صحت اور سائنس کی دنیا

کیا آپ جانتے ہیں-چکن گنیا کی علامات اور احتیاطی تدابیر-سائرہ شاہد

وائرس جسکا نام چکن گنیا ہے

ایک نیا وائرس جسکا نام چکن گنیا ہے۔افریقہ سے آنے والا یہ کوئی نیا وائرس نہیں ہے۔یہ وائرس پہلی دفعہ 1959 میں تنزانیہ میں ڈائیگنوس ہواتھا اور 2007 تک فرانس تک پھیل چکا تھا۔ مشرق میں اس وائرس کی تشخیص ایک دہائی قبل ہوئی ہے۔ ڈینگی کی طرح یہ وائرس بھی مچھر کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔اس میں پلیٹلیٹس کاؤنٹ کم نہیں ہوتے بلکہ یہ وائرس جسم سے سوڈیم اور پوٹاشیم کم کردیتا ہے۔جوڑوں میں شدید درد کے باعث انسان ٹھیک طرح سے بیٹھ بھی نہیں پاتا اسی لئے اسکا نام چکن گونیا ہے۔

احتیاط اور علاج کے ذریعے وقت کے ساتھ یہ وائرس ٹھیک ہوجاتا ہے۔ چکن گونیا کا شکار ہونے والوں میں بچے اور بڑے سب ہی شامل ہیں۔ اس وائرس کی کوئی ویکسین نہیں ہے۔بخار سے نہ گھبرائیں جب بھی جسم میں اینٹی باڈیز بنتی ہیں تو بخار چڑھتاہے۔اور بیکٹیریاکا خاتمہ کرتا ہے۔ بس ہمت کے ساتھ اسکا علاج کریں۔

چکن گنیا کی علامات

104 درجہ حرارت تک بخار ہونا۔

سر میں شدید درد۔

متلی اور تھکاوٹ کا ہونا۔

جسم پر خارش اور سرخ نشانات۔

ایک وقت میں جسم کے دسیوں جوڑوں میں درد۔ =ہتھیلیوں میں جلن اور تکلیف۔

منہ میں چھالے۔

احتیاطی تدابیر

سب سے پہلے تو اپنے گھر اور اطراف کو مچھروں سے پاک کریں۔ کیونکہ یہ بیماری صرف مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔

جسم کو کپڑوں سے ڈھانپ کررکھیں۔پوری آستین کی شرٹ اور پاجامے پہنیں۔=مچھروں سے بچاؤ کے لئے لیموں کا رس اپنے ہاتھ پیروں پر لگائیں لیموں کی خوشبوسے مچھر آپ کے نزدیک نہیں آئے گا۔=گھر میں تلسی کا پودا لگائیں اس سے مچھر نہیں آتے۔

نیم کا پودا یا نیم کے پتے بھی آپ اپنے گھر میں رکھیں۔=ہر ماہ صبح نہار منہ تین دن تک ایک چمچ شہد پانی میں ملاکر پی لیں اس سے کوئی بڑی بیماری لاحق نہیں ہوگی۔اسکے استعمال سے تمام بیکٹیریا دور ہوجاتے ہیں۔

کسی بھی علامت کی صورت میں معالج سے کریں۔

علاج کے طریقے

کسی بھی علامت کے ظاہر ہونے کی صورت میں آپ سب سے پہلے ڈاکٹر کے پاس ضرور جائیں لیکن ساتھ ساتھ ذیل میں بیان گھریلو طریقوں پر عمل کرکے آپ اپنی تکلیف میں کمی لاسکتے ہیں۔

حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں۔

دن بھر خوب پانی پئیں۔ ساگودانہ استعمال کریں۔سیب کے جوس میں لیموں ملاکر پئیں۔

رات کی رانی کے سات پتے اور سات کالی مرچ دو کپ پانی میں اتنا پکالیں کہ آدھا رہ جائے۔چھان کر رکھ لیں۔ہر آدھے گھنٹے بعد آدھا چمچ پی لیں۔

بچوں کو بخار ہونے کی صورت میں منقہ اور عناب سات سات دانے اور خاکسیر اور بہی دانہ ایک ایک چمچ لے کر ایک گلاس پانی میں پکاکر چھان کر رکھ لیں۔اور ہر تھوڑی دیر میں تھوڑا تھوڑا پلاتے رہیں۔

سرنجان شیریں، اسگند، کرنجوا اور خاکسیر پیس کر رکھ لیں۔بچوں کو ایک چوتھائی اور بڑوں کو آدھاچمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ دیں۔بخار بھی اترے گا اور جوڑوں کے درد میں بھی کمی آئے گی۔

درد کی صورت میں کیسٹر آئل میں تھوڑا سا لیونڈر آئل اور دار چینی کاپاؤڈر ملاکر مساج کریں۔اور کپڑا لپیٹ لیں۔جوڑوں کے درد میں آرام آئے گا۔

بخار کی صورت میں پانچ دانے منقہ کے بیج نکال کر اسمیں خاکسیر بھر کر توے پر ہلکا ساسینک کر کھلادیں۔خاکسیر سے بخار اتر جاتاہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button