اڈانی امیروں کی فہرست میں پھسل کر 25 ویں مقام پر پہنچے،
اڈانی کو لگاتار جھٹکے لگ رہے ہیں۔
نئی دہلی ، 20فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی ریسرچ فرم ہنڈن برگ کی رپورٹ آنے کے بعد سے اڈانی گروپ کے جو برے دن شروع ہوئے اس کا اختتام دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اڈانی گروپ کو یکے بعد دیگرے کئی جھٹکے لگ رہے ہیں۔ کمپنی کے شیئرس میں بکوالی حاوی ہو گئی ہے۔ اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے شیئرس لگاتار گر رہے ہیں۔ شیئرس کی قیمت نصف رہ گئی ہے۔ گوتم اڈانی کی دولت بھی لگاتار کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کی دولت بھی گر کر 49 ارب ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔ 24 جنوری کو شارٹ سیلر کمپنی ہنڈن برگ کی رپورٹ سامنے آ ئی جس کے بعد سے اڈانی کو لگاتار جھٹکے لگ رہے ہیں۔
تقریباً ایک ماہ بعد اڈانی کا مارکیٹ کیپ 132 ارب ڈالر تک گر گیا ہے۔بلومبرگ بلینیرس انڈیکس کے مطابق ارب پتی گوتم اڈانی کی مجموعی ملکیت پیر کو 50 ارب ڈالر سے نیچے گر گئی۔ ان کی دولت اب 49.1 ارب ڈالر ہے۔ محض ایک مہینے پہلے صنعت کار اڈانی کی مجموعی ملکیت تقریباً 120 بلین ڈالر تھی، جس کی وجہ سے وہ دنیا کے تیسرے سب سے امیر شخص بن گئے، لیکن ہنڈن برگ ریسرچ کے ذریعہ اڈانی گروپ پر ایک رپورٹ آنے کے بعد اڈانی کی ملکیت میں تیزی سے گراوٹ درج کی گئی ہے۔
ہنڈن برگ کی رپورٹ آنے کے بعد سے ہی اڈانی گروپ کی سبھی کمپنیوں کے شیئرس میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ شیئر بازار میں زبردست ہلچل مچ گئی۔ اس کا اڈانی گروپ کی فہرست بند کمپنیوں کے مارکیٹ پرائس پر گہرا اثر پڑا۔ اتنا ہی نہیں، رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سے اب تک اڈانی گروپ کی سات اہم فرموں نے 120 بلین ڈالر کے جوائنٹ مارکیٹ ویلیو کو گنوا دیا ہے۔ حالانکہ اڈانی گروپ نے ہنڈن برگ کے ذریعہ لگائے گئے سبھی الزامات کو خارج کر دیا ہے۔کمپنی نے اس پر لمبی چوڑی صفائی بھی پیش کی تھی، لیکن بازار پر اس کا اثر دکھائی نہیں دیا اور گروپ کی کمپنیوں کے شیئرس میں گراوٹ کا دور جاری رہا۔ اس وجہ سے سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے درمیان فکر بڑھ گئی ہے۔



