تلنگانہ کی خبریں

اردو اکیڈیمی سے چار برس میں 37 کروڑ 77 لاکھ روپئے خرچ کی تحقیقات ضروری

شادی خانوں و اردو گھر پر خطیر رقومات خرچ کا ادعا ۔ عمارات کہاں ہیں کسی کو پتہ نہیں

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) محکمہ اقلیتی بہبود سے تلنگانہ اردو اکیڈیمی کیلئے مالی سال 2019 سے 2022-23 تک مجموعی اعتبار سے101 کروڑ 27 لاکھ روپئے منظور کئے گئے اور اس میں جملہ 61 کروڑ 96 لاکھ کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے اور اکیڈیمی کے اعدادو شمار کا جائزہ لیں تو اکیڈیمی نے 4 برسوں میں37 کروڑ 77 لاکھ روپئے خرچ کئے ہیں لیکن یہ رقومات کہاں خرچ کی گئیں اس کی تحقیقات ضروری ہیں کیونکہ حکومت کو فراہم تفصیلات میں اردو اکیڈیمی حکام نے جو تفصیلات پیش کی ہیں ان کے مطابق مالی سال 2022-23 میں اردو کے تحفظ و ترویج کیلئے 4 کروڑ 27 لاکھ روپئے منظور کئے گئے اور اس میں 2کروڑ 13 لاکھ روپئے جاری کئے جاچکے ہیں لیکن اکیڈیمی نے محض 69 لاکھ 25 ہزار روپئے اس مد میں خرچ کئے ہیں۔

محکمہ اقلیتی بہبود کے مطابق اردو گھر کم شادی خانہ اسکیم پر عمل کیلئے حکومت سے 26 کروڑ 33 لاکھ روپئے جاریہ مالی سال میںمختص کئے گئے جن میں 25 کروڑ 5 لاکھ روپئے جاری کئے جاچکے ہیں لیکن یہ رقومات کہاں خرچ کی جا رہی ہیں اس سے سوائے اردو اکیڈیمی کے مخصوص عہدیداروں کے کوئی اور واقف نہیں ہیں ۔ گذشتہ 4 برسوں میں اکیڈیمی کے ذریعہ خرچ کئے گئے 37کروڑ 77 لاکھ میں 32 کروڑ 7 لاکھ روپئے اردو گھر کم شادی خانہ اسکیم میں خرچ کئے گئے ہیں جن کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ آخر یہ رقومات کہاں خرچ کی جا رہی ہیں؟

محکمہ اقلیتی بہبود کو یہ اعداد و شمار اردو اکیڈیمی کی جانب سے ہی پیش کئے گئے ہیں لیکن ان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ کن اردو گھر اور شادی خانوں کیلئے یہ رقومات خرچ کی جا رہی ہیں؟ حکومت نے 4برسوں میں اردو گھر کم شادی خانہ کیلئے 54 کروڑ 81 لاکھ روپئے مختص کئے ہیں ۔ جبکہ اس مدت کے دوران 17 کروڑ 81 لاکھ روپئے اردو زبان کی ترقی و ترویج کیلئے مختص کئے گئے ہیں لیکن اگر اس مد میں خرچ کا جائزہ لیا جائے تو 4 برس میں محض 5 کروڑ 69 لاکھ 25 ہزار روپئے خرچ کئے گئے ۔ اس کے برخلاف اردو گھر کم شادی خانہ اسکیم میں 32 کروڑ 7لاکھ روپئے خرچ کئے جاچکے ہیں ۔

کیوں اردو اکیڈیمی کو اردو کی ترقی و ترویج سے زیادہ اردو گھر کم شادی خانہ اسکیم میں دلچسپی ہے اور یہ کہاں بنائے جا رہے ہیں!کیوں اتنی بھاری رقومات شادی خانوں کے نام پر خرچ کی جارہی ہیں جن کا وجود ہی نہ کے برابر ہے؟ محکمہ اقلیتی بہبود سے ہی ریاست کے ہر ضلع میں’منی حج ہاؤز‘ کے نام پر عمارتوں کے قیام کو منظوری دی جا رہی ہے اور اگر تمام اضلاع میں یہ اردو گھر کم شادی خانے موجود ہیں تو پھر منی حج ہاؤز کا استعمال کیا ہوگا اور اکیڈیمی کی جانب سے کروڑہا روپئے جن شادی خانوں اور اردو گھر کے نام پر خرچ کئے جا رہے ہیں وہ عمارتیں کہاں اور کس حالت میں ہیں!اردو اکیڈیمی کے ذریعہ خرچ ہونے والے مکمل بجٹ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ناگزیر ہیں کیونکہ یہ بات سب پر واضح ہے کہ اس بجٹ میں کون کون حصہ دار ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button