صحن مکہ مسجد میں نصف صدی بعد شاہی خاندان کے شخص کی تدفین
1970ء میں مکرم جاہ بہادر کے والد نواب میر حمایت علی خان اعظم جاہ بہادر کی تدفین ہوئی تھی
نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کا چومحلہ پیالیس میں آخری دیدار
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تاریخی مکہ مسجد کے صحن میں موجود مقابر سلاطین آصفیہ میں نصف صدی بعد کسی شاہی خاندان کے شخص کی تدفین عمل میں لائی جائے گی۔ موجودہ نسل کے لئے صحن مکہ مسجد میں تدفین کا مشاہدہ پہلا موقع ہوگا کیونکہ 1970 ء میں مکرم جاہ بہادر (Nizam Mir Barkat Ali Khan Siddiqi Mukarram Jah) کے والد نواب میر حمایت علی خان اعظم جاہ بہادر کے بعد کوئی تدفین عمل میں نہیں لائی گئی ۔نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کی تدفین مکہ مسجد میں عمل میں لائے جانے کا عمل موجودہ نسل کے لئے یادگار موقع ہوگا جس کے وہ شاہد رہیں گے کیونکہ طویل مدت کے بعد مکہ مسجد کے صحن میں موجود مقبرۂ آصفیہ میں کوئی تدفین عمل میں لائی جا رہی ہے۔ معمر شہریوں اور قدیم حیدرآبادی شہریوں کا کہناہے کہ مکرم جاہ بہادر کا جنازہ شہر کی تاریخ کا اس اعتبار سے بھی تاریخی جنازہ ہوگا کہ ان کے ننھیال ترکی میں انتقال کے بعد ان کی میت کو وصیت کے مطابق حیدرآباد لانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
جناب محمد عبدالقدیر صدیقی سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد نے بتایا کہ مکہ مسجد کے صحن میں موجود سلاطین آصفیہ کے مقبروں میں 53 برس بعد تدفین عمل میں لائی جا رہی ہے اسی لئے محکمہ اقلیتی بہبود کے علاوہ مکہ مسجد کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتظامات کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مکہ مسجد میں نماز جنازہ کے دوران بھاری تعداد میں شہریان حیدرآباد موجود رہیں گے اسی لئے محکمہ پولیس سے خصوصی انتظامات کی خواہش کی گئی ہے ۔ آصف سابع نواب میر عثمان علی خان کی نماز جنازہ بھی مکہ مسجد میں ادا کی گئی تھی لیکن ان کی تدفین مسجد جودی کنگ کوٹھی میں عمل میں آئی تھی۔



