
رائے بریلی کی جیل میں بند قیدی کی مشتبہ حالت میں موت، انکاؤنٹر میں ہو ا تھا گرفتار
اعجاز کو مئی میں ایک انکاؤنٹر میں ٹانگ میں گولی لگی تھی۔
رائے بریلی؍لکھنؤ،20جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) رائے بریلی کی جیل میں ایک قیدی کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی۔ مقتول قیدی کو رواں سال مئی کے مہینے میں ایک انکاؤنٹر کے دوران گولی لگی تھی جس کے بعد انفیکشن کے بعد اس کی ٹانگ کاٹنا پڑی تھی۔ پولیس نے متوفی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ جیل میں بند قیدی ڈکیتی، اقدام قتل وغیرہ کے مقدمات میں ڈسٹرکٹ جیل میں قید تھا۔فتح پور ضلع کے رہائشی اعجاز کو مئی میں ایک انکاؤنٹر میں ٹانگ میں گولی لگی تھی۔ پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد اعجاز کو جیل بھیج دیا اور دوران علاج اعجاز کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی تھی۔ قیدی اعجاز کی طبیعت جمعرات کو اچانک بگڑ گئی جسے اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔ دوسری جانب اعجاز کی موت کی اطلاع ملتے ہی اہلیہ سمیت دیگر افراد موقع پر پہنچ گئے ۔
بتایا جاتا ہے کہ اعجاز ایک بدنام زمانہ مجرم تھا اور اس کے خلاف ڈکیتی، چھینا جھپٹی، اقدام قتل جیسے سنگین جرائم کے مقدمات درج تھے۔ وہ چین اسنیچنگ سمیت کئی وارداتوں کو انجام دے چکاتھا۔ اعجاز نے رائے بریلی ضلع میں بھی نصف درجن سے زیادہ چین اسنیچنگ کی وارداتیں انجام دی ہیں۔ جس میں پولیس مڈبھیڑ میں اس کا پولیس سے انکاؤنٹر ہوا اور اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔اس معاملہ کی جانکاری دیتے ہوئے رائے بریلی ڈسٹرکٹ جیل کے جیلر ستیہ پرکاش نے بتایا کہ ایک زیر سماعت قیدی اعجاز عرف راہل عرف جاوید، جس کی عمر تقریباً 46 سال تھی، ڈکیتی اور قتل کی کوشش کے 13 مقدمات میں ڈکیتی اور قتل کے غنڈوں کے پولس انکاؤنٹر، ڈسٹرکٹ جیل رائے بریلی 26 مئی 2022 سے بند تھا۔ وہ جیل ہسپتال میں ہی داخل تھے اور ان کا علاج چل رہا تھا۔ 23 جنوری 2023 کو صبح ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں ضلع اسپتال بھیجا گیا، ضلع اسپتال میں صبح ان کی موت ہوگئی۔ جبکہ پنچنامہ اور پوسٹ مارٹم کی کارروائی کی جا رہی ہے۔



