سرورققومی خبریں

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں شامل مبینہ مشتبہ شہزاد دورانِ علاج فوت

ر انڈین مجاہدین کے شہزاد احمد کی ہفتہ کو دہلی کے ایمس میں علاج کے دوران موت ہو گئی

نئی دہلی ، 28جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)میڈیا رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر انڈین مجاہدین کے شہزاد احمد کی ہفتہ کو دہلی کے ایمس میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔جاں بحق مشتبہ شخص شہزاد احمد کو 2008 کے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں دہلی پولیس کے انسپکٹر موہن چند شرما کو ہلاک کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ جیل اہلکار کے مطابق شہزاد کو دیگر افسران پر حملہ کرنے کا بھی مجرم قرار دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ بٹلہ ہاؤس کیس میںعریز خان کو پہلے ہی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ دہلی کی ساکیت عدالت نے 2008 کے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں انسپکٹر موہن چند شرما کے قتل کے الزام میں مارچ 2021 میں عارض خان کو موت کی سزا سنائی تھی۔ سزا سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ یہ عمل نایاب جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا مناسب ہے۔

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے افسر موہن چند شرما جنوبی دہلی کے جامعہ نگر کے بٹلہ ہاؤس میں پولیس اور مبینہ دہشت گردوں کے درمیان تصادم میں مارے گئے۔ اس سے قبل دہلی میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں 39 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور 159 افراد زخمی ہوئے تھے۔بٹلہ ہاؤس میں ان بم دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر شرما 19 ستمبر 2008 کو اپنی قیادت میں سات رکنی ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچے تھے، جس کے بعد انکاؤنٹر ہوا، جس میں انہیں گولی لگی اور وہ فوت کرگئے تھے۔ انہیں بعد از مرگ اشوک چکر سے نوازا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے پس منظر میں مسلمانوں کی طرف سے سخت احتجاج کیاگیا تھا، اس انکاؤنٹر کو فرضی انکاؤنٹر بتاتے ہوئے درست تفتیش کی مانگ کی تھی۔جن کا انکاؤنٹر کیا گیا تھا، وہ طالب علم بتائے جاتے ہیں ، وہ آبائی طور پر اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے، اور جامعہ نگر کے مشہور مسلم اکثریتی آبادی والا علاقہ بٹلہ ہاؤس میں کرایہ کا کمرہ لے کر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرر ہے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button