یہ تو بتائیں پی ایم کا صنعتکار اڈانی سے باہمی رشتہ کیا ہے؟ : راہل گاندھی
راہل گاندھی کے پی ایم مودی پر اڈانی کو متعلق الزامات کی بوچھار
نئی دہلی ،7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے منگل (7 فروری) کو لوک سبھا میں اپنی تقریر کے دوران مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ راہل گاندھی نے اگنی ویر اسکیم، اڈانی کیس کو لے کر حکومت پر سخت نشانہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران ہم نے لوگوں کے تاثرات کو سنا اور اپنی بات بھی رکھی۔ ہم نے ’یاترا‘ کے دوران بچوں، خواتین، بزرگوں سے بات کی۔ راہل گاندھی نے مزید مودی سرکار سے سخت سوال کرتے ہوئے کہا جب ہم نے نوجوانوں سے ان کی نوکریوں کے بارے میں پوچھا تو بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ بے روزگار ہیں یا ٹیکسی چلاتے ہیں۔ کسانوں نے پی ایم انشورنس اسکیم کے تحت پیسے نہ ملنے کی بات کی، ان کی زمین چھین لی گئی، جب کہ آدی باسیوں نے آدی باسی بلوں کی بات کی۔راہل گاندھی نے کہا کہ لوگوں نے اگنی ویر اسکیم کے بارے میں بھی بات کی، لیکن نوجوانوں نے کہا کہ یہ ہمیں 4 سال بعد نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
ریٹائرڈ سینئر افسران نے کہا کہ اگنی ویر اسکیمآر ایس ایس، وزارت داخلہ سے آئی ہے ،فوج سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگنی ور اسکیم فوج پر مسلط کی جا رہی ہے۔ریٹائرڈ افسران نے کہا کہ لوگوں کو ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے اور پھر سماج میں واپس جانے کو کہا جا رہا ہے، اس سے بات بات پر تشدد بھڑکے گا۔ وہ (ریٹائرڈ افسران) محسوس کرتے ہیں کہ اگنی ور اسکیم فوج کی طرف سے نہیں آئی تھی اور این ایس اے اجیت ڈوول نے اس اسکیم کو فوج پر لاگو کیا تھا۔کانگریس ایم پی نے مزید کہا کہ صدرجمہوریہ کی تقریر میں بے روزگاری اور مہنگائی جیسے الفاظ نہیں تھے۔ تمل ناڈو، کیرالہ سے لے کر ہماچل پردیش تک، ہم ہر جگہ ایک ہی نام اڈانی سنتے رہے ہیں۔ پورے ملک میں صرف اڈانی اڈانی کا ہی شور تھا، لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ اڈانی کسی بھی کاروبار میں آتا ہے اور کبھی ناکام نہیں ہوتا ہے۔راہل گاندھی نے مزید کہا کہ نوجوانوں نے ہم سے پوچھا کہ اڈانی اب 8-10 شعبوں میں ہے اور 2014 سے 2022 تک اس کی مجموعی مالیت $8 بلین سے $140 بلین تک کیسے پہنچی۔
کشمیر اور ہماچل کے سیب سے لے کر بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور یہاں تک کہ جن سڑکوں پر ہم چلتے ہیں، ان تک صرف اڈانی کی بات کی جا رہی ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ یہ رشتہ کئی سال پہلے شروع ہوا جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ ایک شخص پی ایم مودی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا تھا، وہ پی ایم کا وفادار تھا اور پی ایم کا تعاون کرتا تھا۔ اصل جادو تب شروع ہوا جب پی ایم مودی 2014 میں دہلی پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اب اڈانی کے پاس دفاعی شعبے، ڈرون سیکٹر کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اڈانی نے کبھی ڈرون نہیں بنائے، لیکن HAL، ہندوستان میں دوسری کمپنیاں بناتی ہیں۔ اس کے باوجود پی ایم مودی اسرائیل جاتے ہیں اور اڈانی کو ٹھیکہ مل جاتا ہے۔ کانگریس ایم پی نے کہا کہ ایک اصول ہے کہ جس کے پاس ہوائی اڈوں کا سابقہ تجربہ نہیں ہے وہ ہوائی اڈوں کی ترقیات میں شامل نہیں ہو سکتا۔
حکومت ہند نے اس اصول کوبدل دیا ہے۔ اس اصول کو تبدیل کرتے ہوئے چھ ہوائی اڈے اڈانی کو دے دیئے گئے۔ اس کے بعد ہندوستان کے سب سے زیادہ منافع بخش ہوائی اڈے ممبئی کے ہوائی اڈے کو CBI، ED جیسی ایجنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے GVK سے ہائی جیک کر لیا گیا اور حکومت ہند نے اڈانی کو دے دیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کل پی ایم نے ایچ اے ایل میں کہا کہ ہم نے غلط الزامات لگائے، لیکن حقیقت میں ایچ اے ایل کے 126 طیاروں کا ٹھیکہ انل امبانی کو ملا ہے۔ پہلے اڈانی مودی کے جہاز میں جاتے تھے، اب مودی اڈانی کے جہاز میں جاتے ہیں۔ بورس جانسن کے بیٹے اور بھائی اڈانی کے لیے کام کرتے ہیں۔
اڈانی پی ایم کے ساتھ کتنی بار بیرون ملک گئے؟ یا اڈانی نے پی ایم سے بیرون ملک کتنی بار ملاقات کی؟ یا پی ایم کے بعد اڈانی کتنے ممالک گئے جہاں انہیں کنٹریکٹ ملا؟ ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی آسٹریلیا جاتے ہیں اور جادو سے ایس بی آئی نے اڈانی کو 1 بلین ڈالر کا لون دے دیا، پھر وہ بنگلہ دیش جاتے ہیں ، اور بنگلہ دیش پاور ڈیولپمنٹ بورڈ نے اڈانی کے ساتھ 25 سال کا معاہدہ کرتا ہے۔ راہل گاندھی نے ایوان میں گوتم اڈانی کی تصویر دکھائی، جس پر لوک سبھا اسپیکر نے اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصفانہ نہیں ہے۔



