سرورققومی خبریں

کانجھا والا کیس: ملزمان نے پی رکھی تھی شراب ؟ ایف ایس ایل کی رپورٹ میں انکشاف

دہلی کے کانجھا والا کیس میں ایف ایس ایل روہنی نے ملزم کے خون کے نمونے کی رپورٹ دہلی پولیس کو سونپی

Kanjhawala case نئی دہلی ، 13جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی کے کانجھا والا کیس میں ایف ایس ایل روہنی نے ملزم کے خون کے نمونے کی رپورٹ دہلی پولیس کو سونپی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزم نے واردات کی رات شراب نوشی کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایف ایس ایل نے بتایا کہ واردات کے وقت گاڑی میں چار ملزمان موجود تھے۔اس سے قبل دہلی پولیس نے کانجھا والا کیس میں جمعہ (13 جنوری) کو اپنے 11 اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا۔ افسران نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ یا د رہے کہ سال نو کی تقریب کے موقعہ پر لڑکی کی اسکوٹی کو کار نے ٹکر مار دی تھی اور ملزمان کار میں پھنسی لڑکی کو سلطان پوری سے کانجھا والا تک تقریباً 12 کلومیٹر سڑکوں پر گھسیٹتے رہے، جس کی وجہ سے متأثرہ لڑکی کی موت ہوگئی۔

حکام نے بتایا کہ جن پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے وہ واقعے کے وقت راستے میں پی سی آر اور چوکیوں پر ڈیوٹی پر تھے۔ اس معاملے میں جمعرات (12 جنوری) کو وزارت داخلہ نے دہلی پولیس کو تین پی سی آر وین اور ڈیوٹی پر موجود تمام اہلکاروں کو دو پوسٹوں پر معطل کرنے کی ہدایت دی۔ اسپیشل کمشنر شالنی سنگھ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔دہلی پولیس نے 2 جنوری کو دیپک کھنہ (26)، امت کھنہ (25)، کرشنا (27)، متھن (26) اور منوج متل کو کنجھا والا کیس میں گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد اس کے ساتھی بھی پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے۔

نیدھی جو متوفی انجلی سنگھ کے ساتھ اسکوٹی پر موجود تھی، نے بتایا کہ انجلی نے بھی مبینہ طور پر شراب پی تھی، اس وجہ سے اس سے اسکوٹی چلانے پر جھگڑا ہوا۔ اس الزام پر انجلی کی ماں نے کہا تھا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔وہیں نیدھی کے بیان کو دہلی خاتون کمیشن نے بھی ’’ ڈھونگ‘‘ قرار دیا ہے، وہیں نیدھی کے کردار پر بھی سو ال اٹھ رہا ہے ، کیوں کہ منشیات کے جرم میں نیدھی 2سال مبینہ طو ر پر جیل کی سزا کاٹ چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button