
گلیشیر ٹوٹنے کے باعث چمولی میں خوفناک طغیانی170 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ، 16افراد تپوو ن سرنگ سے بازیاب

چمولی: (اردودنیا.اِن)اتراکھنڈ میں اتوار کی صبح ساڑھے دس بجے کے قریب ایک بہت بڑا حادثہ پیش آگیا۔ ریاست کے چمولی ضلع کے تپوون میں گلیشیر ٹوٹ کردریائے رشی گنگا میں گر گیا، جس سے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور دھولی گنگا پر بن رہا ڈیم بھی بہہ گیاہے۔تپوون میں نجی پاور کمپنی اور سرکاری کمپنی این ٹی پی سی کے رشی گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام جاری ہے۔

اس تباہی کاسب سے زیادہ یہاں نقصان ہوا ہے۔ رشی گنگا پروجیکٹ میں کام کرنے والے تقریبا 15 سے 20 مزدورکے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ علاوہ ازیں این ٹی پی سی پروجیکٹ میں ڈیڑھ سو کے قریب مزدوروں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔پروجیکٹ سائٹ سے تین افراد کی لاش ملی ہے ۔ اُدھر موقع پر ریسکیوکرکے آئی ٹی بی پی کی ٹیم نے تپوون پروجیکٹ کے قریب سرنگ میں پھنسے تمام 16 افراد کو نکال لیا ہے۔
حادثے کے بعد این ڈی آر ایف اور اے ڈی آئی آر ایف کی ٹیمیں موقع پر پہنچی ہیںاور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ گلیشیر کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی دریائے دھولی نے خوفناک شکل اختیار کرلی۔ دریا میں’ آئی طغیانی نے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرکے آگے بڑھنے لگی ۔ رشی گنگا پاور پراجیکٹ کے مقام پر پہنچ کر یہ دریا اتنا وسیع ہوگیا کہ اپنے ساتھ پورا ڈیم بہا لے گیا ۔
وزیر اعلی تریویندر سنگھ راوت موقع پر پہنچے ہیں اور صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس حادثے کے بعد سے الک نندا اور گنگا کے کنارے والے علاقہ میں بسے لوگوں میں خوف و ہراس ہے۔ رشی کیش میں رافٹنگ اور کشتیوں پر پابندی عائد لگادی گئی ہے، سری نگر ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ڈیم کو بھی خالی کرالیا گیا ہے ۔
دریاؤں کے کنارے بنے مکانات بہہ گئے، اس کے بعد آس پاس کے دیہاتوں کو خالی کرا لیا گیا۔رشی گنگا پاور پروجیکٹ دریائے ریشی گنگا کے کنارے واقع رینی گاؤں میں واقع ہے، یہ منصوبہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ یہاں سے قریب 15-20 مزدور لاپتہ ہیں۔ جوشی مٹھ ملیریا ہائی وے پر واقع بی آر او پل بھی یہاں ٹوٹ گیا۔
#WATCH | Water level in Dhauliganga river rises suddenly following avalanche near a power project at Raini village in Tapovan area of Chamoli district. #Uttarakhand pic.twitter.com/syiokujhns
— ANI (@ANI) February 7, 2021
یہاں 6 چرواہے اور ان کے مویشی پانی میں بہہ گئے۔ ریسکیو ٹیمیں یہاں پہنچی ہیں ۔اس کے بعدجہاں رشی گنگا کا پانی دھولی گنگا سے ملتا ہے ، پانی کی سطح میں بھی اضافہ ہوا۔ پانی این ٹی پی سی پروجیکٹ میں بھی داخل ہوگیا۔ فوج نے ایس ڈی آر ایف ، این ڈی آر ایف ، آئی ٹی بی پی کے علاوہ 600 فوجی اہلکار کو چمولی بھیجا ہے،اس کے علاوہ فضائیہ نے ایم آئی 17 اور دھروف سمیت تین ہیلی کاپٹر بھی امدادی مشن پر بھیجاہے۔
ایئر فورس نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر مزید طیارے روانہ کئے جائیں گے۔حادثے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے اتراکھنڈ کے سی ایم تریویندر سنگھ راوت سے بات کی اور ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا ہے۔وزیر اعلی تری ویندر سنگھ راوت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں ،حکومت نے ہیلپ لائن نمبر 1905 ، 1070 اور 9557444486 جاری کردیئے ہیں۔
حکومت نے اپیل کیا ہے کہ وہ اس واقعے کے بارے میں پرانی ویڈیوز جاری کرکے افواہیں نہ پھیلائیں۔ ہریدوار میں کمبھ میلہ جاری ہے اس لئے وہاں ایک الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اتراکھنڈ پولیس کے مطابق ، سری نگر ، رشی کیش اور ہریدوار میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر جا سکتی ہے۔اترپردیش میں گنگا کے کنارے واقع شہروں میں الرٹ جاری کردیاگیا ہے۔
خیال رہے کہ16-17 جون 2013 ن میں بادل پھٹاتھا،جس کے نتیجے میں گلیشیر ٹوٹ گیا جس سے رودر پریاگ ، چمولی ، اتراکاشی ، ، الموڑا ، پٹورا گڑھ اضلاع میں بڑی تباہی مچی تھی۔ اس تباہی میں 4400 سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے تھے۔ 4200 سے زیادہ دیہات سے رابطہ ختم ہوگیا۔
ان میں 991 مقامی افراد مختلف مقامات پر ہلاک ہوئے۔ 11091 سے زیادہ مویشی سیلاب سے بہہ گئے یا ملبے تلے دب گئے۔ سیلاب سے 1309 ہیکٹر دیہات کو نقصان پہنچاتھا ۔
چمولی میں ڈیم ٹوٹنے سے 150 سے زائد افراد کے ہلا ک ہونے کا خدشہ
اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں رشی ڈیم گنگا پروجیکٹ پر ندی میں گلیشیر ٹوٹنے کے بعد گلیشیر سمیت پہاڑیوں کا ملبہ گرنے سے ندی کے نزدیک کام کرنے والے 100 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
چیف سکریٹری اوم پرکاش نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ میں کم از کم 100 سے 150 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعلیٰ تریویندر سنگھ راوت نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد ٹہری ڈیم کا پانی روک دیا گیا ہے جبکہ سری نگر ڈیم پروجیکٹ سے پانی پوری طرح چھوڑ دیا گیا ہے اور تمام گھیٹ کھول د یے گئے ہیں تاکہ پہاڑوں سے آ رہا پانی ڈیم کو نقصان نہ پہنچا سکے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ الیکندی ندی کے راستے سے سبھی پروجیکٹ جس میں ریلوے کے کا موں کے علاوہ چار دھام روڈ پر کام بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ گنگا ندی میں رافٹنگ کو بھی روک دیا گیا ہے، آس پاس کے کیمپ خالی کرا لئے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں پہنچ چکی ہیں۔ مرکز سے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیم ضرورت پڑے پر بلائی جاسکتی ہے۔ اس واقعہ کے بعد اتراکھنڈ، اتر پردیش میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
چمولی، رودر پریاگ، کرن پریاگ، رشی کیش اور ہری دوار کے تمام گھاٹوں کو خالی کرا لیا گیا ہے اور آس پاس رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقاما ت پر جانے کے لئے کہا گیا ہے اور ندی کے کنارے آباد بستیوں کو خالی کرایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہاڑوں پر موسلا دھار بارش کے بعد گلیشیئر کے سات پہاڑ دھولی گنگا میں گرنے کے سبب وہاں کا ڈیم ٹوٹ گیا۔ جس پر کام چل رہا تھا اور وہاں کام کرنے والے تقریب ڈیڑھ سو افراد لاپتہ ہیں، جن میں سے زیادہ تر گنگا میں آنے والے ملبے میں بہہ گئے ہیں،
جس کے بچنے کی امید بہت کم ہے۔وزیر اعلی نے بھی بھاری جا نی و مالی نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا ہے، حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ چمولی تک آتے آتے گنگا ندی میں پانی کا بہاؤ کافی حد تک کم ہوچکا ہے اور اب صورتحال قابو میں ہے۔




