بی آر ایس کی ریلی میں کے سی آر کا مرکز پر طنز: وہ سب کچھ بیچ رہے ہیں ، ہم اسے ’راشٹریہ کرن‘ کریں گے
انتقامی سیاست کی ایک نئی شروعات، بی جے پی جمہوریت کو تباہ کر رہی ہے: وجین
کھمم؍حیدرآباد، 17جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ کے سی ایم چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) نے کھمم میں اپنی پارٹی بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کی ریلی میں مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ وہ اگنی پتھ اسکیم کو منسوخ کر دیں گے۔میک ان انڈیا کو انڈیا میں ایک مذاق قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے ریلی میں کہا کہ اگنی پتھ اسکیم کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ ہم دوبارہ اسی طرح شروع کریں گے جس طرح پہلے ہندوستانی فوج میں بھرتی ہوئی تھی۔چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ اگر یہ لوگ ایل آئی سی کو پرائیویٹ ہاتھوں میں بیچ رہے ہیں ، ہم اسے قومیا لیں گے۔ وشاکھا اسٹیل پلانٹ کو کسی بھی صورت میں فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اگر اسے بھی بیچا گیا تو ہم اسے بھی قومیا ئیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دلت بندھو اسکیم کو پورے ملک میں لاگو کیا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ وہ خواتین کو 35 فیصد ریزرویشن دیں گے۔چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ کچھ سوالات مجھے پریشان کررہے ہیں۔ آج ہندوستانی سماج کا مقصد کیا ہے؟ کیا بھارت اپنا راستہ بھول گیا؟ یہ وہ سوال ہے جو مجھے کئی دنوں سے پریشان کر رہا ہے۔ملک کو کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں ورلڈ بینک، امریکہ یا کسی اور غیر ملکی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔
سی ایم کے سی آر نے کہا کہ لاکھوں کروڑوں کی جائیداد ہونے کے باوجود ہم دوسروں سے کیوں بھیک مانگتے ہیں؟ ہمارے پاس 50 فیصد سے زیادہ قابل کاشت زمین ہے۔ جہاں امریکہ کے پاس 29 فیصد اور چین کے پاس 16 فیصد ہیں۔ آبی وسائل اور انسانی وسائل کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا۔ ہم کسی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں لیکن ہمارے ساتھ دھوکہ کیا جا رہا ہے۔ بی آر ایس کے قیام کی بنیادی وجہ یہی ہے۔
انتقامی سیاست کی ایک نئی شروعات، بی جے پی جمہوریت کو تباہ کر رہی ہے: وجین
کھمم میں تلنگانہ کے سی ایم چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کی پارٹی بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کی عوامی ریلی میں کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ وہیں کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین نے بدھ (18 جنوری) کو کہا کہ آج ہم ایک نئی مزاحمت شروع کر رہے ہیں۔ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی جمہوریت کی بنیاد کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تمام مادری زبانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ہندی کو قومی زبان کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ہماری مادری زبانوں کو ختم کرکے ہندی کو مسلط کرنے سے ملک کی سا لمیت متاثر ہوگی۔یوپی کے سابق سی ایم اکھلیش یادو نے کھمم میں جلسہ عام میں کہا کہ بی جے پی کی ایگزیکٹو میٹنگ کل ختم ہوئی، انہوں نے کہا کہ 400 دن رہ گئے ہیں، ہم سمجھتے تھے کہ یہ وہ حکومت ہے جو دعویٰ کرتی تھی کہ اسے ہٹایا نہیں جائے گا، لیکن اب یہ خود قبول کر رہا ہے کہ اب اُس کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے محض 400 دن رہ گئے ہیں۔
اگر حکومت اپنے دن گننے لگے تو سمجھ لیں کہ یہ حکومت 400 دن کے بعد رکنے والی نہیں ہے۔سی ایم اروند کجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا بڑھتی ہوئی بیروزگاری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ 24 گھنٹے سوچتے ہیں کہ وزرائے اعلیٰ کو کیسے پریشان کیا جائے؟ وہ سوچتے ہیں کہ کسی بھی پارٹی کے ایم ایل اے یا ایم پی کو کیسے خریدا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ عوام کے پاس 2024 میں اس طاقت کو بدلنے کابہترین موقع ہے۔وہیںپنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے کہا کہ بھارتیہ جملہ پارٹی (بی جے پی) ملک کو گمراہ کر رہی ہے، وہ اپنی مکروہ سیاسی نظریات کے باعث سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔



