کشمیر:75 سال بعد گاؤں میں پہلی بار بجلی کی ترسیل پر ناچ کر منایا جشن
گاؤں کے مکینوں نے 75 سالوں میں پہلی بار بجلی دیکھی ہے
سری نگر، 10جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کشمیر کے ایک گاؤں میں پہلی بار بجلی مہیا کی گئی ہے۔ 200 افراد کی آبادی پر مشتمل جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ٹیتھن نامی گاؤں کے لوگ اب تک توانائی کے حصول کے لیے لکڑی اور روشنی کے لیے موم بتیوں جیسے روایتی ذرائع پر انحصار کر رہے تھے۔گاؤں کو اب مرکزی حکومت کی ایک اسکیم ’وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج‘ کے تحت بجلی ملی ہے۔ اے این آئی نے اننت ناگ کے پاور ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار فیاض احمد صوفی کا حوالے سے کہا کہ ہم نے 2022 میں نیٹ ورکنگ کا عمل شروع کیا تھا، لیکن ایک ہائی ٹینشن لائن کو ٹیپ کرنے کا مسئلہ تھا۔ تاہم آج اس دور افتادہ علاقے کو بجلی فراہم کر دی گئی ہے۔ ہم نے یہاں 63 کے وی کا ٹرانسفارمر نصب کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں کے مکینوں نے 75 سالوں میں پہلی بار بجلی دیکھی ہے۔سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں گاؤں کے رہائشیوں کو رقص کرتے اور جشن مناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ رہائشی فضل الدین خان نے کہا کہ ہم نے آج پہلی بار بجلی دیکھی ہے۔ ہمارے بچے اب روشنی میں پڑھیں گے۔ وہ خوش ہوں گے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ہم اب تک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے روایتی لکڑی پر انحصار کرتے تھے۔ ہمارے مسائل اب حل ہو گئے ہیں۔وزارت بجلی کے مطابق ملک کے تمام 18374 آباد دیہات کو 28 اپریل 2018 تک بجلی پہنچا دی گئی تھی۔ اس تعداد میں 1,305 غیر آباد دیہات شامل نہیں تھے۔دہلی میں قائم تھنک ٹینک کونسل آن انرجی، انوائرمنٹ اینڈ واٹر کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق96.7 فیصد گھرانے اب گرڈ سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ 0.33 فیصد آف گرڈ بجلی کے ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔
Celebrations after electricity reached in Tethan Top #GurjarBasti, #Anantnag
In South #Kashmir after Independence @GoodNewsToday @manojsinha_ @pddjkofficial pic.twitter.com/SkGYmgbUBL— Ashraf Wani اشرف وانی (@ashraf_wani) January 9, 2023



