مجربات رحیمی,اسبغول اینٹی بایوٹک دانے-ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور
اسبغول سفید کچھ گلابی سے چھوٹے چھوٹے بیج ہوتے ہیں جنہیں بھگونے یا منہ میں کچھ دیر رکھنے سے لعاب پیدا ہوجاتا ہے۔
اسبغول isabgol سفید کچھ گلابی سے چھوٹے چھوٹے بیج ہوتے ہیں جنہیں بھگونے یا منہ میں کچھ دیر رکھنے سے لعاب پیدا ہوجاتا ہے۔ ان دانوں کے اوپر سے باریک سفید چھلکا الگ کرلیا جاتا ہے۔ وہ ’’سبوس اسبغول ‘‘ یعنی اسبغول کی بھوسی کہلاتا ہے۔ یہ بھی لعاب دار ہوتا ہے۔اسبغول کا لعاب نکال کر پینا تیز بخار کی گرمی اور پیاس کو کم کرتا ہے ۔ پیچش میں استعمال کرانے سے فائدہ دیتا ہے۔ آنتوں کی خشکی سے قبض کی شکایت ہو تو اس کو دور کرتا ہے۔ پیچش کی شکایت ہو تو اس کو بھی دور کرتا ہے۔
پیچش کو دور کرنے کے لئے ایک تولہ اسبغول آدھ پائو دہی میں ملاکر رکھ چھوڑیںایک گھنٹے کے بعد کھائیں ۔ غذا میںمونگ کی دال کی کھچڑی استعمال کریں۔ دو تین روز کے استعمال سے پیچش جاتی رہے گی۔ پرانا قبض جو آنتوں کی خشکی سے ہوتا ہے اس کو دور کرنے کے لئے ایک تولہ اسبغول، دودھ 200 گرام کے ساتھ پھانکیں ۔
اسبغول isabgol کی بھوسی تین گرام دودھ یا پانی کے ساتھ پھانکنے سے بھی قبض دور ہوجاتا ہے۔ خشک کھانسی اور دمے کے لئے بھی اسبغول نہایت مفید ہے۔ روزانہ پانچ گرام اسبغول دودھ یا پانی کے ساتھ کم از کم چالیس دن تک پھانکتے رہیں ۔کھانسی جاتی رہے گی۔کولیسٹرول اور وزن کم کرنے کے لئے بھی یہ اکسیر ہے۔
بسہری، یہ انگلی کا ورم ہے۔ اس کو انگل بیڑا اور چند را بھی کہتے ہیں یہ ورم عموماً ہاتھ کی کسی انگلی یا انگوٹھے کے پوروے میں یا ان کی جڑ میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی میں درد اتنا سخت ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے مریض کے لئے کھانا پینا اور سونا حرام ہوجاتا ہے۔
ہر وقت ہائے ہائے کرتے گزرتی ہے۔ جو دوا بھی لگائی جاتی یا باندھی جاتی ہے ، فائدہ نہیں دیتی، بلکہ درد بڑھتاہی رہتا ہے۔ اس کے لئے اسبغول نہایت مفید دو ا ثابت ہوا ہے جب اس مرض کو دو تین دن ہوجائیں اور کسی طرح فائدے کی صورت نظر نہ آئے تو اسبغول 10 گرام لے کر تقریباً 50 گرام پانی میں دس منٹ تک بھگورکھیں۔ اس کے بعد انگلی پر پانی میں بھیگے ہوئے اسبغول کا لیپ چڑھادیں۔ یہاں تک کہ انگلی پر اچھی خاصی تہہ چڑھ جائے۔
اس کے بعد اس پر تھوڑا تھوڑا پانی ٹپکاتے رہیں ۔ چھے گھنٹے کے بعد دوسرا اسبغول پانی میں بگھورکھیں، اسبغول کے پہلے لیپ کو اتارکر فوراً دوسرا لیپ چڑھادیں ا ور اس پر بھی اسی طر ح پانی ٹپکاتے رہیں۔ اس طرح چوبیس گھنٹے میں چاربار ایسا کریں۔
اس سے درد رک جائے گا اور ورم پک کر پھوٹ جائے گا۔ اس کے بعدزخم کا علاج کرنے کے لئے پہلے نیم کے پتے پیس کر ان کا گولا بناکر اوپرگیلا کپڑا اور مٹی لگا کر آگ پر پکائیں پھر آگ سے نکال کر کپڑا اور مٹی الگ کرکے یہ بھرتا ہلکا گرم کرکے باندھیں۔
چند روز باندھنے سے تمام پیپ نکل کر زخم صاف ہوجائے گا ۔ اب زخم کو خشک کرنے کیلئے کوئی مرہم استعمال کریں۔ سنبھالو کے پتے دس گرام لے کر پچاس گرام سرسوں کے تیل میں ڈال کر پکائیں ۔ یہاں تک کہ پتے جل جائیں۔ پھر ان کو گھوٹیں جب مرہم سابن جائے تو احتیاط سے رکھ چھوڑیں اور زخم پر روزانہ یہ مرہم لگائیں۔ اسبغول کی پلٹس گرم پھوڑوں کو پکادیتی ہے۔گرمی کی وجہ سے درد سر ہو تو اسبغول کو ہرے دھنیے کے پانی میں بھگو کر تھوڑی دیر کے بعد پیشانی پر لگانے سے درد سردود ہوجاتا ہے۔
اسبغول isabgol سے گرمی اور پیاس کو بھی تسکین ہوتی ہے ۔ پانی میں بھگوکر اور ذرا سی شکر ملا کرپئیں ۔ اسبغول خون کے جوش کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ سینے اور حلق کا کھرکھرا پن اس کے استعمال سے دور ہوجاتا ہے۔ پیٹ کی مروڑ اور آنتوں کے زخموں کے لئے مفید ہے۔ سرکہ اور روغن گل (گلاب کے پھولوں کے تیل ) کے ساتھ جوڑوں کے درد کو دور کرتا ہے ۔ اس غرض کے لئے پانی میں بھگوکر اس کا لیپ کریں۔ اسبغول کا لیپ ورموں کو گھلاتا ہے ۔ کنٹھ مالا (گلے کے غدودوں) کا ورم جاتا رہتا ہے۔ روغن گل کے ساتھ کھانے سے اسبغول دستوں کو روکتا ہے۔بواسیری خون کو روکتا اور نیچے کی آنتوں کی جلن کو جن میں بواسیری خون کا دبائو ہوتا ہے کم کرتا ہے ۔ اس کو کوٹ کر بدن پر ملنے سے بدن نرم اور موٹا ہوتا ہے۔
اسبغول کو کوٹ کر کھانا زہریلا اثر کرتا ہے۔ اس لئے اس کو چبانا اور کوٹ کر نہیں کھانا چاہئے ۔ کوٹ کر کھانے سے اگر زہریلا اثر کرے تو اس کا علاج یہ ہے کہ کسی قے لانے والی چیز سے قے کرائی جائے ۔ یہاں اسبغول کو کوٹ کر کھانا زہریلا اثر کرتا ہے۔ اس لئے اس کو چبانا اور کوٹ کر نہیں کھانا چاہئے ۔ کوٹ کر کھانے سے اگر زہریلا اثر کرے تو اس کا علاج یہ ہے کہ کسی قے لانے والی چیز سے قے کرائی جائے ۔ یہاں تک کہ سارا اسبغول قے کے ذریعے خارج ہوجائے۔



