو اُسکے خوشی کا ٹھکانہ نہ رہتا، مانو کِسی مرجھائے پھول کو غذا مل گئی ہو۔
گوپال:-"اور میرے دوست سفر کیسا رہا، اور بھابھی سے کب ملا رہا ہے”۔
عبدل:- "آج آؤ نہ تم میرے گھر پے میری طرف سے دعوت ہے تمہارے لیے، اسی بہانے اپنے بھابھی کے ہاتھ کا کھانا بھی کھا لینا”۔
گوپال:- "اس سے اچھی دعوت تو ہی ہی نہیں سکتی میرے لیے، آج رات ۸ بجے آتا ہوں
میں تمہارے پاس”۔
عبدل:- "آج پہلی بار تم میرے ہاں دعوت پے آؤگے تو مجھے تیاری کرنی ہوگی، اسلئے میں زرا چلتا ہوں”۔
شام کو جب گوپال عبدل کے ہاں پہنچتا ہے تو دیکھتا ھے ایک دسترخوان پے کئی طرح کے پکوان رکھے ہوئے ہیں۔ گوپال عبدل سے بولتا ہے۔
گوپال:- "یار اتنی زحمت کرنے کیا ضرورت تھی، اتنی ساری چیزیں میں کیسے کھا پاونگا’۔
عبدل:- "یار پہلی بار تو تم میرے گھر پر آئے ہو کچھ تو خاطر تواضع ہوگی ہی، ویسے یہ سب پکوان تمھارے بھابھی نے بنایا ہے”۔
گوپال:- )”کھانا کھانے کے بعد) واہ کیا لذیذ ہیں یہ سارے پکوان، آج تک مینے کسی بھی دعوت مے اتنا لذیذ کھانا نہیں کھایا”۔
عبدل:- "ہے نہ تمہارے بھابھی کے ہاتھوں میں جادُو، ویسے جب تمھارا من کرے تم میرے ساتھ یہاں کھانے پے چلے آنا بغیر جھجھک کے”۔
گوپال:- "کیوں نہیں، ویسے بھابھی ہیں کہاں مُلاقات کر لوں زرا”۔
عبدل:- "روکو میں بُلا کر لاتا ہوں تھوڑی شرمیلی ہے”۔کلثوم:-"(شرماتے ہوئے) سلام بھائی جان”۔گوپال:- "سلام۔۔، ویسے کھانا بہت اچھا تھا بھابھی،یہ لیجیے آپکی منھ دیکھائی کی رقم”۔
کلثوم:- "شکریہ بھائی جان”۔
گوپال:- "کیا خوبصورت جوڈی ہے تم دونوں کی، بھگوان یوں ہی خوشحال رکھے تمہیں، عبدل یار اب میں چلتا ہوں۔)گوپال وہاں سے چل دیتا ہے)
گوپال اکثر آفیس کے بعد عبدل کے ساتھ اُسکے گھر ضرور جاتا تھا،عبدل اور کلثوم کے دن کافی خوشحالی مے گزر رہے تھے، گوپال بھی انکے خوشی کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے، ایک سال بعد عبدل اور کلثوم کو ایک بیٹا پیدا ہوتا جو اُنکی خوشی میں چار چاند لگا دیتا ہے، اِسکا کوئی نام تو نہیں ہوتا پر مونّا کے نام سے پکارتے تھے۔ پھر ایک دن آتا ہے ۲۷ فروری ۲۰۰۲ ، گودھرا جو کے احمدآباد سے قریب ۱۲۰ کیلومیٹر کے دوری پر ایک شہر تھا، یہاں کے ٹرین اسٹیشن پر ایک دھمکا ہوتا ہے جسمیں کئی لوگ مارے جاتے ہیں۔ گوپال اس بات سے انجان ہوتا ہے کے اسکی بہن بھی اس دھماکے میں ماری گئی تھی جو احمدآباد کو آ رہی تھی، وہ اپنے گھر پہنچتا ہے تو دیکھتا ھے اُسکے پاپا زاروقطار رو رہے ہیں۔
گوپال:- "پاپا کیا ہوا آپ رو کیوں رہے ہیں اور دیدی کہاں ہیں ابھی تک آئیں نہیں”۔
ناراین جی:- اور اب واپس آئیگی بھی نہیں، ان مُلّوں نے میری بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیا، کیا غلطی تھی بیچاری کی، خیر تُجھے کیا مطلب تو تو اب اُن مے سے ایک ہو چُکا ہے، کیا اب بھی تو ان حرامزادوں کو اپنا مانیگا، مینے کہا تھا ہم چاہے انہیں اپنا مان لیں پر یہ ہمارے پیٹھ پیچھے چُھرا ضرور بھوکنگے”۔
گوپال اپنے باپ کی باتیں سُن کر یے بھول جاتا ہے کے اُسکا کوئی مسلم دوست بھی ہے اُسے بس اپنے بہن کی موت نظر آ رہی تھی۔گوپال:- "پاپا آپ چُپ ہو جاؤ میں اپنی بہن کا بدلہ انسے ضرور لونگا”۔
گوپال شام کو عبدل کے گھر پے آتا ہے، گوپال آج بہت چُپ بیٹھا ہوتا ہے، عبدل بولتا ہے۔
عبدل:- "یار آج کل مُلک مے یہ کیا ہو رہا ہے، لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے بیٹھے ہیں، آج جو گودھرا میں ہوا بہت دردناک تھا”۔
گوپال:- "آج اِن مُلّوں نے میری بہن کی جان لیلی، ان کو تو میں چُن چُن کر مارونگا”۔
عبدل:- ” افسوس ہوا سُن کر، پر یہ کیسی بہکی باتیں کر رہے ہو تم، جنہوںنے یہ کام کیا ہے قانون اُنھیں ضرور سزا دیگی، اور میں بھی تو ایک مسلمان ہوں”۔
گوپال:- "ہاں تو کیا، تم لوگ سالے اس مُلک میں رہنے کے لايق نہیں ہو، قانون گیا بھاڑ مے میں چھوڈونگا نہیں اِن لوگوں کو”۔
عبدل:- "ابھی تو ہوش میں نہیں ہے، کل آ پھر بات کرتے ہیں ابھی جاکے آرام کر”۔
اِس وقت پورے گجرات میں دنگے بھڑک چُکے تھے، غریب معصوم مسلمان جو مزدور تھے انکے بستیوں کو آگ لگائی جا رہی تھی، ان کے ماں بیٹیوں کی عزت سرعام لوٹی جا رہی تھی، عورتیں بیوہ ہو رہیں تھی، احمدآباد کو بھی اِن دنگائیوں نے نہ چھوڑا، احمدآباد میں مسلمانوں کے گھروں کو چُن چُن ٹارگیٹ کیا جا رہا تھا۔ جہاں خبر ملی کی یہ گھر مسلم کا ہے دنگائی اُس پر ٹوٹ پڑتے۔ اُس راتگوپال عبدل کے گھر کے باہر اسلحہ لیے کھڑا تھا، اُسکے دِماغ مے غصّہ ضرور تھا، پر جب وہ کھڑکی سے اندر جھانک کر دیکھتا ہے تو اُسکا سارا غصّہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، اپنے دوست کو یوں پریشان اور سہما دیکھ کر اُسے ترس آ جاتا ہے۔ (وہ دروازے پر دستک دیتا ہے)
گوپال:- "عبدل۔۔ عبدل۔۔ دروازہ کھولو میں ہوں”۔
عبدل:- "میرے دوست مُجھے معلوم تھا تم ضرور آؤگے”۔وہ دروازے پر ہوتا ہیہے کہ تبھی ایک دنگای عبدل کے کرتے کو دیکھ لیتا ہے اور بولتا ہے "سنوں رے سب لوگ یہ رہا ایک مُلّا”۔ عبدل دروازہ بند کرتے ہوئے بولتا ہے۔
عبدل:- "گوپال تم جلدی سے مُنّا اور کلثوم کو یہاں سے کے جاؤ پیچھے کے دروازے سے میں آتا ہوں”۔
گوپال:- "پر میں تمہیں تنہا چھوڑ کے کیسے جاؤں”۔
عبدل:- "تم جاؤ، یہ دنگائی کِسی کے سگے نہیں ہوتے، یہ تمھیں بھی مار دینگے اگر تمنے میری سفارش کی تو، یہ وقت بہس کا نہیں ہم دونوں میں سے کسی ایک کو یہاں روکنا ہوگا۔
کلثوم:میرے سرتاج میں کہیں نہیں جا رہی آپکو چھوڑ کر، میں یہاں آپکے ساتھ آئی تھی آپکے ساتھ ہی باہر جاؤنگی، گوپال بھائی آپ مُنّا کو لیکر جلدی نکلے یہاں سے”۔گوپال پیچھے کے دروازے سے نکلتا ہے، اور بچّے کو لیکر پوری جان سے دوڑتا ہے، خوف کے مارے کب وہ ۵ میل دور آ جاتا ہے اُسے پتہ ہی نہیں چلتا، وہ اب تھک چکا ہوتا ہے، اسلئے وہ ایک جگہ چُھپ جاتا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کرتا ہے۔ اِدھر عبدل اور کلثوم دنگایوں سے بچکر جیسے ہی بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں، دانگای انہیں گھیر لیتے ہیں، عبدل بہت بہادری سے انکا مقابلہ کرتا ہے، پر اُن سب کے سامنے وہ پست ہو جاتا ہے، وہ اپنے آنکھوں کے سامنے کلثوم کی عزت کو لوٹتے ہوئے دیکھتا ہے پر کچھ کر نہیں پاتا، آخر میں دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے ہمیشہ کے لیے سو جاتے ہیں۔
اِدھر صبح ہوتی ہے گوپال بھاگا بھاگا عبدل کے گھر کی اُور دوڑتا ہے پر راستے میں ہی اُسے عبدل اور کلثوم کی لاش پڑی ہوئی مِلتی ہے، اُسکے منھ سے ایک زور کی چینخ نکلتی ہے، وہ سوائے رونے کے اور کچھ نہیں کر پایا، اُسنے اُن دونوں کو پاس کے ہی ایک قبرستان میں دفن کرایا، اور مُنّا کو اپنے گھر لے آیا، ناراین جی یہ جانتے ہیں تو وہ غصّہ نہیں کرتے وہ بس اتنا بولتے ہیں۔
ناراین جی:- "بیٹاجب مذہب دل سے دماغ مے داخل ہو جائے تو وہ کچھ بھی کرا سکتی ہے، مُجھے ناز ہے تم پر بیٹا کی تمنے اپنے دوست سے کیے وعدے کو نبھایا”۔
گوپال:- "اب میں ہی اِسکی پرورش کروںگا پاپا، اب میں ہی اِسکا باپ اور میں ہی اسکی ماںہوں، اور اِسکا نام آج سے مُنّا نہیں احمد ہوگا”۔
گوپال اس بچّے کی پرورش کرتا ہے، اور اسکا مزہب بھی نہیں بدالواتا اسے اسلامی تعلیم کے لیے مدرسے میں بھیجتا ہے، اور ہر عید اور بکرعید کے موکے پر وہ اُسکے ماں باپ کے قبر پر لے جاتا ہے، گوپال نے اپنے پوری زندگی میں کوئی شادی نہیں کی….
، اپنی ساری خوشیاں اپنے دوست کے ایک لوتےنشانی پر قربان کر دیتا ہے، احمد گوپال کو ابّا ہی بولتا
تھایے جانتے ہوئے بھی کہ یے اُسکا اصل باپ نہیں ہے۔ گوپال آگے چلکر بہت بڑا سماجی کارکن بنتا ہے اور وہ اپنا زیادہ تر وقت لوگوں کے بیچ مذھبی دوریوں کو کم کرنے میں لگاتا ہے۔ آج جانے کتنے ایسے عبدل اور کلثوم اس ملک میں پڑے ہوئے ہیں جو مذھبی دنگوں کے شکار ہیں، اور جانے ایسے کتنے لوگ ہیں جو کچھ لوگوں کی باتوں میں آکر مذھبی فتنوں مے شامل ہو جاتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کی انسانیت سے بڑا کوئی مزہب نہیں، آج آجزدی کے اتنے سالوں بعد بھی اتنی ترقّی یافتہ ہونے کے بعد بھی ہمارے خون میں جو جہر آزادی سے پہلے گھلی ہوئی تھی، اب بھی اُسکی مقدار اتنی ہی ہے، اور کہیں تو زیادہ ہی ہے، ہم کہنے کو تو ایک ساتھ رہتے ہیں پر ایک دوسرے کو دیکھنا نہیں چاہتے، اور ہمارے نوجوان اسمیں سب سے زیادہ مبتلا ہیں، اور اسمیں کِسی کا رول سبے زیادہ ہے تو وہ ہمارے مُلک کے سیاست دانوں کا ہے، چند ووٹوں کے لیے لوگوں کی قومی توفیکتا کو ختم کرنے پر آمادہ رہتے ہیں یہ لوگ، اسلیئے ھمیں یہ سمجھنا ہوگا کی "مذہب جب تک دل مے رہے تو وہ اچّھا ہے اور اگر وہ دماغ مے داخل ہو گیا تو وہ انسان کو حیوان بنا دیتا ہے”۔



