روئی کے پودے کے طبی فوائد-ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور
کپاس مشہور چیز ہے ۔جب اس سے اس کے بیج چرخی کے ذریعے الگ کردیئے جاتے ہیں تو بیج بنولے اور باقی چیز روئی کہلاتی ہے
کپاس مشہور چیز ہے ۔جب اس سے اس کے بیج چرخی کے ذریعے الگ کردیئے جاتے ہیں تو بیج بنولے اور باقی چیز روئی کہلاتی ہے جس کے ریشوں سے سوت کاتا جاتا ہے۔ ہم اس سے اپنے کپڑے بناتے ہیں جو ہم کو گرمی اور سردی سے محفوظ رکھتے ہیں ۔ لیکن اس کا پودا کئی طبی فائدے بھی رکھتا ہے۔ کپاس کے پھول پیلے رنگ کے خوشنما ہوتے ہیں ۔ دل کو طاقت دیتے ہیں ، جنون اور وسواس (دل میں آنے والے برے خیالات )کو دور کرتے ہیں ۔
پانچ سات پھول رات کو آدھ پائو پانی میں بھگور کھیں ۔ صبح کو پانی چھان کر اور تھوڑی مصری ملا کر پئیں۔ کپاس کے پھولوں کا شربت اس فائدے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ طریقہ یہ ہے کہ50 گرام پھول تروتازہ لے کر رات کو ایک کلوپانی میںبھگورکھیں ۔ صبح ہلکا سا جوش دے کر چھان لیں۔ اب اس میں ایک کلو چینی ملاکر شربت کا قوام بنائیں۔یہ شربت 50 گرام صبح وشام پانی میں ملاکر پئیں۔
کپاس کے ڈوڈے اور جڑ
کپاس کے پھل سے روئی نکالنے کے بعد جو چھلکا باقی رہ جاتا ہے وہ ’’کپاس ڈوڈہ کہلاتا ہے ۔ یہ ڈوڈے کئی بیماریوں میں کام آتے ہیں۔
نمبر۱:۔ کپاس کے بیج جوبنولے کہلاتے ہیں گائے بھینسوں کو دوھ گھی بڑھانے کے لئے کھلائے جاتے ہیں بنولیوں کی گری انسان کے لئے بھی مفید ہے۔ یہ بدن کو طاقت دیتی او رموٹا کرتی ہے۔
نمبر ۲:۔ روزانہ20 گرام بنولے کی گری دودھ میں پیس کر آگ پر پکائیں او رکھانڈ یا مصری سے میٹھا کرکے برابر تین چار ہفتے تک کھائیں ۔ بہت اچھی مقوی دوا ہے۔
نمبر ۳:۔ بنولوں کی گری جانوروں کا ہی دودھ نہیں بڑھاتی بلکہ دودھ پلانے والی مائوں کا دودھ بھی بڑھاتی ہے۔ چند دنوں تک بنولوں کی گری کا سفوف کھانے سے دودھ خوب بڑھ جاتا ہے۔ اس کو بچوں کی پیدائش کے بعد ہی سے شروع کردینا چاہئے۔ یہ سفوف کسی قسم کا نقصان نہیں کرتا اور بچے کو دودھ پلانے کی وجہ سے ماں میں کوئی کمزور پیدا نہیں ہوتی۔
نمبر۴:۔بنولہ مرض ذیابیطس کی ابتداء میں بہت ہی مفید ہے۔ مغزبنولہ10 گرام کو کوٹ کر رات کو پانی میں بھگو کر صبح کو مل کر چھان کر پئیں۔ بنولہ قطرہ قطرہ پیشاب آنے میں بھی مفید ہے۔
نمبر۵:۔مغز بنولہ افیون کا تریاق ہے(اتار ہے ) افیون کا زہر اتارنے میں کوئی دوسری دوا شاید ہی اس کا مقابلہ کرسکے۔ نازک حالات میں کام دیتا ہے۔ دیہاتوں میں ایسے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں ۔ اگر کسی کو افیون زیادہ کھلادی جائے اور اس کی زہریلی علامتیں ظاہر ہوجائیں تو فوراً بنولہ کی گری 10 گرام پانی میںپیس چھان کر پلائیں۔ ایک دو بار کے پلانے سے زہریلی علامتیں دور ہوجائیں گی۔ اور اس کے بعد دو تین روز اور استعمال کرنے سے بالکل صحت یاب ہوجائے گا۔ اور افیون کا کوئی اثر باقی نہیں رہے گا۔
نمبر۶:۔کوئی بڑی عمر کا آدمی غلطی سے افیون کھالے یا کوئی کھلادے تو 30 گرام بنولے کی گری پانی میں پیس چھان کر پلانے سے اس کا اثر دور ہوجائے گا اور اگر افیون کھانے سے صحت پر کوئی اثر قائم رہ جائے تو وہ بھی چند روز تک بنولے کی گری پلاتے رہنے سے جاتا رہتا ہے۔
نمبر۷:۔کپاس کاپودا دھتورے کا بھی تریاق ہے ۔ اگر دھتورے کے پتے کھلائے گئے ہوں تو کپاس کے پتے اور بیج پانی میں پیس چھان کر پلانے سے ان کا زہر دور ہوجاتا ہے۔
نمبر۸:۔اگر معمولی چوٹ لگنے یا چاقو چھری سے کٹنے سے خون جاری ہو تو روئی یا روئی کا کپڑا جلا کر اس کی راکھ زخم پر ڈال کر دبادینے سے خون کا بہنا رک جاتا ہے اور زخم جلد ہی سوکھ جاتا ہے۔
نمبر۹:۔پھولوں کا شربت مالیخولیا میں مفید ہے۔تین گنی شکر کے ساتھ حسب دستور شربت تیار کریں اور مالیخولیا کے مریض کو صبح وشام 30 گرام پلائیں۔
نمبر۱۰:۔پتوں کا رس پیچش میں نہایت مفید ہے۔ او رپیشاب میں جلن کو دور کرتا ہے۔ مرگی کی بیماری میں بنولے نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ بنولے کے تیل کو دودھ میں حل کرکے پلانے سے سانپ کا زہر اتر جاتا ہے۔
نمبر۱۱:۔پتوں کے جو شاندے کو بخار اور دستوں کی بیماری میں طاقت بحال رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔بنولہ گردوں کو قوی اور گرم کرتا ہے۔ بنولے مقوی اعصاب بھی سمجھے جاتے ہیں ۔ ضعف اعصاب کی وجہ سے اگر سر میں درد رہتا ہو تو بنولے کی گری کھانے سے جاتا رہتا ہے۔
نمبر ۱۲:۔ جن نوجوانوں کو مستقل پیشاب میں قطرے کی شکایت رہتی ہے بنولہ ان کے لئے بڑی نعمت ہے بنولہ کے مغز کو باریک سفوف بنالیں اور صبح و شام ایک ایک چمچ نیم گرم دودھ سے استعمال کریں چند ماہ کے استعمال سے انشاء اللہ افاقہ ہوگا۔



