سرورققومی خبریں

این سی پی رہنما محمد فیضل کو ہائی کورٹ سے نہیں ملی راحت

لکشدیپ کے سابق ایم پی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) لیڈر پی پی محمد فیضل کو 10 سال کی سزا کے معاملے میں

تروواننت پورم ،20جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)لکشدیپ کے سابق ایم پی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) لیڈر پی پی محمد فیضل کو 10 سال کی سزا کے معاملے میں کیرالہ ہائی کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ محمد فیصل Mohammed Faizal کو لکشدیپ کی سیشن عدالت نے اقدام قتل کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔این سی پی لیڈر نے کیرالہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ انہیں سنائی گئی سزا پر روک لگائی جائے۔تاہم رپورٹ کے مطابق کیرالہ ہائی کورٹ نے اقدام قتل کیس میں لکش دیپ میں نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔

ہائی کورٹ پیر (23 جنوری) کو ایک بار پھر فیضل کی درخواست پر غور کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق اگر فیصلہ پر روک لگانے پر غور کیا جا رہا ہے تو مرکز نے دلائل داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔خیال رہے کہ لکش دیپ کی نچلی عدالت سے 10 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد این سی پی لیڈر فیضل نے بھی پارلیمنٹ کی رکنیت کھو دی ہے۔ لوک سبھا سکریٹری جنرل نے انہیں پارلیمنٹ سے نااہل قرار دے دیا تھا۔ نتیجے کے طور پرالیکشن کمیشن نے خالی لوک سبھا سیٹ (لکش دیپ حلقہ) کو پر کرنے کے لیے ضمنی انتخاب کا اعلان کیا تھا، جو 27 فروری کو منعقد ہوگا۔

این سی پی لیڈر محمد فضل نے بھی ضمنی انتخابات کرانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر روک لگانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ 27 جنوری کو سپریم کورٹ این سی پی لیڈر کی درخواست پر غور کرے گی جس میں ضمنی انتخابات پر روک لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔خیال رہے کہ 2009 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران کانگریس کے آنجہانی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی ایم سعید کے داماد محمد صالح کے قتل کی کوشش کا مجرم پائے جانے کے بعد محمد فیصل سمیت چار لوگوں کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button