تلنگانہ الیکشن: حکومت بننے پر تہذیب ِنظام سے وابستہ نشانات ہٹا دیں گے : بھاجپا ریاستی صدر
سنجے نے کہا کہ وہ انہیں چیلنج کرتے ہیں کہ وہ پرانی سڑکوں کے درمیان بنی ہوئی مساجد کو بھی ہٹائیں۔
حیدرآباد،10فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اس سال تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ دریں اثنا بی جے پی کے ریاستی صدر بندی سنجے کمار نے جمعہ (10) کو کے سی آر حکومت کو نشانہ بنایا۔بی جے پی لیڈر بندی سنجے کمار نے حیدرآباد میں کہاکہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو ہم نظام سے وابستہ ثقافتی شبیہ کو مٹاکر رہیں گے۔ حیدرآباد میں بننے والے نئے سکریٹریٹ کے گنبد کو تبدیل کرکے ہم اسے ایسا بنائیں گے کہ ہندوستان اور تلنگانہ کی ثقافت نظر آئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سکریٹریٹ میں بنے گنبد کو دیکھ کر اسد الدین اویسی خوش ہیں، کیونکہ یہ تاج محل جیسا لگتا ہے۔ حال ہی میں کمار نے اسی سکریٹریٹ میں آگ لگنے پروزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کی بھی تنقید کی تھی ۔چیف منسٹر کے سی آر کے اس بیان پر کہ حکومت سڑکوں کی توسیع کے لیے غیر قانونی مذہبی مقامات کو منہدم کرے گی۔
اس پر بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ وہ انہیں چیلنج کرتے ہیں کہ وہ پرانی سڑکوں کے درمیان بنی ہوئی مساجد کو بھی ہٹائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کو ریاست میں زبردست حمایت مل رہی ہے۔ آنے والے الیکشن میں کامیابی حاصل کریں گے۔بی جے پی لیڈر بندی سنجے کمار نے کہا کہ تلنگانہ کی 60 فیصد آمدنی حیدرآباد سے آتی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ کے سی آر بتائیں کہ یہاں کی ترقی میں کتنی رقم لگائی گئی ہے،مجھے خدشہ ہے کہ حکومت کرپشن کر رہی ہے۔واضح ہو کہ کمار حیدرآباد میں اس سال ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں ایک گلی کارنر میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔



