بین ریاستی خبریں

کیا مغل گارڈن کا نام تبدیل کرنے سے ملکی مسائل حل ہو جائیں گے؟ مایاوتی کا حکومت سے سوال

بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے مرکزی حکومت سے سوال کیا ہے کہ کیا

لکھنؤ ، 29جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے مرکزی حکومت سے سوال کیا ہے کہ کیا راشٹرپتی بھون میں واقع مشہور ’Mughal Garden‘ کا نام تبدیل کرنے دینے سے ملک کے کروڑ ہا شہریوں کے مسائل دور ہو جائیں گے، اگر ایسا نہیں ہے تو اسے حکومت کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہی قرار دیا جائے گا۔ مایاوتی نے اس کے علاوہ ’’پٹھان ‘فلم پر تنازعہ اور رام چرت مانس پر بیان بازی کے سلسلہ میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔نفرت انگیز تقاریر اور پٹھان فلم کے بائیکاٹ پر ردعمل دیتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ مٹھی بھر لوگوں کو چھوڑ کر ملک کی پوری آبادی زبردست مہنگائی، غریبی اور بے روزگاری وغیرہ کی تناؤ بھری زندگی سے پریشان ہے۔

ان کو حل کرنے پر توجہ دینے کے بجائے تبدیلی مذہب، بائیکاٹ اور نفرت انگیز تقاریر وغیرہ کے ذریعے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش انتہائی غیر منصفانہ اور افسوسناک ہے۔مغل گارڈن کا نام تبدیل کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ تازہ ترین پیش رفت میں راشٹرپتی بھون کے مشہور مغل گارڈن کا نام تبدیل کرنے سے کیا ملک اور یہاں کے کروڑوں لوگوں کی روز بروز سلگتی ہوئی پریشانیوں کو حل کیا جا سکے گا؟

ورنہ پھر عوام بھی اسے حکومت کی اپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہی سمجھیں گے۔خیال رہے کہ راشٹرپتی بھون کا مشہور مغل گارڈن اب امرت ادیان کے نام سے جانا جائے گا۔ یہ اطلاع ہفتہ کو جاری ایک سرکاری بیان میں دی گئی۔ صدر کی ڈپٹی پریس سکریٹری نویکا گپتا نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کی صدر دروپدی مرمو آزادی کے امرت مہوتسو کے دوران راشٹرپتی بھون کے باغات کو ایک مشترکہ نام ’امرت ادیان‘ دینے پر خوش ہیں۔ قبل ازیں، دہلی کے مشہور راج پتھ کا نام تبدیل کر کے کرتویہ پتھ کیا گیا تھا۔مغل گارڈن سال میں ایک بار عوام کے لیے کھولا جاتا ہے اور لوگ 31 جنوری سے اس باغ کو دیکھنے جا سکتے ہیں۔ باغات 31 جنوری 2023 کو عام لوگوں کے لیے کھولے جائیں گے اور 26 مارچ 2023 تک کھلے رہیں گے جب کہ یہ ہر پیر کو بند رہے گا، نیز یہ باغ 8 مارچ کو ہولی کے موقع پر بند رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button