
سپریم کورٹ کا ’شیوسینا‘ نام اور ’تیر-کمان‘ نشان پر اسٹے لگانے سے انکار، شندے گروپ کو نوٹس جاری
سپریم کورٹ نے ایکناتھ شنڈے دھڑے کو حقیقی شیوسینا کے طور پر تسلیم کرنے کے الیکشن کمیشن کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا
نئی دہلی ،22فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)انتخابی کمیشن کے ذریعہ ایکناتھ شندے گروپ کو اصلی شیوسینا کی شکل میں منظوری دینے کے خلاف ادھو ٹھاکرے گروپ کی عرضی پر سپریم کورٹ نے بدھ کے روز سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا، حالانکہ عدالت نے انتخابی کمیشن کے حکم کے خلاف ادھو کی عرضی پر ایکناتھ شندے گروپ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے شندے خیمہ سے عرضی پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے اور اس کے لیے انھیں دو ہفتہ کا وقت دیا ہے۔سپریم کورٹ کی چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی بنچ نے آج کہا کہ ہم کمیشن کے فیصلے پر روک نہیں لگا سکتے۔ اس کے لیے ہمیں دونوں فریقین کی دلیلوں کو سننا ہوگا۔
بغیر دلیل سنے روک نہیں لگائی جا سکتی۔ اس سے قبل سماعت کے دوران ادھو ٹھاکرے گروپ کی طرف سے سینئر وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ سے عارضی راحت کے لیے گزارش کی اور موجودہ حالات برقرار رکھنے کے لیے حکم جاری کرنے کی گزارش کی۔ کپل سبل نے منگل کے روز بھی سی جے آئی جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ کے سامنے عرضی پر فوری سماعت کی گزارش کی تھی جسے سپریم کورٹ نے منظور کر لیا تھا۔
واضح رہے کہ انتخابی کمیشن نے شندے گروپ کو اصلی شیوسینا قرار دیتے ہوئے پارٹی کے انتخابی نشان ’تیر-کمان‘ پر بھی ان کا ہی اختیار بتایا تھا۔ انتخابی کمیشن کے اس فیصلے پر ادھو گروپ نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا تھا کہ انتخابی کمیشن کا یہ فیصلہ درست نہیں ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا تھا کہ ان سے ان کا سب کچھ چرا لیا گیا۔
شیوسینا اور تیرکمان پر تنازع پر شردپورا نے کہا ،اٹل بہاری واجپائی کے دور میں ایسا کبھی نہیں ہوا

نئی دہلی،22فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کی سیاست میں ان دنوں ہنگامہ برپا ہے۔ شیوسینا کے نام اور انتخابی نشان کو لے کر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب اس معاملے پر این سی پی سربراہ شرد پوار کا بیان سامنے آیا ہے اور اس بار انہوں نے پی ایم نریندر مودی اور بی جے پی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نظریہ اور جماعت پورے ملک میں بھائی چارے کو تباہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے تو ملک کے ادارے پر ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ نریندر مودی کے دور حکومت میں ملک کے ادارے پر حملہ ہوا۔ آج کی حکومت دوسری سیاسی جماعتوں کو کام کرنے نہیں دینا چاہتی۔ الیکشن کمیشن کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی جماعت پر حملہ ہے۔
الیکشن کمیشن نے کبھی ایسا فیصلہ نہیں دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا ایسا فیصلہ پہلی بار دیکھا۔اس کے علاوہ شرد پوار نے کانگریس اور این سی پی کے درمیان لڑائی کو بھی یاد کیا اور کہا کہ شیو سینا کی تشکیل بالا صاحب ٹھاکرے نے کی تھی اور اس کا انتخابی نشان کمیشن نے کسی اور کو دیا تھا۔ میری بھی کانگریس سے لڑائی تھی۔ الیکشن کے حوالے سے پارٹی نشان، لیکن اس وقت الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بالا صاحب ٹھاکرے نے اپنے آخری دنوں میں کہا تھا کہ ان کے بعد شیوسینا کی ذمہ داری ادھو ٹھاکرے کو دی جائے گی۔



