سروگیسی اور ایکٹولائف
سروگیسی میں والدین کا اسپرم اور ایگ حاصل کرکے لیبارٹری میں ایمبریو بنایا جاتا ہے،
سروگیسی میں والدین کا اسپرم اور ایگ حاصل کرکے لیبارٹری میں ایمبریو بنایا جاتا ہے، پھر اسے کسی دوسری خاتون کے یوٹرس میں انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ایسی صورت میں بائیو لوجیکل والدین سروگیٹ مدر کے ساتھ معاہدہ طے کرتے ہیں جس میں بچے کی پیدائش تک بہت رقم اور سہولیات شامل ہوتی ہیں۔
لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس اس سے بھی بہت آگے بڑھ چکی ہے اب سروگیٹ مدرز کی بھی ضرورت نہیں رہی Ecto life کے مطابق بچے لیب میں پیدا کیے جائیں گے اور ایسی ہر لیب میں سینکڑوں آرٹیفیشل وومب ڈویلپ کی جائیں گی جو کہ سالانہ لاکھوں کی تعداد میں بچے پیدا کرسکیں گی۔
والدین کے گیمیٹس اس آرٹیفیشل وومب میں منتقل کر دیئے جائیں گے جہاں ایمبریو کو ماں کی وومب کی طرح ہی خوراک اور حفاظت مہیاہوگی، انفیکشنز اور دیگر بیماریوں کے چانس زیرو ہوجائیں گے کیونکہ اس کنٹرولڈ ماحول میں آلات کے ذریعے بچے کی دھڑکن، بلڈ سرکولیشن، آکسیجن کی فراہمی اور دیگر عوامل کو کنٹرول کیا جائے گا اور حیران کن بات یہ کہ اس سارے سسٹم کو کمپیوٹر ایپ کے ذریعے والدین کے موبائل سے جوڑ دیا جائے گا جہاں وہ براہ راست بچے کی گروتھ اور حرکات کو دیکھ سکیں گے اور اسکی تصویریں بنا سکیں گے،اور ہیڈ فون کے ذریعے اس ماحول میں پیدا ہونے والی آوازیں بھی سن سکیں گے۔
مزید یہ کہ بچہ گروتھ کے ساتھ ساتھ باہر کی آوازیں سننے کے قابل ہوجاتا ہے لہٰذا والدین اپنے موبائل کے ذریعے اس کو اپنی مرضی کا میوزک سنا سکیں گیاور اپنی آوازیں بھی سنا سکیں تاکہ بچے کو دنیا میں آنے کے بعد والدین کی آواز کی پہچان ہو، کہا جارہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ اضافہ ان ممالک کے لیے بہت فائدہ مند ہوگا جہاں آبادی بہت تیزی سے کم ہورہی ہے۔



