قومی خبریں

پاکستان کے لیے اور بھی سخت الفاظ استعمال کئے جاسکتے تھے: جے شنکر

ہندوستان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیےepicenter ایک بہت ہی مختصر اور سفارتی اصطلاح ہے

نئی دہلی، 3 جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے اکثر پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دینے میں پڑوسی ملک کے کردار کو دیکھتے ہوئے، وہ پاکستان کے لیے زیادہ سخت الفاظ استعمال کر سکتے تھے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے لیے دہشت گردی کے مرکز کی اصطلاح کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صرف اس لیے کہ آپ ایک سفارت کار ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سچ نہیں بولیں گے۔ میں اس سے زیادہ مشکل الفاظ استعمال کر سکتا ہوں۔ ہندوستان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیےepicenter ایک بہت ہی مختصر اور سفارتی اصطلاح ہے۔ آسٹریا کے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے جے شنکر نے کئی سالوں سے جاری دہشت گردی کے طریقوں کی مذمت نہ کرنے پر یورپی ممالک پر بھی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نظریات اور اقدار کی بات کرتے ہیں تو یورپ کے ممالک ان سرگرمیوں کی مذمت کیوں نہیں کرتے جو کئی دہائیوں سے ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہی ملک ہے جس نے چند سال پہلے ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملہ کیا، ممبئی شہر پر حملہ کیا، جو آئے روز سرحد پار سے دہشت گرد ہندوستان بھیجتا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا دنیا کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے۔ جے شنکر نے نے اس پر کہا کہ میرے خیال میں دنیا کو دہشت گردی کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ دنیا کو اس بات پر فکر مند ہونا چاہیے کہ دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے باوجود دنیا اسے نظر انداز کر رہی ہے۔ دنیا اکثر محسوس کرتی ہے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ یہ کسی اور ملک کے ساتھ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں دنیا کو جس چیز کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کی طرف سے درپیش چیلنجوں سے مضبوطی سے کیسے نمٹا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button