لمحۂ فکریہ یہودیوں کے نشان ’’ڈیوڈ اسٹار‘‘ کے استعمال سے بچیں
✍️ مفتی محمد عبدالمجید دین پوری
دین اسلام ایک کامل اور مکمل مذہب ہے اور تمام ملتوں اور شریعتوں کا ناسخ بن کر آیا ہے، وہ اپنے پیرؤوں کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ ناقص اور منسوخ ملتوں کے پیرؤوں کی مشابہت اختیار کی جائے۔ نیز غیروں کی مشابہت اختیارکرنا غیرت کے بھی خلاف ہے۔ جس طرح اسلام اپنی عبادت اور اعتقادات میں مستقل ہے، کسی کا تابع اور مقلد نہیں اسی طرح اسلام اپنی عادات اور معاشرہ میں بھی مستقل ہے کسی دوسرے کا تابع اور مقلد نہیں اسی طرح اسلام اپنی عادات اور معاشرہ میں بھی مستقل ہے کسی دوسرے کا تابع نہیں اور مقلد نہیں۔
ہرملت اور ہر امت کی کی حقیقت جدا ہے اسی طرح ہر ایک صورت اور ہیئت بھی جدا جدا ہے۔ ایک قوم دوسری قوموں سے اس ظاہری معاشرہ کی بناء ممتاز اور جدا سمجھی جاتی ہے جب ایک قوم دوسری قوم کی خصوصیات، امتیازات اور اس کی صورت اور ہیئت اختیارکرلیتی ہے تو اس کی ذاتی قومیت رفتہ رفتہ فنا ہوجاتی ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کوئی جماعت حکومت سے برسر بغاوت ہو اور وہ جماعت اپنا امتیازی نشان یا لباس بنائیں تو حکومت یہودیوں کے نشان اپنے وفا داروں کو اس باغی کی تشبیہ کی اجازت ہرگز نہیں دیتی۔ لہٰذا ڈیو سٹار (چھ کونے والا ستارہ) کے متعلق جو انکشافات کئے گئے ہیں، اور دیگر کتب میں جو یہ باتیں منقول ہیں کہ فراسیسی انقلاب کے بعد یہودیوں کو نجات حاصل ہوئی تو انہوں نے کسی ایسی علامت کو تلاش کرنا شروع کردیا، جسے وہ صلیب کے مقابلہ میں میں اپنی پہچان کے طور استعمال کرسکیں تو انہوں نے شش (چھ) کونے ستارہ پر اکتفاء کیا۔
ایک مقام پر ہے کہ ہالو کاسٹ (نازیوں کا یہودیوں کی تباہی کا منصوبہ) کے دوران نازیوں نے پہلے رنگ کے ستارے کو یہودیوں کے لباس پر شناختی نشان (بیج) کے طور پر لازمی قرار جنگ کے بعد ذلت اور موت کے اس نشان کو یہودیوں نے اپنے لئے اعزاز نشان کے طور پر اپنا لیا۔ آج کے دور میں ڈیوڈ کا ستارہ یہودیوں کی پہچان کا بین الاقوامی معروف ترین نشان مانا جاتا ہے عوامی سطح پر یہود اس ستارے کو اس طرح استعمال میں ہوتا چلا آرہا تھا۔ یورپ میں ڈیوڈ کا ستارہ مذہبی یہودیوں کے سینکڑوں سال پرانے مقبروں کی تختیوں پر بھی دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ یہ یہودیوں کی مقبول علامت کے طور بھی پہنچانا جاتا ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی عظیم مہر پر بھی اس اسٹار کا ڈیزائن (شکل بنی) دکھائی دیتا ہے عظیم مہر کی سامنے والی طرف ستاروں کا جمگھٹا واضح طور پر ڈیوڈ ستارے کی شکل کا ہے جو چھوٹی جسامت کے ۱۳ ستاروں کو ملاکر بنایا کیا ہے نیز یہ عکس ریاست ہائے متحدہ کے ایک ڈالر کے نوٹ طرف بھی موجود ہے۔
عوامی لب ولہجہ میں اسے یہودی ستارہ بھی کہا جاتاہے، اسرائیلی ریاست کے قیام کے ساتھ اسرائیلی جھنڈے پر بنا ہوا، یہ یہودی ستارہ اسرائیل کی پہنچان بن گیا ہے۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد یہودیوںکو آزادی ملنے پر یہودی آبادیوں نے ڈیوڈ اسٹار کو اپنی نمائندگی کے لئے اسی طرح منتخب کیا، جس طرح عیسائی صلیب کا استعمال کرتے ہیں یہ ستارہ اسرائیل کے جھنڈے کا مستقل جز ہے۔ ۱۷ ویں صدی میں ڈیو کے ستارے کو یہودی عبادت گاہوں کے باہر کے حصے پربنانا، آویزاں کرنا ایک عام بات تھی، یہودیوں کی عبادت گاہ کے طور پرپہنچانا جاسکے۔
۱۸۹۷ عیسوی میں شش کونہ ستارہ کو جب ’’زائزم‘‘ (فلسطین میں یہودیوں کی ریاست بنانے کی تحریک) نشان کے طور پراختیار کرلیا تو یہ یہودیت کی معروف علامت کی حیثیت اختیار کرگیا۔
موجودہ دور میں ڈیو اسٹار یہودیوں کی علامت بن چکا ہے، اس ستارے کو ووٹرینگل (دو تکون دائرہ کو ملاکر) بنایا گیا ہے، اور یہ علامت یہودیوں کے میزوز، مینو راس ٹالس بکس کیپاٹ پر پائی جاتی ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ جو چیز یہودی بناتے تھے، اس پر بطور نشان ڈیوڈ اسٹار بناتے تھے تاکہ اس علامت کے معلوم ہو کہ اس کا صانع یہود ہے۔ وہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے سب سے زیادہ یہودیوں کے لئے یہ ستارہ اٹھارہویں میں مشہور ہوا، اس سے پہلے یہ یہودیوں کے گرجوں پر ہوتا تھا، بعد میں ان کے لئے ایک علامت بن گئی۔ وینا (Vienna) (ایک جگہ)میں عیسائیوں اور یہودیوں کی آبادی تھی تو عیسائی صلیب کا نشان اپنے گھر پر لگاتے اور یہود پہنچان کے طور پر ستارہ لگاتے تھے، اس وقت سے یہ یہودیوں کے ساتھ خاص ہوگیا، بعد میں اس ستارے نے اور زیادہ شہرت حاصل کی۔
آج کل یہودیوں کی علامات میں سے سب سے زیادہ مشہور چھ والا ستارہ ہے، لہٰذا مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ (ڈیوڈ اسٹار) چھ کونے والا ستارہ موجود دور میں یہودیوں کی ایسی علامت اور نشان کی صورت اختیار کرچکا ہے، جس طرح کہ عیسائیوں نے صلیب کو بطور علامت بنایا ہے اگرچہ موجودہ وقت میں ہمارے ملک میں ایک بطور تزئین کی شکل اختیار کرلی ہے اور اکثر ان لوگوں میں نمایاں نظر آتے ہیں جو بطور حفاظت گھروں یا دیگر عمارتوں میں نصب کی جاتی ہیں یہاں تک کہ ہمارے مسلمانوں کے مقدس مقامات مساجد وغیرہ میں بھی اس ستارے نے بطور زینت گرلوں میں جگہ پکڑلی ہے لیکن یہ سب اس وجہ سے ہے کہ اس ڈیوڈ اسٹار کے متعلق ہمارے عوام وخواص کوکچھ علم نہیں بلکہ اگر مسلمان خواص تو درکنار عوام کو اس بارے میں معلومات حاصل ہوجائیں تو ان کی دین اور اسلام کے ساتھ وفاداری کا جذبہ اور غیرت اس کو بھی کبھی برداشت نہیں کرے گا،
لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اس قسم کی علامات سے احتراز کریں، اسے استعمال کرنا مسلمانوں کو اسلامی غیرت اور ایمانی جذبہ کے خلاف ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص اس مخصوص علامت (ڈیوڈاسٹار) کو یہود کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے استعمال کرتا ہو یایہودیوں کی علامت معزز سمجھ کر استعمال کرے، تو پھر اس کو اپنانا حرام ہے چنانچہ طحاوی علی مراتی الفلاح میں ہے۔ ترجمہ: اہل کتاب (یہود) کی مشابہت کے قصد سے (کسی چیز کو استعمال) کیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ:
۱۔ مسجد کو اس قسم کی علامات سے دور رکھنا ضروری ہے اس لئے کہ مساجد اللہ کے گھر ہیں اور اللہ کے گھر میں ناپاک لوگوں کی مخصوص علامات کا لگانا وہ شیشے کے نمک پاروں کی صورت میں ہو یا کسی بھی صورت میں ہو ایک مذموم عمل ہے۔
۲۔ چونکہ نماز کے جواز کا تعلق اس کے ساتھ نہیں ہے لہٰذا نماز بلاکراہت درست ہوگی۔
۳۔ جن مساجد، مدارس یادیگر وقف اداروں میں چاہے لوہے کی گرل میں ہو یا دیواروں میں حفاظت کے طور پر نصب شدہ جالیوں میں ہو حتی الوسع اس کو ختم کرنا یا مٹانا چاہئے لیکن اگر اس کے ختم کرنے یا مٹانے میں وقف کا نقصان ہوتا ہو یا وقف کا مال زیادہ خرچ ہو تو کم از کم مذکورہ ستارے کے کونوں کو بند کردیا جائے، تاکہ اسے ان ناپاک لوگوں کی مخصوص علامت نہ سمجھا جائے۔



